جنوبی ہندوستانی فلموں کے معروف اداکار وجے دیوراکونڈا نے ایک انٹرویو میں اپنی اور اداکارہ رشمیکا مندانا کی کام کرنے کی عادتوں کے درمیان فرق پر دلچسپ گفتگو کی ہے۔
EPAPER
Updated: October 15, 2026, 4:02 PM IST | Mumbai
جنوبی ہندوستانی فلموں کے معروف اداکار وجے دیوراکونڈا نے ایک انٹرویو میں اپنی اور اداکارہ رشمیکا مندانا کی کام کرنے کی عادتوں کے درمیان فرق پر دلچسپ گفتگو کی ہے۔
جنوبی ہندوستانی فلموں کے معروف اداکار وجے دیوراکونڈا نے ایک انٹرویو میں اپنی اور اداکارہ رشمیکا مندانا کی کام کرنے کی عادتوں کے درمیان فرق پر دلچسپ گفتگو کی ہے۔ وجے کے مطابق، رشمیکا مندانا کام ختم ہونے کے بعد خود کو پیشہ ورانہ مصروفیات سے الگ کرکے اپنی ذاتی زندگی پر توجہ دے سکتی ہیں، لیکن ان کے لیے ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔ اداکار کے اس بیان نے ان کی شخصیت، کام کے تئیں سنجیدگی اور فلمی مصروفیات سے جڑے رہنے کی عادت کو اجاگر کیا ہے۔
وجے دیوراکونڈا اور رشمیکا مندانا دونوں جنوبی ہندوستانی سنیما کے مقبول فنکار ہیں اور ان کی جوڑی کو مداحوں کی جانب سے خاصی پسند کیا جاتا ہے۔ دونوں کی فلمی وابستگی اور ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات سے متعلق خبریں اکثر توجہ حاصل کرتی ہیں۔ وجے کا یہ بیان بھی اسی لیے دلچسپی کا باعث بنا ہے کہ اس میں انہوں نے بتایا کہ مختلف فنکار کام اور ذاتی زندگی کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے کس طرح مختلف انداز اپناتے ہیں۔
وجے دیوراکونڈا نے یہ گفتگو اپنی آنے والی تیلگو تاریخی فلم ’’رنا بالی‘‘ کی ریلیز سے قبل کی ہے، جو ۱۶؍ اکتوبر کو سنیما گھروں میں پیش کی جائے گی۔ فلم کی ہدایت کاری راہل سنکرتیان نے کی ہے اور اس میں وجے ایک خیالی سردار سنگنمالا بوبلی رنا بالی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ کردار رائلسیما خطے کے تین تاریخی سرداروں کی داستانوں سے متاثر ہوکر تخلیق کیا گیا ہے۔ فلم کا پس منظر ۱۸۷۶ء سے ۱۸۷۸ء کے درمیان پڑنے والا عظیم مدراس قحط ہے، جس میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکمرانی، اس دور کی پالیسیاں اور عوام کی مشکلات کو دکھایا گیا ہے۔
وجے نے بتایا کہ جب ہدایت کار نے انہیں فلم کی کہانی سنائی تو وہ پہلے ہی تاریخ سے متعلق ایک پوڈکاسٹ سن رہے تھے، جس نے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہندوستان پر سیاسی کنٹرول کے اثرات کے بارے میں ان کی سمجھ کو مزید گہرا کیا۔ اداکار کے مطابق، انہیں اس بات پر حیرت ہوئی کہ ہندوستانی تاریخ کے کئی اہم واقعات اور ان کے نتائج کے بارے میں عام لوگوں کو زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ انہیں امید ہے کہ’’رنا بالی‘‘ ماضی کے ان پہلوؤں پر نئی گفتگو شروع کرنے میں مدد دے گی۔ فلم کی تاریخی بنیاد کو سمجھانے کے لیے اس کی ٹیم نے ’’نیور فارگیٹ‘‘ کے نام سے چار مختصر ویڈیوز پر مشتمل سلسلہ بھی جاری کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان میں ایک بار پھر ’ایل کلاسیکو‘، بارسلونا اور ریئل کے لیجنڈزمیں مقابلہ
وجے دیوراکونڈا نے فلم میں اپنے کردار کے لیے رائلسیما کے مخصوص تیلگو لہجے پر بھی خاص محنت کی۔ وہ اس سے پہلے زیادہ تر حیدرآبادی تلنگانہ لہجے میں گفتگو کرتے رہے ہیں، اس لیے نئے اندازِ گفتگو کو اپنانے کے لیے انہوں نے ایک ماہرِ تلفظ کی مدد لی۔ اداکار کے مطابق، شوٹنگ شروع ہونے سے تقریباً تین ماہ پہلے سے انہوں نے مکالموں کی مشق کے ساتھ گھڑ سواری کی تربیت بھی حاصل کی۔ ابتدا میں لہجے کو برقرار رکھنا شعوری کوشش تھی، لیکن تقریباً ایک ماہ کی شوٹنگ کے بعد انہیں اس انداز میں قدرتی طور پر مکالمے ادا کرنے میں آسانی ہونے لگی۔
دوسری جانب، وجے نے بتایا کہ رشمیکا مندانا کو اپنی سابقہ فلموں میں چتور کے تیلگو لہجے میں کام کرنے کا تجربہ حاصل تھا، اس لیے انہیں ’’رنا بالی‘‘ میں نسبتاً فائدہ ملا۔ تاہم، متعدد فلموں میں بیک وقت مصروف ہونے کی وجہ سے رشمیکا کو تیاری کے لیے زیادہ وقت نہیں مل سکا اور ڈبنگ کے دوران انہیں کچھ مکالموں کو مزید بہتر بنانے کے لیے محنت کرنا پڑی۔ وجے کے مطابق، رشمیکا کا انداز زیادہ فطری اور برجستہ ہے، جبکہ وہ خود فلم اور سنیما کے بارے میں مسلسل سوچتے رہتے ہیں۔
’’رنا بالی‘‘ وجے دیوراکونڈا اور رشمیکا مندانا کی شادی کے بعد پہلی فلم ہے جس میں دونوں ایک ساتھ پردے پر نظر آئیں گے۔ اس سے پہلے دونوں ’’گیتا گووندَم‘‘ اور’ ’ڈیئر کامریڈ‘ ‘جیسی فلموں میں ایک ساتھ کام کرچکے ہیں۔ وجے نے فلم کے ایک اہم منظر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ شوٹنگ کے پہلے دن رشمیکا دلہن کے لباس میں سیٹ پر آئیں تو وہ ان کی خوبصورتی کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکے۔ ہدایت کار نے دونوں کو ایک پرانی تصویر کی طرز پر منظر دوبارہ تخلیق کرنے کے لیے کہا تھا، جسے بعد میں فلم کی پہلی جھلک کے طور پر استعمال کیا گیا۔
وجے کے اس انٹرویو سے ان کی کام کے لیے غیر معمولی وابستگی، تاریخی کردار کی تیاری اور رشمیکا کے ساتھ پیشہ ورانہ تعلقات کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔ اداکار کے مطابق، رشمیکا کام سے الگ ہوکر ذاتی زندگی پر توجہ دے سکتی ہیں، لیکن وہ گھر پہنچنے کے بعد بھی فلموں کے بارے میں سوچتے اور گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ یہی فرق دونوں فنکاروں کے کام کرنے کے انداز کو منفرد بناتا ہے۔