کشمیر کے فٹبال اور انسانی جذبے کی کہانی پر مبنی ویب سیریز’’ریئل کشمیر فٹبال کلب‘‘ نے بین الاقوامی سطح پر اہم شناخت حاصل کرلی ہے۔انٹرنیشنل ایمی ایوارڈس ۲۰۲۶ءمیں اس سیریز کوڈراما سیریززمرے میں نامزد کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: September 25, 2026, 8:59 PM IST | New Delhi
کشمیر کے فٹبال اور انسانی جذبے کی کہانی پر مبنی ویب سیریز’’ریئل کشمیر فٹبال کلب‘‘ نے بین الاقوامی سطح پر اہم شناخت حاصل کرلی ہے۔انٹرنیشنل ایمی ایوارڈس ۲۰۲۶ءمیں اس سیریز کوڈراما سیریززمرے میں نامزد کیا گیا ہے۔
کشمیر کے فٹبال اور انسانی جذبے کی کہانی پر مبنی ویب سیریز’’ریئل کشمیر فٹبال کلب‘‘ نے بین الاقوامی سطح پر اہم شناخت حاصل کرلی ہے۔انٹرنیشنل ایمی ایوارڈس ۲۰۲۶ءمیں اس سیریز کوڈراما سیریززمرے میں نامزد کیا گیا ہے۔ نامزدگیوں کا اعلان ۲۳؍ ستمبر کو کیا گیا، جس کے بعد ہندوستانیتفریحی صنعت میں اس خبر کو اہم کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سیریز میں مانو کول اور محمد ذیشان ایوب نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔ ’’ریئل کشمیر فٹبال کلب‘‘ کو ڈراما سیریز کی کیٹیگری میں برطانیہ کی ’’A Thousand Blows‘‘، فرانس کی’’Carême‘‘ اور ارجنٹائناکی ’’Menem‘‘ کے ساتھ نامزد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اے آئی ضوابط کے مطالبے پر ٹرمپ کے حامیوں کی ڈاریو امودی پر تنقید تیز
’’ریئل کشمیر فٹبال کلب‘‘جموں و کشمیر کے پہلے پروفیشنل فٹبال کلب ریئل کشمیر ایف سی کی حقیقی کہانی سے متاثر ہے۔ سیریز فٹبال کے کھیل سے آگے بڑھ کر ان لوگوں کی جدوجہد، امید، دوستی اور کمیونٹی کے جذبے کو پیش کرتی ہے جو کشمیر میں ایک پروفیشنل فٹبال ٹیم قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کہانی میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح مشکل حالات کے باوجود فٹبال لوگوں کے درمیان امید، مواقع اور تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی انسانی پہلو کی وجہ سے سیریز کو محض ایک اسپورٹس ڈراماکے بجائے ایک وسیع انسانی کہانی کے طور پر بھی پیش کیا گیا ہے۔
’’ریئل کشمیر فٹبال کلب‘‘کی ہدایت کاری راجیش مَپُسکر اور مہیش ماتھائی نے کی ہے۔ سیریز کی کہانی اور اسکرپٹ پر سیماب ہاشمی، امنگ ویاس، دھرو نرنگ، دانش رینزو اور مہیش ماتھائی نے کام کیا ہے۔ اس پروجیکٹ کوجیا انٹرٹینمنٹ ، اوشون انٹرٹینمنٹ ، کیپٹل انٹرٹینمنٹ اور ایس کے گلوبل انٹر ٹینمنٹ نے پروڈیوس کیا ہے۔یہ سیریز دسمبر ۲۰۲۵ء میں سونی لیو پر ریلیز ہوئی تھی اور اس وقت بھی اسی پلیٹ فارم پر دستیاب ہے۔ نامزدگی پر اداکار مانو کول نے ٹیم کو مبارکباد دی۔ اس سے قبل سیریز کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ یہ کہانی ان کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ صرف فٹبال کی کہانی نہیں بلکہ خوابوں اور امیدوں کی کہانی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’اڑتا تیر‘‘ کا ٹریلر جاری، پاکستانی جاسوس کے کردار میں الجھے نظر آئے آیوشمان کھرانہ
محمد ذیشان ایوب نے بھی اس بین الاقوامی شناخت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہانی دوستی، یقین اور عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق اس کہانی میں لوگوں نے صرف ایک فٹبال کلب نہیں بنایا بلکہ بہت سے افراد کو دوبارہ امید رکھنے کی ایک وجہ دی۔ انہوں نے نامزدگی کے بعد امید ظاہر کی کہ عالمی سطح پر ملنے والی یہ شناخت کشمیر کی اس کہانی کو مزید لوگوں تک پہنچانے میں مدد دے گی۔