Inquilab Logo Happiest Places to Work

پرندے انسانوں کی جنس پہچانتے، خواتین سے دور بھاگتے: تحقیق

Updated: May 05, 2026, 12:59 PM IST | Prague

ایک نئی تحقیق کے مطابق شہری پرندے انسانوں کی جنس میں فرق محسوس کر سکتے ہیں اور خواتین کے قریب آنے پر مردوں کے مقابلے میں جلدی اڑ جاتے ہیں۔ چیک یونیورسٹی آف لائف سائنسز (پراگ) کی ماہر ماحولیات یانینا بیندیٹی کے مطابق یہ رویہ مختلف یورپی ممالک میں ۳۷؍ اقسام کے پرندوں میں دیکھا گیا۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری ماحول میں جانور انسانوں کے ساتھ پیچیدہ تعامل رکھتے ہیں، تاہم اس رویے کی اصل وجہ اب تک واضح نہیں ہو سکی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

یورپ کے مختلف شہروں میں کی گئی ایک دلچسپ سائنسی تحقیق نے یہ انکشاف کیا ہے کہ شہری پرندے نہ صرف انسانوں کی موجودگی کو محسوس کرتے ہیں بلکہ ان کی جنس میں بھی فرق کر سکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، پرندے خواتین کے قریب آنے پر مردوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اڑ جاتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ انسانی رویوں یا خصوصیات کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ تحقیق چیک یونیورسٹی آف لائف سائنسز (پراگ) سے وابستہ ماہرین نے کی، جس کی قیادت ماہر ماحولیات یانینا بیندیٹی نے کی۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ایک خاتون کے طور پر میدان میں کام کرتے ہوئے میں نے خود محسوس کیا کہ پرندے ہمارے ساتھ مختلف انداز میں ردعمل دیتے ہیں، جو اس تحقیق کا نقطۂ آغاز بنا۔‘‘
مطالعہ میں پانچ یورپی ممالک چیک جمہوریہ، فرانس، جرمنی، پولینڈ اور اسپین کے شہری علاقوں میں ۳۷؍ مختلف اقسام کے پرندوں کا مشاہدہ کیا گیا۔ ان میں عام شہری پرندے جیسے کبوتر اور میگپیز بھی شامل تھے۔ مجموعی طور پر ۲۷۰۰؍ سے زائد مشاہدات کیے گئے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ نتائج محض اتفاق نہیں بلکہ ایک مستقل پیٹرن کا حصہ ہیں۔ تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے ایک خاص طریقہ کار اپنایا جسے ’’فلائٹ انیشیشن ڈسٹینس‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں یہ ناپا جاتا ہے کہ کسی انسان کے قریب آنے پر پرندہ کتنے فاصلے پر اڑان بھرتا ہے۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ جب خواتین پرندوں کے قریب آتی ہیں تو وہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ فاصلے سے اڑ جاتے ہیں۔ اوسطاً مرد پرندوں کے قریب خواتین کے مقابلے میں تقریباً ۳؍  فٹ زیادہ قریب جا سکتے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تحقیق میں دیگر عوامل کو بھی کنٹرول کیا گیا۔ مرد اور خواتین شرکاء کو ایک جیسی اونچائی، لباس اور رفتار کے ساتھ پرندوں کے قریب جانے کو کہا گیا تاکہ فرق صرف جنس کی بنیاد پر دیکھا جا سکے۔ اس کے باوجود نتائج میں واضح فرق سامنے آیا۔ مطالعہ کے شریک مصنف ڈینیئل بلمسٹین نے کہا کہ ’’ہمیں یقین ہے کہ شہری پرندے انسان کی جنس کی بنیاد پر مختلف ردعمل ظاہر کرتے ہیں، لیکن ہم ابھی تک اس کی مکمل وضاحت نہیں کر سکتے۔‘‘
ماہرین کے مطابق اس رویے کے پیچھے کئی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے حرکت کا انداز، جسمانی ساخت، خوشبو یا آواز۔ تاہم، ابھی تک کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکا۔ یہ تحقیق پیپل اینڈ نیچر میں شائع ہوئی ہے اور اس کے نتائج شہری ماحولیات اور انسانوں اور جانوروں کے تعلقات کو سمجھنے میں اہم پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شہری جانور اپنے ماحول کے ساتھ کس قدر حساس اور موافق ہو چکے ہیں۔ جیسے جیسے شہر پھیل رہے ہیں، انسان اور جانوروں کے درمیان تعامل بھی بڑھ رہا ہے، جس کے اثرات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ محققین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مزید مطالعات کی ضرورت ہے تاکہ اس رویے کی اصل وجوہات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ یہ نہ صرف حیاتیات بلکہ شہری منصوبہ بندی اور ماحولیات کے شعبوں میں بھی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK