۳۳؍سالہ قبائلی فلم ساز روی راج مرمو کا نام شاید پہلے بہت کم لوگ جانتے تھے، لیکن آج ان کی کامیابی نے انہیں ملک ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پہچان دلا دی ہے۔
EPAPER
Updated: July 28, 2026, 10:19 AM IST | Mumbai
۳۳؍سالہ قبائلی فلم ساز روی راج مرمو کا نام شاید پہلے بہت کم لوگ جانتے تھے، لیکن آج ان کی کامیابی نے انہیں ملک ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پہچان دلا دی ہے۔
۳۳؍سالہ قبائلی فلم ساز روی راج مرمو کا نام شاید پہلے بہت کم لوگ جانتے تھے، لیکن آج ان کی کامیابی نے انہیں ملک ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پہچان دلا دی ہے۔یہ کامیابی کئی اعتبار سے تاریخی ہے۔ دراصل ان کی بنائی ہوئی’آنگین‘ نیشنل فلم ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی سنتھالی زبان کی فلم بن گئی، جبکہ کسی بھی قبائلی زبان میں بننے والی یہ صرف دوسری افسانوی (فکشن) فلم ہے جسے اس اعلیٰ قومی اعزاز سے نوازا گیا۔جھارکھنڈ کے ایک چھوٹے سے قبائلی گاؤں میں پلنے بڑھنے والا ایک لڑکا ہر شام اپنے دادا، دادی اور گاؤں کے بزرگوں سے لوک کہانیاں سنا کرتا تھا۔ ان کہانیوں میں گھنے جنگلات، بہتی ندیاں، روحوں کی پراسرار دنیا اور اپنی مٹی کی خوشبو رچی بسی ہوتی تھی۔ وقت گزرتا گیا، وہی لڑکا ممبئی پہنچا اور نیٹ فلکس، ایمیزون پرائم ویڈیو اور دیگر بڑے او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے لیے کام کرنےلگا۔لیکن جب اس نے اپنی ہی کہانی کوپردۂ سیمیں پر پیش کرنے کا فیصلہ کیا تو مسلسل۷؍برس تک اسے ایک بھی پروڈیوسر نہیں ملا۔ کروڑوں روپے کی فنڈنگ نہ ہونے کے باوجود اس نے ہمت نہیں ہاری، بلکہ اپنی فیچر فلم کی کہانی کا صرف ۱۲؍منٹ پر مشتمل مختصر ورژن بنایا، جس نے ۷۲؍ویں قومی فلم ایوارڈز میں تاریخ رقم کر دی۔تاہم سب سے بڑی رکاوٹ سرمایہ کاری تھی۔ ان کے مطابق اس فیچر فلم کو بنانے کے لیے تقریباً ۲۵؍سے ۳۰؍کروڑ روپے درکار تھے۔ انہوں نےکئی پروڈیوسروں سے ملاقاتیں کیں، لیکن کوئی بھی اس منصوبے میں سرمایہ لگانے پر آمادہ نہ ہوا۔ آخرکار انہوں نے فیصلہ کیا کہ پہلے اسی کہانی کا مختصر ورژن بنایا جائے تاکہ لوگوں کو اس کے امکانات دکھائے جا سکیں۔ اسی سوچ کے نتیجے میں۱۲؍منٹ پر مشتمل مختصر فلم ’آنگین‘ وجود میں آئی اور اس فلم کو نیشنل ایوارڈ ملنے سے اب یہ ان کی شاندار کامیابی قرار دی جارہی ہے۔