Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ٹرمپ ایران جنگ میں پھنسے ہوئے نظر آرہے ہیں‘‘

Updated: July 28, 2026, 10:50 AM IST | Washington / New York

نیویارک ٹائمس کا دعویٰ، ایک رپورٹ میں کہا گیاکہ ٹرمپ سمجھتے تھےکہ ان کے اختیارات کی کوئی حد نہیں ہے لیکن اب انہیں کئی حدود کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کے باعث وہ مزید مایوسی اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہیں،اخبار کے مطابق ٹرمپ کے پاس ایران میںاپنامقصد حاصل کرنے کا کوئی واضح راستہ نہیں ہے ۔

US President Donald Trump appears to be in trouble! Photo: INN
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ مشکلات میں گھرتے نظر آرہے ہیں! تصویر: آئی این این

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہےکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران جنگ میں پھنسے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ٹرمپ سمجھتے تھےکہ ان کے اختیارات کی کوئی حد نہیں لیکن اب انہیں کئی حدود کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کے باعث وہ مزید مایوس اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہیں۔امریکی اخبار کا کہنا ہےکہ حالیہ عرصے میں دیکھا جارہا ہےکہ ٹرمپ خود کو پھنسا ہوا محسوس کررہے ہیںکیونکہ ان کی صدارت آہستہ آہستہ ایسی جنگ میں گھرتی جا رہی ہے جس سے نکلنےکا وہ کوئی راستہ تلاش نہیں کر پا رہے ہیں۔ انہوں نے۲۸؍ فروری کو ایران کے خلاف مکمل جنگی کارروائیاں شروع کیں اور ایران کے جوہری پروگرام کو فوری طور پر ختم کرنے اور حکومت کا تختہ الٹنے کے اہداف مقرر کیے۔تاہم۵؍ ماہ بعد بھی یہ اہداف حاصل نہیں ہوسکے اور ٹرمپ اب ایران کے خلاف  بڑے پیمانے پر دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے سے ہچکچا رہے ہیںکیونکہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کا اندازہ ہےکہ ایران میں یہ حکمت عملی اتنی مؤثر ثابت نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ کے مخصوص علاقوں میں بین الاقوامی فورس کو داخلے کی اجازت

نیویارک ٹائمس کے مطابق صدر ٹرمپ کے پاس ایران میں اپنے مقصدکو حاصل کرنےکا کوئی واضح راستہ نہیں ہے، وہ فتح کی حکمت عملی کے بغیر تنازع میں داخل ہوئے تھے اور اب وہ عزت بچاتے ہوئے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں ۔اخبار کے مطابق اب ٹرمپ کے سامنے تین بڑے راستے ہیں، فوجی کشیدگی میں اضافہ، معاشی دباؤ بڑھانا یا فتح کا اعلان کرکے نکل جانا۔ ان تمام راستوں پر حالیہ ہفتوں میں غور کیا گیا ہے لیکن  ہر راستہ مختلف وجوہات کی بنا پر ناقابل قبول دکھائی دیتا ہے۔ نیویارک ٹائمس کے مطابق  پورے ہفتے ایران میں بڑی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے اشارے دینے کے بعدگزشتہ جمعہ کو ٹرمپ پیچھے ہٹ گئےاورمزید حملے روکنے کا اعلان کردیا ۔

اخبار کے مطابق ٹرمپ کی اصل ہچکچاہٹ شاید یہ ہےکہ جنگ نے امریکی میزائل شکن نظام کے ذخائرکو کم کر دیا ہے۔ اس ماہ مسلسل۱۳؍ راتوں کے حملوں اور جوابی حملوں کے بعد بعض عہدیداروں کے مطابق یہ تعداد انتہائی کم سطح تک پہنچ چکی ہے۔ نیویارک ٹائمس کی ایک اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپنے مشیروں کی جانب سے  ظاہر کئے گئے خدشات کے بعد ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کا منصوبہ روک دیا۔ خدشات میں یہ بات شامل تھی کہ جنگ کو مزید طول دینے سےمشرقِ وسطیٰ میں موجود فضائی دفاعی گولہ بارود کے پہلے ہی کم ہوتے ذخائر ختم ہوسکتے ہیں۔اپریل کے آخر میں نیویارک ٹائمس نے رپورٹ دی تھی کہ جنگ کے دوران پنٹاگن ۱۲۰۰؍ سے زیادہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل استعمال کر چکا ہے جن میں سے ہر ایک کی قیمت۴۰؍ لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے شہرسیئٹل میں سالانہ فوڈ فیسٹیول کے دوران فائرنگ

’’ایران پر مزید حملوں سے امریکہ کے میزائل ذخائر ختم ہوسکتے ہیں‘‘

امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے  خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنا ممکن ہے لیکن اس سے امریکی فوج کے پاس موجود میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو جائیں گے۔گزشتہ روز یہ خبر سامنے آئی کہ امریکی صدر  ٹرمپ نے ایران پر حملے روکنے کا حکم دیا ہے۔ذرائع کے مطابق جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے نجی طور پر خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنا ممکن تو ہے ، لیکن اس سے امریکی فوج کی سینٹرل کمان کے پاس موجود انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو جائیں گے۔اس کے علاوہ ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر کیے بغیر کہا کہ ایران پر حملوں کا نتیجہ توقعات کے برعکس نکلا ہے ، امریکی حملوں نے ایران کو اندر سے متحد ہونے اور ایرانی رہنماؤں کو بیرونی خطرات پر توجہ مرکوز رکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔امریکی میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے عمانی حکام کے دورہ ایران کی وجہ سے حملے روکے، عمانی وفد جمعہ کو ایران گیا تھا۔ٹرمپ نے صحافیوں سے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس حملے جاری رکھنے اور اس کی شدت بڑھانے کا آپشن بھی ہے جس میں ہر چیز کو تباہ کیا جاسکتا ہے مگر اسمارٹ اسٹراٹیجی یہ ہے کہ ایران سے ڈیل کی جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK