انصار اللہ کے مطابق سعودی تنصیبات پر یہ حملہ سعودی ڈرونز کی جانب سے یمن کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے جواب میں کیا گیا۔
EPAPER
Updated: July 28, 2026, 10:54 AM IST | Riyadh
انصار اللہ کے مطابق سعودی تنصیبات پر یہ حملہ سعودی ڈرونز کی جانب سے یمن کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے جواب میں کیا گیا۔
یمن کی حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللہ نے سعودی خام تیل کے ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق انصار اللہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سعودی شہر ینبع میں خام تیل کی سپلائی اور ٹرانسپورٹ سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ترجمان انصار اللہ کے مطابق سعودی تنصیبات پر یہ حملہ سعودی ڈرونز کی جانب سے یمن کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے جواب میں کیا گیا۔
اس دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے اینڈی برنہم کو برطانیہ کی وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے مبارک باد اور نیک تمناؤں پر سعودی ولی عہد کا شکریہ ادا کیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کے مخصوص علاقوں میں بین الاقوامی فورس کو داخلے کی اجازت
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اینڈی برنہم نے حوثی جنگجوؤں کے حملوں اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو درپیش خطرات کی مذمت کی۔انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی اور خود مختاری کیلئے برطانیہ کی مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
اس دوران اطلاعات ملیں کہ حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان حملوں کے بعد اتوار کو آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کی تعداد کئی ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی، یہ بات شپنگ ڈیٹا کمپنی کیپلر نے کہی ۔واضح رہےکہ باب المندب جہاز وںکی آمدورفت کیلئے دنیا کا چوتھا سب سے بڑا سمندری راستہ ہے۔ دنیا کی تیل اور گیس کی تقریباً۱۰؍ فیصد سپلائی اسی سے گزرتی ہے۔ جب سے ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کیا ہے، اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق اتوار کو صرف۱۱؍ تجارتی جہاز یہاں سے گزرے۔ یہ کئی مہینوں میں ایک ہی دن میں آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کی سب سے کم تعداد ہے۔