• Fri, 30 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’اداکاری کے ساتھ ہی میں نے تعلیم کو بھی یکساں اہمیت دی ‘‘

Updated: December 14, 2025, 11:21 AM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

ٹی وی اور فلم اداکارہ سمرن اُپادھیائے کا کہنا ہے کہ میں نے ۱۱؍برس کی عمر میں اداکارہ بننے کا خواب دیکھا تھا ، وہ پورا ہوا اور اب کولکاتا سے ممبئی کے اس سفر کو اور آگے لے جانا ہے۔

Simran Upadhyay. Photo: INN
سمرن اُپادھیائے۔ تصویر: آئی این این

۱۱؍سال کی عمر سے اداکارہ بننے کا خواب دیکھنے والی سمرن اُپادھیائے نے اپنے اس خواب کو نوجوانی میں پورا کرلیا ہے۔ وہ مغربی بنگال کی شو بز انڈسٹری میں چائلڈ آرٹسٹ کی حیثیت سے ہی کام کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے بنگالی زبان کی فلم اور اشتہاری فلموں میں مسلسل ۱۰؍ سال تک کام کیا ہے اور اس کے بعد ممبئی کا رخ کیا۔ ان کی تعلیم اور پرورش کولکاتا میں ہی ہوئی ہے لیکن اب وہ ممبئی میں قیام کرتی ہیں۔ انہوں نے ’موہے چھل کئے جا ‘اور ’رب سے کی ہے دعا ‘نامی شوز میں کام کیاہے۔ اس وقت وہ کلرس کے ایک شو میں مصروف ہیں اور ساتھ ہی سونالی بیندرے کی کرکٹ ٹیم کی میزبانی بھی کررہی ہیں۔ ان کے پاس انڈسٹری میں کام کرنے کا ۱۵؍ سال کا لمبا تجربہ ہے۔ نمائندہ انقلاب نے مشہور اداکارہ سمرن اُپادھیائے کے ساتھ طویل گفتگو کی جس کے اہم اقتباسات یہاں پیش کئے جارہے ہیں :
اس وقت آپ کہاں مصروف ہیں ؟
ج: کلرس ٹی وی پر ایک شو ’نین تارا ‘آتاہے اس میں کام کر رہی ہوں۔ گزشتہ جنوری سے اس شو کی شوٹنگ شروع ہوئی تھی اور جون میں یہ شو ٹی وی پر نشر کیا گیا تھا۔ تب سے میں اس میں کام کررہی ہوں۔ آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ ٹی وی شوز فُل ٹائم ملازمت ہوتی ہے مطلب اتوار سے سنیچر تک آپ اسی میں مصروف رہتے ہیں۔ اداکاری کے نقطہ نظر میں اس وقت یہی شو کررہی ہوں۔ 
ایکٹنگ کو پیشہ ورانہ طورپر اختیار کرنے کی وجہ کیا تھی؟
ج: میرا تعلق کولکاتا سے ہے اور میں نے اپنے بیچلرس کی تعلیم وہیں سے مکمل کی ہے۔ مجھے ڈانسنگ کا بہت شوق تھا اور میں نے اس کیلئے خصوصی طورپر تربیت بھی حاصل کی تھی۔ اسکول اور کالج کے زمانے میں میں نے ہر کلچرل پروگرام میں شرکت کی تھی۔ جب ۱۱؍ سال کی تھی تو ایک بڑے شو میں پرفارم کیا تھا، وہاں سے مجھے مختلف پروگرامز کیلئے مدعو کیا جانے لگا۔ میں اینکرنگ بھی کرتی ہوں، رقص بھی اچھا کرلیتی ہوں، یہی صلاحیتیں دیکھتے ہوئے مجھے ٹی وی اور فلم سے پیشکش آنے لگی۔ میں نے بھی اس موقع کا فائدہ اٹھایا۔ اس کے بعد مجھے اداکاری کی پیشکش ہونے لگی تو میں نے اس کیلئے بھی انکار نہیں کیا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا اور میں مصروف ہوتی گئی۔ اس وقت مجھے ایسا لگا کہ مجھے سنجیدگی سے اس بارے میں سوچنا چاہئے۔ بس میں پیشہ ورانہ طورپر مختلف شوز میں کام کرنے لگی۔ 
اداکاری اور آپ کے درمیان والدین کبھی رکاوٹ بنے تھے ؟ 
ج:میرے والدین نے اس معاملے میں خلل نہیں ڈالا۔ میں جب رقص کے پروگرام میں شرکت کرتی تھی تو انہیں معلوم تھا کہ وہ میرا شوق ہے لیکن یہی شوق بعد میں میرا پیشہ بن گیا۔ اس وقت انہوں نے کبھی اعتراض نہیں کیا کہ آپ ایکٹنگ کیوں کر رہی ہو؟ اس میں کیا کریئر ہے؟ ایکٹنگ کے معاملے میں انہوں نے مجھے پورا سپورٹ کیا اور میری ہرممکن مدد کرتے رہتے تھے۔ دراصل میں اکیلی ہی آرٹسٹک پیشہ میں ہوں، باقی میرے اہل خانہ اکیڈمک فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسری طرف میں نے تعلیم کو برابراہمیت دی۔ ۱۱؍ برس کی عمر سے میں اس شعبے میں ہوں، میں پہلے اسکول جاتی تھی اور اس کے بعد شوٹنگ کرتی تھی۔ والدین کو یہی خدشہ ہوتا ہے کہ اس سے تعلیم متاثر ہوگی۔ ہماری پروڈکشن ہاؤس سے پہلے ہی بات چیت ہوجاتی تھی۔ بہرحال میرے والدین نے مجھے پورا سپورٹ کیا۔ 
کیا آپ نے بنگالی شوز اور فلموں سے شروعات کی تھی ؟ممبئی میں پیر جمانا کتنا مشکل تھا؟ 
ج:جیساکہ میں نے پہلے ہی بتایا تھا کہ میں نے کولکاتا ہی میں کام کرنا شروع کردیا تھا۔ وہاں میں نے چائلڈ آرٹسٹ کی حیثیت سے شروعات کی تھی اور اداکاری میں سنجیدہ وہیں سے ہوئی تھی۔ وہاں ۱۰؍سال کام کرتی رہی کیونکہ کولکاتا میں رول ملنے میں زیادہ مشکل نہیں ہوتی تھی۔ جب اداکاری کا بخار زیادہ چڑھا تو میں نے ممبئی کا رخ کیا اور ہندی شوز میں کوشش کرنی شروع کردی۔ ممبئی میں حالات کولکاتا کے برخلاف تھے۔ وہاں مجھے آڈیشن نہیں دینا پڑتا تھا، ممبئی میں آڈیشن ہوتا تھا، اس کے بعد آپ کو انڈسٹری میں روابط بنانے ہوتے تھے۔ ممبئی میں مجھے زیرو سے شروعات کرنی پڑی تھی۔ بہرکیف ممبئی میں مشکلات کا سامنا رہا لیکن میں یہاں بھی کامیاب رہی۔ 
کیا آپ نےایکٹنگ کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہے؟
ج:کولکاتا میں تو میرے شوز اور فلمز ہی میرے ایکٹنگ سکھانے کے ادارے تھےاور وہاں مجھے باقاعدہ اداکاری کی تعلیم حاصل نہیں کرنی پڑی۔ ممبئی آنے کےبعد میں نے ایکٹنگ کے ورکشاپس کئے، میں نے شان ولیمز کے ساتھ کام کیا اور وہ میرے مینٹور بھی ہیں۔ ان کے ساتھ اسٹیج شوز بھی کرتی رہتی تھی۔ ممبئی آنے کے بعد ہی مجھے باقاعدہ ایکٹنگ کی ٹریننگ لینی پڑی تھی۔ 
سوشل میڈیا کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟
ج:سوشل میڈیا کے فائدہ بھی ہیں اور اس کے نقصان بھی ہیں۔ میں اسے مثبت انداز میں استعمال کرتی ہوں۔ مجھے کھیل کود کابہت شوق ہے اوراس کے بارے میں جاننے کا شغف بھی ہے۔ ایک بار میری والدہ نے کہا تھاکہ جب آپ کو کھیل کود کا شوق ہے تو سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اس شوق کو پورا کرو۔ تب میں نے شو سوشل میڈیا پر مختلف کھیلوں کی لیگزاور فرنچائزی لیگز کے بارے میں ویڈیوز بنانا شروع کیا۔ حال ہی میں نے سونالی بیندرے کی ٹیم کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ اس ٹیم کے کھلاڑیوں کے بارے میں اور سونالی بیندرے کے بارے میں ویڈیوز بناتی رہتی ہوں ۔ پہلے ایک ٹورنامنٹ سے شراکت داری ہوتی تھی اب ایک ٹیم کے لوگ مجھ سے رابطہ قائم کرتے ہیں۔ یہ سوشل میڈیا کا فائدہ ہے۔ سوشل میڈیا کے نقصانات تو سبھی جانتے ہیں، اس کی وجہ سے لوگ ڈپریشن کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔ ان ہی چیزوں سے بچنے کیلئے میں مطالعہ بھی کرتی رہتی ہوں اور مختلف موضوعات پر ریسرچ بھی کرتی ہوں۔ 
آپ کس طرح دونوں چیزیں مینیج کرلیتی ہیں ؟
ج: بچپن ہی سے میرے اندر یہ خوبی رہی ہے کہ میں ٹائم مینجمنٹ پر بہت زیادہ دھیان دیتی ہوں۔ اگر آپ مجھے ۲؍گھنٹے کا وقت دو اور کہو کہ اس میں ۴؍مختلف کام کرنے ہیں تو میں آسانی سے کرلوں گی۔ آپ اسپورٹس اور ایکٹنگ کی بات کررہے تھے تو اسے بھی مینیج کرنے کا طریقہ میں نے تلاش کرلیاہے۔ شو ٹنگ پر میں اپنا لیپ ٹاپ، کتابیں، کنڈر اور دیگر چیزیں ساتھ لے کر جاتی ہوں۔ شوٹنگ پر سب سے زیادہ بیگ میرے پاس ہی ہوتے ہیں۔ شوٹنگ کے دوران جب بھی وقفہ ملتاہے میں فوراً اپنادوسرا کام شروع کردیتی ہوں۔ میں وقفہ میں بھی خالی نہیں بیٹھتی اور اپنے وقت کا صحیح استعمال کرتی ہوں۔ 
کس اداکارکی اداکاری زیادہ پسند آتی ہے؟
ج:ذاتی طورپر میں رنبیر کپور اور عالیہ بھٹ کی اداکاری سے بہت زیادہ متاثر ہوں۔ وہ دونوں بالکل فطری انداز میں اداکاری کرتے ہیں۔ ان کی اداکاری کو دیکھ کر ایک الگ ہی احساس ہوتاہے۔ اس کے علاوہ جب بات کسی کو سننے یاکسی کا انٹر ویو دیکھنے کی آتی ہے تو اس معاملے میں، میں شاہ رخ خان کی سب سے بڑی مداح ہوں۔ وہ جب بھی کچھ بولتے ہیں تو دل کرتا ہے کہ انہیں مسلسل سنتے رہو۔ ان کی باتیں بہت دلچسپ اور متاثر کرنے والی ہوتی ہیں۔ ممبئی ہی کی طرح وہ تو کولکاتا کے بھی ہیرو ہیں کیونکہ ان کی ٹیم کولکاتا نائٹ رائیڈرس ہے۔ 
آپ کے مستقبل کے منصوبے کیا ہیں ؟
ج:میں ویب سیریز اور فلمیں بھی کرنا چاہتی ہوں۔ میں ٹی وی کے ساتھ دیگر پلیٹ فارم پر بھی قسمت آزمانا چاہتی ہوں۔ میری کوشش یہی ہے کہ مجھے اچھے رول ملیں اور میں ان میں دیانتداری سے کام کرتی رہوں۔ اس کے ساتھ ہی میں نے اسپورٹس کا جو نیا سلسلہ شروع کیا ہے اس میں بھی مواقع تلاش کرتی رہوں۔ یہ دونوں شعبوں میں مجھے مسلسل ترقی کرتی جانی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK