گلوکار ہیمنت کمار مکھوپادھیائے عرف ہیمنت دا کے نغمے آج بھی فضاؤں میں گونجتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں

Updated: September 26, 2021, 7:32 AM IST | Mumbai

فلمی دنیا کو اپنی سریلی موسیقی سے آراستہ کرنے والے عظیم موسیقار اور گلوکار ہیمنت کمار مکھوپادھیائے عرف ہیمنت دا کے نغمے آج بھی فضاؤں میں گونجتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

Famous singer Hemant Kumar.Picture:Midday
مشہور گلوکار ہیمنت کمار تصویر مڈڈے

:فلمی دنیا کو اپنی  سریلی موسیقی سے آراستہ کرنے والے عظیم موسیقار اور گلوکار ہیمنت کمار مکھوپادھیائے عرف ہیمنت دا کے نغمے آج بھی فضاؤں  میں گونجتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔سحر انگیز موسیقار اور گلوکار ہیمنت کمارکا انتقال ہوا تھا۔ فلمی دنیا کو اپنی  سریلی موسیقی سے آراستہ کرنے والے عظیم موسیقار اور گلوکار ہیمنت کمار مکھوپادھیائے عرف ہیمنت دا کے نغمے آج بھی فضاؤں  میں گونجتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ ہیمنت کمار بنارس میں۱۶؍ جون۱۹۲۰ء کو پیدا ہوئے  تھے۔
 ہیمنت کمار نے  ابتدائی تعلیم کلکتہ کے مترا انسٹی ٹیوٹ سے حاصل کی۔ انٹر کا امتحان پاس کرنے کے بعد ہیمنت کمار نے جادو پور یونیورسٹی میں انجینئرنگ میں داخلہ لے لیا لیکن کچھ  عرصے بعد  انہوں نے اپنی انجینئرنگ کی پڑھائی چھوڑ دی کیونکہ اس وقت ان کا رجحان موسیقی کی جانب مائل ہو گیا تھا اور وہ موسیقار بننے کا خواب دیکھ رہے تھے۔اس دوران انہوں نے ادب کی دنیا میں بھی اپنی شناخت قائم کی اور ایک بنگالی میگزین ’دیش‘ میں ان کی ایک کہانی بھی شائع ہوئی لیکن ۱۹۳۰ء  کے آخر تک ہیمنت کمار نے اپنی پوری  توجہ موسیقی کی جانب لگانی شروع کر دی۔اپنے بچپن کے دوست سبھاش کی مدد سے ۱۹۳۰ء میں ہیمنت کمار کو آکاش وانی  کے لیے اپنا پہلا بنگلہ گیت گانے کا موقع ملا۔  انہوں نے موسیقی کی اپنی ابتدائی تعلیم ایک بنگلہ موسیقار شیلیش دت گپتا سے حاصل کی۔  ہیمنت کمار نے استاد فياض خان سے کلاسیکی موسیقی کی تعلیم بھی حاصل کی۔
 ۱۹۴۴ء  میں ایک غیر فلمی بنگلہ گیت کیلئے ہیمنت کمار نے موسیقی بھی  دی۔ اسی سال پنڈت امرناتھ کی موسیقی میں انہیں اپنی  پہلی ہندی فلم ’ارادہ‘  میں گانے کا موقع ملا۔ اس کے ساتھ ہی ۱۹۴۴ء  میں رابندر ناتھ ٹھاکر کی رویندر موسیقی کیلئے ہیمنت کمار نے کولمبیا لیبل کمپنی کیلئے نغمے ریکارڈ کئے۔۱۹۴۷ء میں انہوں نے بنگلہ فلم ’ابھی یاتري‘ کیلئے بطور موسیقار کام کیا۔
 اس دوران ہیمنت کمار انڈین پیپلز تھیئٹر ایسوسی ایشن(اپٹا) کے سرگرم رکن کے طور پر کام کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ  ہیمنت کمار بنگلہ فلموں میں بطور موسیقار اپنی شناخت بناتے چلے گئے۔ اس دوران ہیمنت کمار نے کئی بنگلہ فلموں کے لیے موسیقی دی جن هیمین گپتا کی ہدایت کاری والی کئی فلمیں شامل ہیں۔
 هیمین گپتا نے ہیمنت کمار کو ممبئی آنے کی دعوت دی تھی۔ ۱۹۵۱ء میں فلمستان کے بینر تلے بننے والی ان کی پہلی ہندی فلم ’آنندمٹھ‘ کیلئے هیمین گپتا نے ہیمنت کمار کو موسیقی دینے کی پیشکش کی۔ فلم’آنند مٹھ‘ کی کامیابی کے بعد ہیمنت کمار بطور موسیقار فلمی صنعت  میں قائم ہو گئے۔ ’آنند مٹھ‘ میں لتا منگیشكر کی آواز میں گایا ہوا ’وندے ماترم ‘آج بھی سامعین میں جوش پیدا کر دیتا ہے۔۱۹۵۴ء میں ہیمنت کمارکی موسیقی سے آراستہ فلم ’ناگن‘ کی کامیابی کے بعد وہ کامیابی کی چوٹی پر پہنچ گئے۔ فلم ’ناگن‘  کا ایک گیت ’من ڈولے میرا تن ڈولے‘ آج بھی  کافی مقبول ہے۔ اس فلم کے لیے ہیمنت کمار کو بہترین موسیقار کے فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
 ۱۹۵۹ء میں ہیمنت کمار نے فلمسازی  کے  شعبے میں بھی قدم رکھا اور همنتا بیلا پروڈکشن نام کی فلم کمپنی قائم کی جس کے بینر تلے مرنال سین کی ہدایت میں ایک بنگلہ فلم ’نیل اكاشیر نیچے‘بنائی گئی۔ اس فلم کو پریزیڈنٹ گولڈ میڈل دیا گیا۔ اس کے بعد ہیمنت کمار نے اپنے بینر تلے ’بیس سال بعد‘ ،’دھند‘، ’بی بی اور مکان‘، ’فرار‘، ’راہگیر‘ اور ’خاموشی‘ جیسی کئی ہندی فلموں کا پروڈکشن کیا۔
 ۱۹۷۱ء  میں ہیمنت کمار نے ایک بنگلہ فلم ’انندتا‘ کی ہدایت کاری بھی کی لیکن یہ فلم باکس آفس پر بری طرح ناکام ثابت ہوئی۔
 ۱۹۷۹ء میں ہیمنت کمار نے۴۰ء اور۵۰ء کی دہائی میں سلیل چودھری کی موسیقی میں گائے گانوں کو دوبارہ ریکارڈ کرایا اور اسے ’لیجنڈ آف گلوری۲؍‘ کے طور پر جاری کیا اور یہ البم کافی کامیاب بھی رہی۔ ۱۹۸۹ء میں ہیمنت کمار بنگلہ دیش کے ڈھاکہ شہر میں مائیکل مدھسودھن ایوارڈ لینے گئے  جہاں انہوں نے ایک کنسرٹ میں بھی حصہ  لیا۔ تقریب کے اختتام کے بعد ہندوستان  واپسی  کے بعد انہیں دل کا دورہ پڑا جس کے بعد  وہ اُسی سال  ۲۶؍ ستمبرکو اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK