Inquilab Logo Happiest Places to Work

منوج کمارنے اپنی فلموں سےجذبۂ حب الوطنی کو پروان چڑھا یا

Updated: April 04, 2026, 11:00 AM IST | Mumbai

منوج کمار کی پیدائش ۲۴؍جولائی۱۹۳۷ء کو موجودہ پاکستان کے ایبٹ آباد شہر میں ہوئی تھی۔ ان کا اصل نام ہر ی کرشن گوسوامی ہے۔

Bharat Kumar aka Manoj Kumar. Photo: INN
بھارت کمار یعنی منوج کمار۔ تصویر: آئی این این

بالی ووڈ فلم انڈسٹری میں منوج کمار کا نام ایسے عظیم فنکاروں کی فہرست میں شامل ہےجنہوں نےبے مثال اداکارانہ صلاحتو ں سےناظرین کے دلوں میں اپنا ایک مخصوص مقام بنایا ہے۔ منوج کمار کی پیدائش ۲۴؍جولائی۱۹۳۷ء کو موجودہ پاکستان کے ایبٹ آباد شہر میں ہوئی تھی۔ ان کا اصل نام ہر ی کرشن گوسوامی ہے۔ انہوں نے نہ صرف فلم سازی بلکہ ہدایت کاری، اسٹوری رائٹنگ اور مکالمہ نگاری سے ناظرین کے دلوں میں اپنی ایک خاص شناخت قائم کی۔ ۱۹۵۷ءسے ۱۹۶۲ءتک منو ج کمار فلمی صنعت میں اپنا مقام بنانے کیلئےجدوجہد کرتے رہے اور آخر کار ان کی جدوجہد رنگ لائی۔ اس کے بعد انہیں جو بھی کردار ملا اسے وہ ہاتھوں ہاتھ لیتےگئے۔ لیکن ان کی کچھ فلمیں ایسی بھی ہیں، جس میں وہ بحیثیت اہم اداکار، ہدایت کار، پروڈیوسر، اسکرپٹ رائٹر نظر آئے۔ ان کی متعدد فلموں کی فہرست ایسی ہیں جنہوں نےمنوج کمار کوشہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ ان فلمو ں میں اپکار، شور، روٹی کپڑا اورمکان، سنتوش، پورب پچھم، کرانتی، جئے ہند، پینٹر بابو اورکلرک وغیرہ شامل ہیں۔ 
منوج کمار کی فنکاری کاایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنی فلموں کی کہانیاں خود اردو میں قلمبندکرتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ ان کےوالد پنڈت ہربنس لال گوسوامی اردو فارسی کےایک نامور شاعرتھے۔ ان کے کلام کا جلوہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب وہ صرف پانچویں جماعت کے طالب علم تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عامر خان کی خواہش تھی کہ ’’ایک دن‘‘ ان کے بیٹے جنید خان کی پہلی فلم ہو

اگر ان کے ماضی کی طرف ناظر ڈالیں تو ہمیں اس بات کا احساس ہوگا کہ وہ کسی اداکارکے نہ تو بٹے تھے اور نہ ہی کسی ہدایت کار کےرشتہ دار۔ فلم انڈسٹری کا قلعہ فتح کرنا ان کیلئےتقریباًناممکن تھا۔ پہاڑجیسی ہمت رکھنے والے ان کے والدین نےانہیں تعلیم دے کر قابل بنایا۔ تعلیم سےفراغت پانے کے بعد وہ ممبئی آگئے۔ یہاں آکر مسلسل دوڑ دھوپ میں لگے رہے۔ 
فلم’اپکار‘نےایک نئے منوج کمار یعنی ’بھارت کمار‘کو جنم دیا۔ اس فلم میں منوج کمار کانام بھارت کمار تھا اور اس کے بعد انہوں نے جتنی بھی فلمیں بنائیں ان میں انہوں نے اپنا نام ’بھارت کمار‘ہی رکھا جو بعد ازاں ان کی شناخت بن گیا۔ 
اس کے بعد انہوں نے جتنی بھی فلموں کی ہدایت کاری کی ان میں حب الوطنی کا رنگ چھایارہا۔ ان میں پورب پچھم، روٹی کپڑا اور مکان، کرانتی، دیش واسی اورکلرک وغیرہ شامل ہیں۔ صرف فلم شورمیں انہوں نے کچھ الگ کر دکھایا جس کے باعث فلم ہٹ ثابت ہوئی۔ 
ہدایت کاری، پروڈکشن اور اسکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے گوکہ وہ۴؍ بہترین فلموں سے آگے نہ بڑھ سکے، البتہ اداکاری کے شعبے میں انہوں نے اپنے اس مقام کو برقرار رکھا جو’ہریالی اور راستہ‘سے انہیں حاصل ہوا تھا۔ 
طویل عرصے سے منوج کمار فلمی دنیا سے کنارہ کش ہوکر ریٹائرمنٹ کی زندگی گزاررہےتھے۔ فلمی صنعت نے ان کی لازوال خدمات کا اعتراف کر تے ہوئے۱۹۹۲ءمیں پدم شری اور۲۰۱۵ء میں ہندی فلم انڈسٹری کے سب سے بڑے اعزاز’دادا صاحب پھالکے ایوارڈ‘سےنوازا، جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے۔ منوج کمار نےطویل عرصے تک صحت کے مسائل سے دوچار رہنےکے بعد۴؍ اپریل ۲۰۲۵ءکو ۸۷؍برس کی عمر میں اس دار فانی کو الوداع کہا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK