محمد رفیع کو بطور بہترین گلوکارتو پوری دنیا جانتی ہے کہ لیکن جو لوگ ان کی شخصیت سے واقف ہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ ایک بہترین گلوکار کے ساتھ نہایت ہی بہترین انسان بھی تھے۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 11:30 AM IST | Mumbai
محمد رفیع کو بطور بہترین گلوکارتو پوری دنیا جانتی ہے کہ لیکن جو لوگ ان کی شخصیت سے واقف ہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ ایک بہترین گلوکار کے ساتھ نہایت ہی بہترین انسان بھی تھے۔
محمد رفیع کو بطور بہترین گلوکارتو پوری دنیا جانتی ہے کہ لیکن جو لوگ ان کی شخصیت سے واقف ہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ ایک بہترین گلوکار کے ساتھ نہایت ہی بہترین انسان بھی تھے۔یہی وجہ تھی کہ انسانیت پر مبنی ان کے کئی اصول تھے جن سے وہ کبھی انحراف نہیں کرتے تھے۔ ایسے ہی ان کا ایک اصول یہ بھی تھا کہ وہ اس گیت کی دوبارہ ریکارڈنگ نہیں کرتے تھے جسے کسی دوسرے گلوکار کی آواز میں ریکارڈ کیا جاچکا ہو۔ فلم ’بھیگی رات‘کے گیت’دل جو نہ کہہ سکا…‘ کے ساتھ بھی اسی طرح کا ایک قصہ جڑا ہوا ہے۔ دراصل معاملہ یہ تھا کہ فلم’بھیگی رات‘کے ڈائریکٹر کالی داس اور اداکار اشوک کمار میں کسی بات پر کہاسنی ہوگئی اور فلم کی شوٹنگ بند ہوگئی اور۱۰؍دن تک شوٹنگ نہیں ہوسکی۔اداکارہ مینا کماری کے بیچ بچائو سےمعاملہ سلجھالیا گیا اور شوٹنگ دوبارہ شروع ہوگئی لیکن اس کی وجہ سے فلم کا بجٹ بگڑ گیا تھا۔ ایسے میں اس گیت کی بات آئی تو پروڈیوسر نے کہا کہ وہ محمد رفیع کی آواز میں ریکارڈ نہیں کرواسکتے۔ایسے میں مہندر کپور کی آواز میں اس گیت کو ریکارڈ کروالیا گیا۔ لیکن یہ بات جب فلم کے ہیرو پردیپ کمار کو معلوم ہوئی تو اس بات سے ناراض ہوگئے اورہدایت کار سے بحث کی کہ یہ گیت فلم کی جان ہے اس لئے یہ محمد رفیع کی آواز میں ہی ہونا چاہئے۔ مجبور ہوکر محمد رفیع کو بلایا گیا اور ان سے گیت ریکارڈ کروایا گیالیکن محمدرفیع سے یہ بات چھپائی گئی کہ یہ گیت مہندر کپور کی آواز میں پہلے ہی ریکارڈ ہوچکا ہےکیوں کہ اگر انہیں یہ بات معلوم ہوجاتی تو شاید وہ ان کے ساتھ دوبارہ کام کرنے سے ہی انکار کردیتے۔