• Tue, 15 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدینہ، سعودی عرب: ۱۱۰؍ ملین ٹن یورینیم والے معدنی ذخائر کی دریافت

Updated: September 15, 2026, 8:02 PM IST | Medina

مدینہ کے جبل سعید علاقے میں یورینیم کے ساتھ بھاری نایاب معدنیات کی موجودگی کا انکشاف؛ ریاض کا جوہری پروگرام آگے بڑھانے اور یورینیم کو مقامی طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ۔

Photo: X
تصویر: ایکس

سعودی عرب نے مدینہ کے علاقے میں تقریباً ۱۱۰؍ ملین ٹن معدنی مواد کی نشاندہی کی ہے جس میں یورینیم کے ساتھ نایاب معدنیات کی نمایاں مقدار موجود ہے۔ سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ویانا میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی جنرل کانفرنس کے دوران یہ اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وسائل مدینہ کے جبل سعید منصوبے میں جاری ارضیاتی تحقیق اور تلاش کے دوران سامنے آئے ہیں۔ سعودی وزیر کے مطابق تقریباً ۱۱۰؍  ملین ٹن معدنی ذخیرے میں خاص طور پر بھاری نایاب زمینی عناصر کی زیادہ مقدار کے ساتھ یورینیم کے بھی امید افزا ارتکازات موجود ہیں۔ تاہم دستیاب معلومات میں ابھی یورینیم کی مجموعی مقدار، اس کی کثافت یا تجارتی طور پر قابلِ استخراج مقدار نہیں بتائی گئی۔ اس لیے ۱۱۰؍ ملین ٹن کو خالص یورینیم کی مقدار سمجھنا درست نہیں ہوگا؛ یہ یورینیم رکھنے والے معدنی مواد کا مجموعی حجم ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی انسانوں کے کنٹرول میں نہ رہے تو اس کی ترقی بے معنی ہے: مائیکروسافٹ سربراہ نڈیلا

ریاض اس دریافت کو صرف معدنی وسائل کے طور پر نہیں دیکھ رہا بلکہ اسے اپنے قومی جوہری توانائی پروگرام سے بھی جوڑ رہا ہے۔ وزیر توانائی نے کہا کہ سعودی عرب یورینیم کے وسائل کی تلاش، ان کے اقتصادی استعمال اور ملک کے توانائی کے مجموعے میں جوہری توانائی شامل کرنے کے لیے ایک جامع پروگرام پر کام کررہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یورینیم کو کان کنی سے لے کر پراسیسنگ، افزودگی سے متعلق ٹیکنالوجی اور آخرکار جوہری ایندھن کی قدر افزا زنجیر میں شامل کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ سعودی عرب نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ یورینیم کو صرف روایتی کان کنی کے ذریعے حاصل کرنے تک محدود نہیں رہے گا۔ ایک منصوبے کے تحت شمالی سعودی عرب میں فاسفیٹ کھاد کی تیاری کے دوران فاسفورک ایسڈ کے ضمنی عمل سے یورینیم نکالنے کے امکانات پر بھی کام ہورہا ہے۔ سعودی وزیر کے مطابق فرانسیسی کمپنی Orano کے ساتھ تعاون نے یورینیم کی بازیابی کے اقتصادی امکانات کی نشاندہی میں بھی مدد کی ہے۔ 
یہ اعلان سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان سول جوہری تعاون کے معاہدے کے چند ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔ دونوں ممالک نے جولائی ۲۰۲۶ء میں پرامن جوہری توانائی کے استعمال سے متعلق معاہدہ کیا تھا، جسے واشنگٹن نے طویل مدتی اور اربوں ڈالر کی شراکت داری کے لیے قانونی بنیاد قرار دیا۔ اس تعاون میں جوہری توانائی کے ساتھ اہم معدنیات اور سپلائی چینز بھی شامل ہیں۔ سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ عبدالعزیز بن سلمان نے IAEA کانفرنس میں کہا کہ مملکت اپنا جوہری پروگرام عالمی برادری سے الگ تھلگ ہوکر یا پہاڑوں کے اندر خفیہ تنصیبات کے ذریعے نہیں چلارہی بلکہ بین الاقوامی شراکت داروں اور IAEA کے ساتھ تعاون کے تحت کام کررہی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق جوہری توانائی کو ملک کے توانائی کے مجموعے میں شامل کرنا بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب اور توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: پورٹسماؤتھ: مہاجر مخالف مظاہرے میں برقع پہننے والے شخص پر مقدمہ

سعودی عرب کے لیے نایاب زمینی عناصر بھی اس دریافت کی اہمیت بڑھاتے ہیں۔ یہ معدنیات جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرانکس، توانائی اور دیگر صنعتی شعبوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق جبل سعید کے علاقے میں موجود وسائل کو صرف خام معدنیات نکالنے کے بجائے کان کنی، علیحدگی، ریفائننگ اور متعلقہ صنعتی مصنوعات کی تیاری تک لے جانے کا منصوبہ ہے، تاکہ مقامی صنعتی قدر میں اضافہ کیا جاسکے۔ تاہم جوہری ایندھن کے اعتبار سے اس دریافت کی اصل اہمیت کا اندازہ لگانے کے لیے مزید اعداد و شمار درکار ہیں۔ عالمی جوہری توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں اب تک تجارتی سطح پر یورینیم کی پیداوار نہیں ہوئی اور ملک کے پاس فی الحال یورینیم افزودگی کی تنصیب بھی نہیں ہے۔ اس لیے موجودہ دریافت کو فوری طور پر جوہری ایندھن کی خودکفالت یا کسی بڑے جوہری پروگرام کی مکمل صلاحیت کے مترادف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سعودی عرب اس وقت تیل پر انحصار کم کرنے اور کان کنی، معدنیات، توانائی اور جدید صنعتوں کو اقتصادی ترقی کے نئے ستون بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ مدینہ میں یورینیم اور بھاری نایاب معدنیات والے بڑے معدنی ذخیرے کی نشاندہی اسی وسیع حکمت عملی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK