Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ کے سبب امریکیوں کو توانائی کی ۳۷؍ بلین ڈالر اضافی قیمت چکانی پڑی: تحقیق

Updated: May 13, 2026, 11:59 AM IST | Washington

ایران جنگ کے سبب امریکی صارفین نے اب تک توانائی کی اضافی قیمتوں میں۳۷؍ اعشاریہ ۴؍ بلین ڈالر سے زیادہ قیمت ادا کی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

ایک مطالعے کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ نے امریکیوں کو توانائی کی اضافی قیمتوں میں ۳۷؍ اعشاریہ ۴؍ بلین ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچایا ہے۔براؤن یونیورسٹی کے ’’ایران جنگ کی توانائی کے اخراجات کا ٹریکر‘‘ کے تخمینے کے مطابق،۲۸؍ فروری سے جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، تب سے امریکیوں نے ۳۷؍ اعشاریہ ۴؍ بلین ڈالر سے زائد اضافی اخراجات برداشت کیے ہیں۔یہ ڈیٹا حقیقی وقت میں اپ ڈیٹ ہو رہا ہے اور ہر گزرتے سیکنڈ کے ساتھ یہ مجموعہ بڑھتا جا رہا ہے۔اضافی لاگت کا زیادہ تر حصہ۲۰؍ اعشاریہ ۴۱؍ بلین ڈالر پیٹرولیم کے لیے ادا کیا گیا ہے، جبکہ ڈیزل پر تقریباً۱۷؍ بلین ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔اوسطاً امریکی گھرانے نے پٹرول اور ڈیزل دونوں پر ماہانہ ۲۸۵؍ اعشاریہ ۱۰؍ڈالر زائدادا کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی پر غور کررہے ہیں: رپورٹ؛ تہران بھی ’سبق سکھانے‘ کیلئے تیار

بعد ازاں منصوبے کے سربراہ جیف کولگن نے کہا کہ ’’یہ خرچ براہِ راست امریکی صارفین کی جیبوں سے ادا کیا جا رہا ہے۔‘‘واضح رہےکہ اس جنگ اور ایران کے جوابی اقدام کے تحت اہم آبی گزرگاہ ’’آبنائے ہرمز‘‘ کو بند کرنے کے عالمی توانائی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔آج امریکہ میں پٹرول کی اوسط قیمت۴؍ اعشاریہ ۵۲؍ ڈالر فی گیلن ہے، جو جنگ کے آغاز کے وقت۳؍ ڈالر سے نیچے تھی، یعنی۵۰؍ فیصد سے زیادہ کی اضافہ۔آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ میں سے ایک ہے۔اس کی طویل بندش نے علاقائی بندرگاہوں، جہاز رانی کے نظاموں، اور عالمی سپلائی تسلسلپر دباؤ بڑھا دیا ہے جو پہلے سے ہی سیکیورٹی خطرات کی وجہ سے کمزور ہیں۔آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے علاوہ، ایران نے خلیج میں امریکہ کے عرب اتحادیوں کو اہم توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر جواب دیا ہے، جس سے اس تنازعے کا معاشی نقصان مزید بڑھ گیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK