Inquilab Logo Happiest Places to Work

روسی جوہری طاقت میں بڑا اضافہ، سرمت میزائل کا کامیاب تجربہ

Updated: May 13, 2026, 2:01 PM IST | Moscow

روس نے ۳۵؍ ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے نئے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سرمت کے کامیاب تجرباتی لانچ کا اعلان کرتے ہوئے اسے دنیا کا سب سے طاقتور میزائل قرار دیا ہے۔

Vladimir Putin.Photo:X
ولادیمیر پوتن۔ تصویر:ایکس

 روس نے ۳۵؍ ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے نئے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سرمت کے کامیاب تجرباتی لانچ کا اعلان کرتے ہوئے اسے دنیا کا سب سے طاقتور میزائل قرار دیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے میزائل کے تجربے کو روسی دفاعی صلاحیت میں اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرمت دنیا کے کسی بھی جدید دفاعی نظام کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق اس میزائل کی طویل رینج کے باعث امریکہ اور یورپ کے بیشتر علاقے روس کی مار میں آ چکے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق روس نے منگل کو اپنی جوہری صلاحیت کو مزید جدید بنانے کے منصوبے کے تحت اس نئے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل پوتن نے کہا تھا کہ یوکرین میں جاری جنگ اختتامی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
روسی صدر نے بتایا کہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا سرمت میزائل رواں برس کے اختتام تک باقاعدہ فوجی سروس میں شامل کر دیا جائے گا۔ یہ میزائل سوویت دور کے پرانے ووئیووڈا میزائل کی جگہ لے گا۔ پوتن کے مطابق سرمت اُن جدید اسٹریٹجک ہتھیاروں کا حصہ ہے جنہیں ۲۰۱۸ء میں متعارف کروایا گیا تھا تاکہ مستقبل میں امریکہ کے ممکنہ میزائل دفاعی نظام کو غیر مؤثر بنایا جا سکے۔ ان کے بقول یہ میزائل ووئیووڈا جتنا طاقتور مگر اس سے زیادہ درست ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سونل چوہان پنجابی فلم انڈسٹری میں اپنے سفر کے تعلق سے پُر جوش


انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرمت  کے وار ہیڈز کی مجموعی طاقت مغربی ممالک کے کسی بھی ہم پلہ میزائل سے چار گنا زیادہ ہے۔ پوتن کے مطابق یہ میزائل سب آربیٹل پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے اور۳۵؍ ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے، جبکہ یہ جدید دفاعی شیلڈز کو عبور کرنے کی اضافی تکنیکی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
روسی صدر نے بتایا کہ روس کے جدید ترین عسکری منصوبوں میں اوانگارڈ ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل بھی شامل ہے، جو آواز کی رفتار سے ۲۷؍ گنا زیادہ تیزی سے پرواز کر سکتا ہے اور اس کے ابتدائی یونٹس پہلے ہی فوجی سروس میں شامل کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس نے  اوریشنک  نامی درمیانی فاصلے تک مار کرنے والا جوہری صلاحیت کا حامل بیلسٹک میزائل بھی تیار کیا ہے، جس کے روایتی ہتھیاروں والے ورژن کو یوکرین پر دو حملوں میں استعمال کیا جا چکا ہے۔ اس میزائل کی ۵؍ ہزار کلومیٹر تک رینج اسے یورپ کے کسی بھی مقام تک پہنچنے کے قابل بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ایران جنگ کے سبب امریکیوں کو توانائی کی ۳۷؍ بلین ڈالر اضافی قیمت چکانی پڑی: تحقیق

پوتن کے مطابق روس پوسیڈن زیرِ آب ڈرون اور بوریویستنک کروز میزائل کی تیاری کے آخری مراحل میں بھی داخل ہو چکا ہے، جو جوہری صلاحیت رکھنے والے جدید ہتھیاروں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ روسی صدر نے کہا کہ ماسکو کو خدشہ تھا کہ امریکی میزائل شیلڈ مستقبل میں امریکہ کو پہلا حملہ کرنے پر آمادہ کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں روس کے بیشتر جوہری ہتھیار تباہ اور جوابی حملے کی صلاحیت محدود ہو سکتی تھی۔ انہوں نے کہاکہ ’’ہمیں نئی عالمی حقیقت کے مطابق اپنی اسٹریٹجک سلامتی کو یقینی بنانے اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کرنا پڑے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK