• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میری خواہش ہے کہ اپنے کریئر میں کوئی اچھا مزاحیہ کردار بھی ادا کروں‘‘

Updated: October 04, 2026, 2:28 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

ویب سیریز اور فلم اداکارطاہر راج بھسین کا کہنا ہےکہ میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ میں ایسی کہانیاں ناظرین تک پہنچاؤں جن کے بارے میں انہوں نے پہلے کبھی نہ سوچا ہو۔

Web series and film actor Tahir Raj Bhasin. Photo: INN
ویب سیریز اور فلم اداکارطاہر راج بھسین۔ تصویر: آئی این این

طاہر راج بھسین فلمی دنیا کے معروف اداکار ہیں، جوبالخصوص منفی کرداروں اور سنجیدہ ڈرامائی کرداروں کیلئے جانے جاتے ہیں۔ ان کے والد ہندوستانی فضائیہ میں لڑاکا طیارے کے پائلٹ رہے ہیں۔ طاہر نے دہلی یونیورسٹی کے ہندو کالج سے سیاسیات میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نےآسٹریلیاکی یونیورسٹی آف میلبورن سے فلم کی تاریخ و فلسفے کی تعلیم حاصل کی۔ طاہر نے ابتدا میں مختصر کرداروں کے ذریعے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ ان کی ابتدائی فلموں میں ’کائی پو چے‘ اور ’ون بائی ٹو‘ شامل ہیں۔ تاہم انہیں حقیقی شناخت ۲۰۱۴ء کی فلم ’مردانی‘سے ملی، جس میں انہوں نے رانی مکھرجی کے مقابل ایک خطرناک منفی کردار ادا کیا ہے۔ ’مردانی‘ کے بعد طاہر نے خود کو صرف منفی کرداروں تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے ’فورس ۲‘، ’’منٹو‘‘ اور ’چھچھورے‘ جیسی فلموں میں مختلف نوعیت کے کردار ادا کیے۔ ۲۰۲۱ء کی فلم’۸۳‘میں انہوں نے کرکٹر سنیل گاوسکر کا کردار نبھایا ہے۔ وہ حالیہ برسوں میں فلموں اور ویب سیریز دونوں میں سرگرم رہے ہیں ۔ ان کے نمایاں منصوبوں میں ’سیل عاشق اوراسپیشل اوپس ۲‘ اور دیگر فلمی و ویب منصوبے شامل ہیں۔ نمائندہ انقلاب نے طاہر راج بھسین سے گفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
آپ کو اداکاری کی دنیا میں کام کرتے ہوئے تقریباً دس سال ہوگئے ہیں۔ اس طویل سفر کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
ج:اس مقام تک پہنچنے کیلئے کئی برس کی جدوجہد رہی ہے۔ مجھے فلمی صنعت میں کام کرتے ہوئے تقریباً دس سال ہوگئے ہیں اور میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ ایسی کہانیاں اور ایسے کردار منتخب کروں جن میں بطور اداکار مجھے کچھ مختلف کرنے کا موقع ملے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہر منصوبے کے ذریعے ناظرین کو حیران کرنے کا ایک موقع ضرور ملے۔ میرے خیال میں اس سفر میں میری اپنی محنت اور کوشش کے ساتھ ساتھ ان کہانیوں اور ہدایتکاروں کا بھی بڑا کردار ہے جن کے ساتھ مجھے کام کرنے کا موقع ملا۔ مثال کے طور پر ’یہ کالی کالی آنکھیں ‘ اور’شک‘ دونوں ایک طرح سے سنسنی خیز اور پراسرار کہانیوں کی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن دونوں کی تحریر بہت مضبوط تھی۔ جب میں نے ’شک‘ کا مسودہ پڑھنا شروع کیا تو میرا خیال تھا کہ پہلے صرف دو قسط پڑھوں گا، لیکن میں نے ایک ہی رات میں پوری کہانی پڑھ ڈالی کیونکہ بطور ناظر میں خود بھی یہ جاننا چاہتا تھا کہ اگلی قسط میں کیا ہونے والا ہے۔ اس لیے مضبوط کہانی اور اچھے ہدایت کاروں کے ساتھ کام کرنا میرے سفر کا اہم حصہ رہا ہے۔ 
آپ کو شہرت ’مردانی‘ سے ہی ملی تھی، جس میں آپ نے منفی کردار ادا کیا تھا۔ اس تجربے کو آج کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟
ج:میں آج بھی خود کو اس موقع کیلئے خوش نصیب سمجھتا ہوں کیونکہ بہت کم اداکاروں کو اپنے فلمی آغاز میں ایسا کردار ملتا ہے جو اتنا نمایاں اور روایتی انداز سے ہٹ کر ہو۔ میرے خیال میں اس کردار کی خاص بات یہ تھی کہ اسے صرف ایک روایتی ویلن کے طور پر پیش نہیں کیا گیا تھا۔ اس کی ظاہری شخصیت اور انداز بالکل ایک عام نوجوان جیسا تھا، لیکن اس کے کام انتہائی خطرناک تھے۔ یہی تضاد شاید کردار کو زیادہ یادگار بناتا ہے۔ 
’مردانی‘ میں آپ کا مخصوص انداز اور حلیہ آج بھی لوگوں کو یاد ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ کوئی کردار اداکار کے ساتھ ہمیشہ کیلئے جڑ جاتا ہے؟
ج:بالکل، کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو ناظرین کے ذہن میں اپنی ایک الگ جگہ بنا لیتے ہیں۔ ’مردانی‘بھی میرے لیے ایسا ہی تجربہ تھا۔ اس کردار نے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع دیا اور آج بھی لوگ اس کردار کو یاد کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نُپور سینن نے بتایا شادی کے دوران ان کی بہن کِریتی سینن کیوں ناراض ہوئی تھیں

آپ نے فلموں کے ساتھ ساتھ ویب سیریزمیں بھی کام کیا ہے۔ آپ کے خیال میں دونوں میں بنیادی فرق کیا ہے؟
ج: مثال کے طور پر ’شک‘ میں پانچ چھ کردار ہیں اور ہر کردار کا اپنا ایک سفر اور کردار کی اپنی تبدیلی ہے۔ ’یہ کالی کالی آنکھیں ‘ بھی دو حصوں پر مشتمل سیریز تھی اور کسی ایک کردار کو اتنے طویل عرصے تک ادا کرنا اپنے آپ میں ایک خاص تجربہ ہے، لیکن میرے خیال میں سنیما کی اپنی ایک الگ جگہ ہے۔ جب آپ ’پٹھان‘ جیسی فلم دیکھنے سنیما گھر جاتے ہیں تو وہاں بیٹھ کر اس طرح کی فلم سے لطف اندوز ہونے کا تجربہ الگ ہوتا ہے۔ 
آپ ذاتی طور پر کس طرح کی فلمیں زیادہ پسند کرتے ہیں ؟ کیا آپ کو سنیما گھر میں فلم دیکھنا پسند ہے یا گھر پر دیکھنا؟
ج:میں اس سوال کا موازنہ اکثر کرکٹ سے کرتا ہوں۔ اگر آپ کرکٹ دیکھنا پسند کرتے ہیں تو کیا آپ کو یکروزہ پسند ہے یا مختصر طرز کا مقابلہ؟ دونوں میں کرکٹ ہی نظر آتا ہے، لیکن دونوں کا انداز مختلف ہے۔ میں یکروزہ مقابلہ بھی دیکھوں گا اور مختصر طرز کا مقابلہ بھی، لیکن دونوں کا لطف الگ ہے۔ بالکل اسی طرح فلموں کے معاملے میں بھی سنیما اور گھر پر دیکھنے کا تجربہ اپنی اپنی جگہ مختلف ہے۔ 
سوشل میڈیا کے دور میں کیا کبھی آپ کو یہ کشمکش رہی کہ اپنی زندگی کا کتنا حصہ لوگوں کے سامنے رکھنا ہے اور کتنا نجی رکھنا ہے؟
ج:جب تقریباً آٹھ یا نو سال پہلے سوشل میڈیا کا دور شروع ہوا تھا تو اس وقت کچھ الجھن ضرور رہتی تھی۔ اس زمانے میں رجحان یہ تھا کہ آپ اپنی زندگی میں جو کچھ بھی کررہے ہیں، چاہے ناشتہ کررہے ہوں یا کہیں جارہے ہوں، ہر چیز کا ویڈیو بنا کر لوگوں کے ساتھ شیئر کردیا جاتا تھا، لیکن آہستہ آہستہ سمجھ میں آیا کہ مواد تخلیق کرنے والے شخص کی دنیا الگ ہے اور ایک اداکار کی دنیا الگ۔ ایک فنکار کیلئے ذرائع ابلاغ سے رابطہ رکھنا، ناظرین کی رائے جاننا اور لوگوں کے درمیان موجود رہنا یقیناً ضروری ہے، لیکن اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ وہ اپنے لیے وقت نکالے اور اگر اسے کوئی کہانی یا کردار ملا ہے تو اس پر توجہ مرکوز کرے۔ اسلئے یہ توازن اور وضاحت بہت ضروری ہے کہ اپنی زندگی کا کتنا حصہ عوامی رکھنا ہے اور اپنی عوامی شناخت کو کس حد تک لوگوں کے سامنے لانا ہے۔ اس کے ساتھ اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ 
جب آپ نے اداکاری کا سفر شروع کیا تھا تو یقیناً بہت سے خواب اور خواہشات رہی ہوں گی۔ آج بھی کوئی ایسا کردار یا خواب ہے جسے آپ پورا کرنا چاہتے ہیں؟
ج:بہت سے خواب ہیں۔ میں نے اب تک پولیس افسر، جرائم کی تفتیش کرنے والے افسر یا جاسوس کا کردار ادا نہیں کیا جبکہ مجھے اس طرح کی فلمیں دیکھنا بہت پسند ہے۔ اسلئے ایک خواہش یہ بھی ہے کہ مجھے مستقبل میں ایسا کردار ادا کرنے کا موقع ملے۔ دوسری خواہش یہ ہے کہ میں نے اب تک مکمل مزاحیہ کردار بھی ادانہیں کیا۔ مجھے لگتا ہے کہ میں ایسا کردار اچھی طرح ادا کرسکتا ہوں، لیکن ابھی تک اس نوعیت کا کردار میرے پاس نہیں آیا۔ 
آپ کے نئے منصوبے ’شک‘ سے ناظرین کیا توقع کر سکتے ہیں؟
ج:میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ میں ایسی کہانیاں ناظرین تک پہنچاؤں جن کے بارے میں انہوں نے پہلے نہ سوچا ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ ناظرین کو کچھ ایسا دیکھنے کو ملے جو انہیں حیران بھی کرے اور ان کا دل بہلائے بھی۔ اسی لیے ’شک‘ مجھے زیادہ پسند ہے۔ اس منصوبے کو بنانے میں ہمیں تقریباً ایک سال لگا۔ پوری ٹیم نے ایک سال تک اس کہانی اور کرداروں پر کام کیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ناظرین جب اسے دیکھیں گے تو انہیں ایک ایسی کہانی ملے گی جو انہیں اپنی طرف متوجہ کرے گی اور آخر تک جوڑے رکھے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK