اردو کے شاعر کیفی اعظمی نہ صرف نغمہ نگار ر بلکہ مکالمہ نویس بھی تھے

Updated: January 14, 2020, 9:30 am IST | Mumbai

کیفی اعظمی کاشمار اردو کے ممتاز ترقی پسند شعرااور نغمہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ کیفی اعظمی کی ولادت ۱۴؍ جنوری۱۹۱۹ء کو اتر پردیش کے اعظم گڑھ ضلع کے مجواں گاؤں میں ہوئی تھی۔ ان کا اصل نام سید اطہر حسین رضوی تھا اور تخلص کیفی تھا۔کیفی نے ایک خوشحال زمیندار گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کے والد انہیں اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے تھے اور اسی مقصد سے انہوں نے کیفی کا داخلہ لکھنؤ کے مشہور مدرسے ’’سلطان المدارس‘‘ میں کروادیا تھا۔

اردو کے شاعر کیفی اعظمی نہ صرف نغمہ نگار ر بلکہ مکالمہ نویس بھی تھے
کیفی اعظمی۔ تصویر: مڈڈے

کیفی اعظمی کے یوم ولادت (۱۴؍ جنوری) کے موقع پر

ممبئی (ایجنسی): کیفی اعظمی کاشمار اردو کے ممتاز ترقی پسند شعرااور نغمہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ کیفی اعظمی کی ولادت ۱۴؍ جنوری۱۹۱۹ء کو اتر پردیش کے اعظم گڑھ ضلع کے مجواں گاؤں میں ہوئی تھی۔ ان کا اصل نام سید اطہر حسین رضوی تھا اور تخلص کیفی تھا۔کیفی نے ایک خوشحال زمیندار گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کے والد انہیں اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے تھے اور اسی مقصد سے انہوں نے کیفی کا داخلہ لکھنؤ کے مشہور مدرسے ’’سلطان المدارس‘‘ میں کروادیا تھا۔ شعرو ادب سے دلچسپی کی سب سے بڑی وجہ یہ رہی کہ گھر میں علم وادب اور شعر وشاعری کا ماحول تھا۔ ایسے ماحول میں جب انہوں نے آنکھیں کھولیں تو ابتدا ہی سے انہیں شعر وادب سے دلچسپی ہوگئی۔ کیفی نے محض ۱۱؍ برس کی عمر ہی سے شعر کہنا شروع کر دیا تھا اور وہ اکثر مشاعروں میں شرکت کرنے لگے تھے لیکن بیشتر لوگ جن میں ان کے والد بھی شامل تھے ، یہ سوچا کرتے تھے کہ کیفی اعظمی مشاعروں میں اپنی نہیں بلکہ اپنے بڑے بھائی کی غزلیں پڑھتے ہیں۔ایک مرتبہ بیٹے کا امتحان لینے کیلئے ان کے والد نے انہیں ایک مصرعہ دیا اور اس پر غزل لکھنے کو کہا۔ کیفی نے اسے چیلنج کے طور پر قبول کیا اور پوری غزل لکھ ڈالی۔ ان کی یہ غزل کافی مقبول ہوئی جسے بعد میں مشہور گلوکارہ بیگم اختر نے اپنی آواز دی۔ 
 کیفی اعظمی محفلوں میں بہت شوق سے نظمیں پڑھا کرتے تھے اس کیلئے انہیں کئی مرتبہ ڈانٹ بھی کھانی پڑتی تھی جس کے بعد وہ روتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس جاتے اور کہتے ’’اماں! دیکھنا ایک دن میں بہت بڑا شاعر بن کر دکھاؤں گا۔‘‘ کیفی اعظمی کبھی بھی اعلیٰ تعلیم کی خواہش مند نہیں رہے۔ مدرسہ میں اپنی تعلیم کے دوران وہاں کے غیرمنظم حالات دیکھ کر انہوں نے طلبا یونین بنائی اور طلبا کے کچھ مطالبات کو لے کر انتظامیہ سے بھی نبرد آزما ہوئے اور مدرسے کے جامد اور دقیانوسی نظام کے خلاف آواز اٹھائی اور طلبہ سے ہڑتال پر جانے کی اپیل کی ۔ ان کی یہ ہڑتال تقریباً ڈیڑھ برس تک چلی ۔ اس ہڑتال سے کیفی اعظمی کو یہ فائدہ ہوا کہ اس وقت کے چند ترقی پسند مصنفین ان کی قیادت سے کافی متاثر ہوئے اور انہیں کیفی میں ایک ابھرتا ہوا شاعر نظرآیا ۔ان لوگوں نے انہیں حوصلہ دیا اور ہر ممکن مدد دینے کی پیشکش کی۔اس کے بعد ایک طالب علم رہنما اطہر حسین میں ایک شاعر نے کیفی اعظمی کے طور پر جنم لے لیا۔
کیفی کی انقلابی اور احتجاجی طبیعت کی منزلیں ہی کچھ اور تھیں۔ اس طرح کے ماحول نے کیفی کی طبیعت کو اور زیادہ انقلابی بنایا وہ ایسی نظمیں کہنے لگے جو اس وقت کے سماجی نظام کو نشانہ بناتی تھیں۔ لکھنؤ کے اس قیام کے دوران ہی ترقی پسند ادیبوں کے ساتھ کیفی کی ملاقاتیں ہونے لگیں۔ لکھنؤ اس وقت ترقی پسند ادیبوں کا ایک اہم مرکز بنا ہوا تھا۔ ۱۹۴۲ء میں کیفی اعظمی اردو اور فارسی کی اعلیٰ تعلیم کیلئے لکھنؤ اور الہ آباد گئے لیکن انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی رکنیت حاصل کرکے پارٹی کارکن کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا اور پھر بھارت چھوڑو تحریک میں شامل ہو گئے۔
اس دوران مشاعروں میں کیفی اعظمی کی شرکت جاری رہی۔ چنانچہ ۱۹۴۷ء میں ایک مشاعرے میں شرکت کیلئے وہ حیدرآباد پہنچے جہاں ان کی ملاقات شوکت سے ہوئی اور ان کی یہ ملاقات رشتہ ازدواج میں تبدیل ہوگئی۔آزادی کے بعد ان کے والد اور بھائی پاکستان چلے گئے لیکن کیفی اعظمی نے ہندوستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ شادی کے بعد اخراجات بڑھنے کے سبب کیفی اعظمی نے ایک اردو اخبار کیلئے لکھنا شروع کر دیا جہاں انہیں ۱۵۰؍ روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔ ان کی پہلی نظم ’’سرفراز‘‘لکھنؤ میں شائع ہوئی۔ انہوں نے روزنامہ اخبار کیلئے مزاحیہ اور طنزیہ شاعری شروع کی۔ اس کے بعد اپنے گھر کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیش نظر کیفی اعظمی نے فلموں کیلئے نغمے لکھنے کا فیصلہ کیا۔
کیفی اعظمی نے سب سے پہلے شاہد لطیف کی فلم ’’بزدل‘‘کیلئے دو نغمے لکھے جس کے عوض انہیں ایک ہزار روپے ملے۔اس کے بعد انہوں نے ۱۹۵۹ء میں آنے والی فلم کاغذ کے پھول کیلئے ’’وقت نے کیا کیا حسیں ستم، تم رہے نہ تم، ہم رہے نہ ہم‘‘جیسا سدا بہار نغمہ لکھا۔ اس کے بعد ۱۹۶۵ء میں فلم ’’حقیقت‘‘ کے نغموں بالخصوص ’’کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیو، اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو‘‘ کی شہرت کے ساتھ وہ کامیابی کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔
کثیر جہتی صلاحیتوں کے حامل کیفی اعظمی نے فلم ’’گرم ہوا ‘‘کی کہانی ڈائیلاگ اور اسکرین پلے لکھا جس کیلئے انہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔فلم ’’ہیررانجھا‘‘ کے مکالموں کے ساتھ ساتھ انہوں نے شیام بینیگل کی فلم ’’منتھن‘‘ کی اسکرپٹ بھی لکھی۔تقریباً ۷۵؍ برس کی عمر کے بعد کیفی اعظمی نے اپنے گاؤں مجوا ں میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے خوبصورت نغموں سے سامعین کو مسحور کرنے والے عظیم شاعر اور نغمہ نگار کیفی اعظمی ۱۰؍ مئی ۲۰۰۲ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

kaifi azmi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK