Inquilab Logo Happiest Places to Work

غیر قانونی آئی وی ایف مراکز پر کارروائی کا مطالبہ

Updated: July 01, 2026, 11:14 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

ابو عاصم اعظمی کے مطالبے پر وزیر صحت کی جانب سے کارروائی کی یقین دہانی ، ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ میں ہونے والی دقتوں کا معاملہ بھی اٹھایا

Samajwadi Party leader Abu Asim Azmi
سماج وادی پارٹی لیڈر ابو عاصم اعظمی

مہاراشٹر اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوران بدھ کو سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے ریاست میں تیزی سے بڑھتے ہوئے غیر قانونی آئی وی ایف مراکز اور غریب خواتین کی بے بسی کا استحصال کرنے والے ریکیٹ کو بے نقاب کرتے ہوئے اس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی کیو آر کوڈ والے برتھ سرٹیفکیٹ کو جاری کرنے ہو رہے تساہل کو بھی اجاگر کیا۔  اس معاملے پر وزیر صحت پرکاش ابیٹکرنے ایوان اسمبلی کو یقین دلایاکہ غیر قانونی آئی وی ایف مراکز کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے ایک آزادانہ خصوصی دستہ ( ٹاسک فورس)   تشکیل دیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف مکوکہ کےتحت مقدمہ درج کرنے کی کارروائی بھی جاری ہے اور اگلے اسمبلی اجلاس میں اس ضمن میں قانون بھی منظوری کیلئے پیش کیاجائے گا۔
 رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے بتایا کہ بدلاپور، امبرناتھ اور ناسک میں غریب خواتین کو چند روپوں کا لالچ دے کر ان سے ’بچہ دانی‘فراہم کروانے کا گھناؤنا معاملہ سامنے آیا ہے۔ چندر پور میں ’’بے بی سیور‘‘ اور ’’اندرا  آئی وی ایف‘‘جیسے مراکز بھی بغیر لائسنس کے ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے گئے۔  دریں اثناء رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے ڈیجیٹل سسٹم کی خامیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ پر کیو آر کوڈز کو لازمی قرار دیا ہے لیکن یہ سرٹیفکیٹ وقت پر جاری نہیں کئے جارہے ہیں۔ مانخورداور شیواجی نگر جیسے علاقوں میں، لوگوں کو ایک ہی سرٹیفکیٹ کے حصول کیلئے ۴؍ سے ۶؍ماہ تک دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں، جس سے اسکولوں اور کالجوں میں بچوں کا داخلہ کروانے میں بڑی رکاوٹ ہو رہی ہے۔ انہوں نے انتظامی پیچیدگیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مقامی سطح پر ڈیٹا کی دستیابی کے باوجود فائلیں پریل اور اندھیری کے دفاتر کے ذریعے بھیجی جاتی ہیں۔ مزید برآں، کسی سرٹیفکیٹ پر املہ کی معمولی غلطی کو بھی درست کرنے کا عمل اتنا پیچیدہ ہے کہ غریب اور عام شہری کو مہینوں تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ابو عاصم اعظمی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان دونوں حساس معاملات میں سخت ایکشن لیا جائے اور طریقہ ٔ کار کو فوری طور پر آسان اور عوام کیلئے دوستانہ بنایا جائے۔ اس ضمن میں رکن اسمبلی اجے چودھری نے کہاکہ ’’غیر قانونی آئی وی ایف مراکز چلانے والے ڈاکٹر ، نرس اور دیگر اسٹاف کو بخوبی معلوم ہوتاہے کہ وہ غیر قانونی کام کرر ہے ہیں اس لئے ان تمام کے خلاف مکوکہ کے تحت مقدمہ درج کیاجانا چاہئے اور ڈاکٹر کی ڈگری بھی منسوخ کردینا چاہئے۔ ابو عاصم کے مطالبے کا جواب دیتے ہوئےو زیر صحت پرکاش ا بیٹکر نے ایوان کو بتایا کہ بدلاپور کے معاملے میں کلیدی ملزم ڈاکٹر امول پاٹل سمیت پوری ٹیم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مستقبل میں اس طرح کی بے قاعدگیوں کو روکنے کیلئے پونے سے کام کرنے والا ایک خصوصی سیل اور فلائنگ اسکواڈ تشکیل دیا گیا ہے۔جبکہ اجے چودھری کےمطالبے کاجواب دیتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ’’ اس سلسلے میںوزیر اعلیٰ و وزیر داخلہ کے مشورے سے قانونی کارروائی کی جارہی ہے ۔‘‘
سرکاری اسپتالوں میں آئی وی ایف کا مطالبہ 
  اراکین اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ چونکہ بچہ پیدا نہ ہونے پر اب آئی وی ایف کا استعمال بڑے پیمانے پر کیاجانے لگا ہے لیکن یہ مہنگا ہونے کی وجہ سے غریب خواتین اس سے استفادہ نہیں کر پاتے ، اس لئے اسے سرکاری اسپتالوں میں بھی شروع کیاجاناچاہئے ۔ اسی کےساتھ سرکاری صحت کی اسکیموں میںبھی اسے شامل کر کے مفت سہولت مہیاکرانی چاہئے۔ وزیر صحت نے اس ضمن میں ضروری کارروائی کرنے کا یقین دلایا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK