Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹی ای ٹی پیپر لیٖک معاملے پر ودھان بھون میں احتجاج

Updated: June 30, 2026, 11:11 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نےکہا: حکومت نے امتحانات کو مذاق بنارکھا ہے۔ استعفے کا مطالبہ کیا۔

Protests.Photo;PTI
احتجاج۔ تصویر:پی ٹی آئی
 رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے مانسون اسمبلی اجلاس کے دوران پیر کو بینر لے کر ودھان بھون میں احتجاج کیا ۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ حکومت کو نیٹ، ایم پی ایس سی اور اس کے بعد ٹی ای ٹی   امتحان کے پرچے لیٖک ہونے پر اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے  ۔ اس سلسلے میں رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے کہا کہ ’’پہلے نیٹ کا پیپر کئی مرتبہ لیک ہوا،۲۲؍ تا ۲۳؍ لاکھ طلبہ نے اس کی تیاری کی تھی، ان کو پھر سے امتحان کیلئے تیاری کرنی پڑی جس کی وجہ ان کا کافی پیسہ، وقت ضائع ہوا اور انہیں ذہنی اذیت بھی ہوئی۔اب بھیونڈی میں ٹی ای ٹی کا پرچہ بھی لیٖک ہوگیا۔ حکومت نے امتحانات کو مذاق بنا رکھا ہے۔ ‘‘ انہوںنے یہ بھی کہا کہ ’’ریاست اور ملک میں لوٹ مچی ہے اور بدعنوانی کا بازار گرم ہے۔ بچے پڑھائی نہیں کر پارہے ہیں اور امتحان نہیں دے پارہے ہیں۔رام مندر سے چڑھاوا چوری ہو رہا ہے، اس حکومت کو اپنی ناکامی پر اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ جب بھی اس طرح کے پیپر لیک کا معاملہ ہوتا ہے تو عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دے دی جاتی ہے۔‘‘
ابوعاصم اعظمی نے کہاکہ’’ لال بہادر شاستری کی سرکار میں ٹرین حادثہ ہوا تھا، اس وقت وہ   وزیر ریل تھے ، انہوںنے اس کیلئے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا لیکن موجودہ حکومت بے شرم اور ہٹ دھرم سرکار ہے۔ یہ کسی کی سننے کو تیار نہیں ہے۔انہوںنے مزید کہا کہ’’ پیپر لیٖک معاملہ میں اور اراکین پارلیمان کے پارٹی تبدیل کرنے کے معاملہ پر احتجاج ہونا چاہئے۔ رام منوہر لوہیا نے کہا تھا کہ اگر سڑکیں سنسان ہو جائے گی تو سنسدآوارہ ہو جائے گی اور اب سڑک سنسان ہے اور کوئی احتجاج کرنے کو تیار نہیں ہے   اس لئے جو احتجاج کر رہے ہیں، ان کی حمایت کی جانی چاہئے۔‘‘
 
 
ٹی ای ٹی پیپر لیٖک معاملے پر اپوزیشن کا اسمبلی سے واک آؤٹ 
اسمبلی کے مانسون اجلاس میں  پیر کو اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں نے ’ ٹی ایم ٹی‘   پیپر لیٖک  معاملہ اٹھایا گیا  اور مطالبہ کیا کہ  چونکہ  اس سے ہزاروں اساتذہ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہےاور  مہاراشٹر کی شبیہ بھی خراب ہوئی ہے۔ اس لئے اس سلسلے میں معمول کے کام کاج سے قبل ایوان اسمبلی میں تفصیلی بحث کرائی جائے۔ جب اسپیکر نے اپوزیشن کے لیڈروں کی درخواست مسترد کر دی تولیڈران نے حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے ایوان اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔
  شیو سینا (یوبی ٹی) کے گروپ لیڈر بھاسکر جادھو نے کہاکہ ’’ ملک اور ریاست میں پیپر لیٖک ہونے کے واقعات اتنے بڑھ گئے ہیں کہ پیپر لیٖک میں مہاراشٹر دوسرے نمبر   پرآگیا ہے۔ نیٹ کا پیپر   لیٖک ہوا  اوراس کے ۱۱؍ میں سے ۷؍ملزمین مہاراشٹر کے ملے۔اس کے بعد ٹی ای ٹی  کے بھی پیپر لیٖک ہو رہے ہیں، اس امتحان کو پاس کرنا پرائمری اسکول ٹیچروں کیلئے لازمی قرار دیاگیا ہے اور حکومت کی جانب سے یہاں تک کہا گیا ہےکہ اگر ٹی ای ٹی امتحان پاس نہیں کیا تو ٹیچروں کو نوکری سے برخاست کیاجاسکتا ہے۔ سبکدوشی کے بعد کچھ نہیں ملے گا۔چونکہ یہ معاملہ مانسون اسمبلی جاری رہتے ہوئے ہوا ہے اس لئے پورا مہاراشٹر ایوان کی جانب دیکھ رہا ہے کہ آخر حکومت ٹی ای ٹی کے معاملہ پر کیا فیصلہ کرتی ہے۔‘‘  کانگریس کے گروپ لیڈر وجے وڈیٹیوار نے کہاکہ’’نیٹ اور ٹی ای ٹی کے امتحان کے پیپر لیک ہونے سے مہاراشٹر کی بدنامی ہو رہی ہے  اور حکومت ان امتحانات کو شفاف طریقے سے منعقد کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔  
 
 
  اسپیکر ایڈوکیٹ راہل نارویکر نے کہاکہ اگر اپوزیشن کو وقفہ ٔ سوالات کی جگہ پر ٹی ای ٹی امتحان کے پیپر لیٖک پر بحث کرنا تھا تو انہیں اصول ۵۷؍ کےتحت اسپیکر کو نوٹس دینا چاہئے جو نہیں دیا گیا ۔ اس کے علاوہ پیر کو چونکہ ضمنی بجٹ پر بحث ہے اس لئے ایسے دن خصوصی بحث کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے  ۔ اس لئے ٹی ای ٹی پر بحث کی اجازت نہیں دی جائے گی۔  اس دوران وزیر تعلیم دادا بھسے نے پیر کی شام وضاحت کرنے کا یقین دلایا لیکن اسپیکر کے اس فیصلہ کیخلاف نعرے لگاتے ہوئے اپوزیشن  لیڈروں نے واک آؤٹ کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK