امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ شدید لڑائی شروع ہوئی تو ایران خطے میں مواصلاتی کیبل، ڈیٹا سینٹرس اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تنصیبات کو نشانہ بنا ئے گا۔
محسن رضائی۔ تصویر: آئی این این
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ شدید لڑائی شروع ہوئی تو ایران خطے میں مواصلاتی کیبل، ڈیٹا سینٹرس اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تنصیبات کو نشانہ بنا ئے گا۔ ایران نے جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی جواب کو بھی ناکافی قرار دیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے مستقبل پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔العربیہ چینل کی رپورٹ کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے پیر کو کہا کہ تہران کو جنگ ختم کرنے کی تجویز پر امریکہ کا تازہ جواب تسلی بخش نہیں لگا۔ ان کے مطابق ایران نے امریکہ کو جواب دینا بند کر دیا ہے اور واشنگٹن کو بعض اہم معاملات پر وضاحت پیش کرنا ہوگی ۔رضائی نے بتایا کہ امریکہ نے ایران کی جانب سے پیش کردہ۷؍شرائط میں سے بعض کو قبول کر لیا ہے، تاہم دیگر شرائط کے حوالے سے صورت حال اب بھی واضح نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں دوبارہ شدید فوجی تصادم شروع ہوا تو ایران کی کارروائیوں کا دائرہ روایتی فوجی اہداف تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ کیبلز، ڈیٹا سینٹرس، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور دیگر مقامات بھی نشانے پر آ سکتے ہیں۔