• Tue, 13 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مادھوری دکشت کے شوہر شاہ رخ خان اور سلمان خان کو کیوں نہیں پہچانتے تھے؟

Updated: October 13, 2026, 7:02 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ مادھوری دکشت کے شوہر ڈاکٹر شری رام مادھو نینے نے انکشاف کیا ہے کہ جب ان کی شادی کے استقبالیہ میں شاہ رخ خان اور سلمان خان جیسے بڑے فلمی ستارے شریک ہوئے تو وہ دونوں کو پہچان بھی نہیں سکے تھے۔

Shriram And Madhuri.Photo:INN
مادھوری اور شری رام۔ تصویر:آئی این این

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ مادھوری دکشت کے شوہر ڈاکٹر شری رام مادھو نینے نے انکشاف کیا ہے کہ جب ان کی شادی کے استقبالیہ میں شاہ رخ خان اور سلمان خان جیسے بڑے فلمی ستارے شریک ہوئے تو وہ دونوں کو پہچان بھی نہیں سکے تھے۔ ان کا یہ دلچسپ انکشاف فلم ساز اور کوریوگرافر فرح خان کے حالیہ کھانے پکانے کے وی لاگ کے دوران سامنے آیا، جب وہ اپنے باورچی دلیپ کے ساتھ مادھوری دکشت اور ڈاکٹر نینے کے ممبئی واقع گھر پہنچیں۔ گفتگو کے دوران مادھوری کی محبت کی کہانی اور ۱۹۹۹ءمیں ہونے والی ان کی شادی کا ذکر چھڑا تو ڈاکٹر نینے نے بتایا کہ انہیں ہندی فلموں اور بالی ووڈ کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:فیم گروکل کے فاتح قاضی توقیر اور اریجیت سنگھ کی نئے پروجیکٹ کی تیاری

ڈاکٹر شری رام نینے نے بتایا کہ اکتوبر ۱۹۹۹ء میں مادھوری دکشت کے ساتھ شادی کے بعد منعقد ہونے والے استقبالیے میں فلمی دنیا کی متعدد مشہور شخصیات موجود تھیں، لیکن وہ ان میں سے زیادہ تر کو نہیں جانتے تھے۔ ان کے مطابق، وہ تقریب میں لوگوں کو مسکرا کر خوش آمدید کہتے رہے، حالانکہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ کون کون ان سے ملنے آرہا ہے۔ انہوں نے اس تجربے کو اسکول یا کالج کے کسی ایسے مقبول طالب علم جیسا قرار دیا جو تقریب میں سب کو ہاتھ ہلاتا رہے اور بعد میں تصاویر دیکھ کر لوگوں کو پہچاننے کی کوشش کرے۔ ڈاکٹر نینے نے بتایا کہ اس تقریب میں وہ صرف امیتابھ بچن کو پہچانتے تھے، کیونکہ انہوں نے ان کی فلم ’’امر اکبر انتھونی‘‘ دیکھی تھی۔ جب فرح خان نے حیرت سے پوچھا کہ کیا وہ شاہ رخ خان اور سلمان خان کو بھی نہیں جانتے تھے، تو ڈاکٹر نینے نے اس کی تصدیق کردی۔ 
  ڈاکٹر شری رام نینے نے وضاحت کی کہ ان کے لیے بالی ووڈ کے ستاروں سے ناواقف ہونا غیر معمولی بات نہیں تھی، کیونکہ وہ امریکہ میں پلے بڑھے تھے اور اس وقت لاس اینجلس میں رہ رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ہندی فلمیں نہیں دیکھتے تھے اور اس زمانے میں ہندی زبان بھی نہیں بولتے تھے۔ ان کی دلچسپی ہالی ووڈ کے فلم سازوں اسٹیون اسپیلبرگ اور جارج لوکاس کی فلموں اور مشہور سلسلے ’اسٹار وارز‘ میں تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مادھوری دکشت کی غیر معمولی شہرت کے باوجود وہ ان کے فلمی مقام سے واقف نہیں تھے۔ فرح خان نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ مادھوری جیسی بڑی اداکارہ کی شہرت سے ناواقف رہنا کیسے ممکن تھا، تاہم ڈاکٹر نینے نے واضح کیا کہ ان کی دلچسپی ہندوستانی فلموں سے مختلف تھیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’میں سعودی عرب سے تعلق رکھتا ہوں‘‘:رونالڈو نے سعودی پرچم والا اسکارف اوڑھا

مادھوری دکشت نے ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ڈاکٹر شری رام نینے سے شادی کی تھی۔ ڈاکٹر نینے پیشے کے اعتبار سے ماہرِ امراضِ قلب ہیں۔ دونوں کی ملاقات مادھوری کے بھائی کے ذریعے ہوئی تھی اور ابتدائی ملاقاتوں کے بعد ان کے درمیان قربت بڑھنے لگی۔ ڈاکٹر نینے کے مطابق، دونوں نے تقریباً تین ماہ تک ایک دوسرے کو سمجھنے اور ساتھ وقت گزارنے کے بعد شادی کا فیصلہ کیا اور انہوں نے مادھوری کو شادی کی پیشکش کردی۔ ان کی شادی اس وقت ہوئی جب مادھوری دکشت ہندوستانی سنیما کی مقبول ترین اداکاراؤں میں شمار ہوتی تھیں۔ شادی کے بعد مادھوری امریکہ منتقل ہوگئیں اور کچھ عرصے کے لیے فلمی سرگرمیوں سے دور رہیں۔ 
 مادھوری دکشت اور ڈاکٹر شری رام نینے کے دو بیٹے ہیں، آرین اور ریان۔ ان کے بڑے بیٹے آرین کی پیدائش ۲۰۰۳ء میں ہوئی، جبکہ چھوٹے بیٹے ریان  ۲۰۰۵ء میں پیدا ہوئے۔ یہ خاندان ۲۰۱۱ء میں امریکہ سے واپس  ہندوستان آگیا، جس کے بعد مادھوری نے فلموں اور ٹیلی ویژن میں دوبارہ سرگرمیاں شروع کیں۔ دونوں کی ازدواجی زندگی اور باہمی تعلقات اکثر مداحوں کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔
ڈاکٹر نینے کا یہ تازہ انکشاف اس لیے بھی دلچسپ ہے کہ ایک طرف مادھوری دکشت اس وقت بالی ووڈ کی صفِ اول کی اداکارہ تھیں، جبکہ دوسری طرف ان کے ہونے والے شوہر ہندوستانی فلمی ستاروں سے تقریباً ناواقف تھے۔ ان کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ بعض اوقات دو مختلف پس منظر رکھنے والے افراد کی ملاقات اور باہمی سمجھ بوجھ ایک کامیاب رشتے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK