خطہ بندیل کھنڈ کے قبائلی باشندے کبھی علامتی پھانسی لگا تے ہیں،کبھی ندی پرچِتا بناکرلیٹتے ہیں۔ ان کے مطابق پروجیکٹ سے اُنہیں بھاری نقصان ہوگا۔ وہ بے گھر ہوجائیں گے،لاکھوں درخت کاٹ دئیے جائینگے۔
EPAPER
Updated: August 28, 2026, 11:00 AM IST | Agency | Bhopal
خطہ بندیل کھنڈ کے قبائلی باشندے کبھی علامتی پھانسی لگا تے ہیں،کبھی ندی پرچِتا بناکرلیٹتے ہیں۔ ان کے مطابق پروجیکٹ سے اُنہیں بھاری نقصان ہوگا۔ وہ بے گھر ہوجائیں گے،لاکھوں درخت کاٹ دئیے جائینگے۔
مدھیہ پردیش کے ضلع چھترپور میں قبائلی برادریاں کین-بیتوا ندی جوڑ نے کے پروجیکٹ کے خلاف مختلف انداز میں احتجاج کر رہی ہیں۔ کہیں ’’آمرن انشن‘‘ یعنی مرنے تک بھوک ہڑتال جاری ہے، کہیں ’’چتا آندولن‘‘ کے ذریعے علامتی چتائیں سجائی جا رہی ہیں، کہیں ’’مٹی ستیہ گرہ‘‘ اور ’’جل ستیہ گرہ‘‘ ہو رہا ہے جس میں گائوں کے لوگ پانی میں کھڑے ہوکر احتجاج کررہے ہیں تو کہیں ’’پھانسی ستیہ گرہ ‘‘ کیا جارہا ہے جس میں گائوں کےلوگ علامتی پھانسی لگاتے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ کین-بیتوا پروجیکٹ کی وجہ سے ان کے گھر اور روزگار چھن گئے ہیں لیکن انہیں اب تک مناسب معاوضہ نہیں ملا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ان سے کئے گئےوعدوں کو نظرانداز کر دیا گیا ہے جبکہ انہیں پولیس جھوٹے مقدمات میں پھنسارہی ہے۔ بارانا ندی پر بنے پل کے نیچے جمع ہوکر یہ گائوںوالے کبھی چارپائیوں سے بنی علامتی ارتھیوں پر لیٹ کر احتجاج کرتے ہیں تو کبھی پانی میں اترکر علامتی پھانسی لیتے ہیں۔ ان چار پائیوں پر گائوں کے لوگ خصوصاً خواتین لیٹ کر اور ندی میں تیرتے ہوئے ریاستی حکومت کو اپنی جان دینے کی وارننگ دیتی ہیں۔ اسی مقام پر احتجاج کرنے والے ایک دوسرے گروپ نے گلے میں پھندے ڈال کر ’’پھانسی ستیہ گرہ‘‘ تک کیا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اسی کے تحت سماجی کارکن اور تحریک کے رہنما امیت بھٹناگر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ ان کی حالت بگڑنے پر انتظامیہ نے انہیں اسپتال منتقل کردیا ہے۔
دوسری جانب مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مظاہرین سے کئے گئے وعدے پورے کئےجا چکے ہیں۔ مکتوب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ضلع کلکٹر پارتھ جیسوال کا کہنا ہے کہ ’’ریاست نے راحت اور بازآبادکاری میں اضافہ کیا ہے لیکن اب وہ مزید چاہتے ہیں جوکہ ممکن نہیں ہے۔ ‘‘ واضح رہے کہ گائوں والوں اور انتظامیہ کے درمیان یہ تنازع بندیل کھنڈ کے خطے میں ہو رہا ہے۔ بندیل کھنڈ وسطی ہندوستان کا تقریباً ۷۰؍ ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ایک وسیع خطہ ہےجو گنگا کے میدانی علاقوں اور وندھیا پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ہے۔ اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کے ۱۳؍ اضلاع میں پھیلا یہ علاقہ دشوار گزار چٹانی زمین، گہری گھاٹیوں، بلند سطح مرتفع اور گھنے جنگلات کیلئے جانا جاتا ہے۔ عالمی شہرت یافتہ اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کھجوراہو مندر کمپلیکس کے علاوہ پنّا نیشنل پارک بھی اسی خطے میں واقع ہےلیکن بڑے پیمانے کے ہر ترقیاتی منصوبے کی طرح، خصوصاً ایسے منصوبے کے بارے میں جس میں مشینوں اور جدید انجینئرنگ کے ذریعے علاقے کے جغرافیہ کو ہی بڑے پیمانے پر تبدیل کیا جانا ہو، یہ سوال بھی اہم ہے کہ اس کا اثر ان ہزاروں خاندانوں پر کیسا ہو گا جو برسوں سے اس علاقے میں آباد ہیں۔مدھیہ پردیش کے چھترپور ضلع کے تقریباً دو درجن گاؤں کیلئے یہ خدشات اب ان کے گھروں کی دہلیز تک پہنچ چکے ہیں۔کین-بیتوا پروجیکٹ سے اس خطے کے ۵۰؍ ہزار سے زیادہ افراد براہ راست یا بالواسطہ طور پر متاثر ہوں گے۔ کچھ لوگوں کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونا پڑے گا جبکہ بعض کے روزگار کے وہ ذرائع بھی ختم ہو سکتے ہیں جو پہلے ہی انتہائی محدود اور غیر مستحکم ہیں۔اس منصوبے کے اثرات صرف انسانوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ جنگلی حیات کو بھی اس کی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ پنّا کے جنگلات میں کم از کم ۸۰؍ شیر موجود ہیں۔کم از کم ۵۰؍ لاکھ درخت کاٹ دئیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:نسل کشی کا مجرم ’بوسنیا کا قصاب‘ راتکوملادیچ کا ۸۴؍ برس کی عمر میں انتقال کر گیا
احتجاج کرنے والے خاندانوں کے ساتھ کام کرنے والےماحولیاتی اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان کی تشویش پروجیکٹ کی مخالفت تک محدود نہیں ہے۔ بندیل کھنڈ جیسے پانی کی قلت سے دوچار خطے میں پانی پہنچانے والے کسی بھی منصوبے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر پانی کی قیمت لوگوں کے معاشی مستقبل اور ماحول کو تباہ کرکے ادا کرنی پڑے تو یہ سودا قابل قبول نہیں ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب مظاہرین کی جنگلات پر منحصر روزی روٹی بھی خطرے میں پڑ رہی ہے۔
متاثرین کی بازآباد کاری حکومت کی ذمہ داری
اگرقبائلی خاندانوں کو اپنے گھر چھوڑنے ہی پڑتے ہیں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں باوقار اور پائیدار طریقے سے آباد کرے۔ اس کا مطلب محض چند ایک بار کا معاوضہ نہیں بلکہ مستقل متبادل روزگار، رہائش اور بنیادی سہولیات کی ضمانت ہونی چاہئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے ’’ہم انتظامیہ کو بتانا چاہتے ہیں کہ اگر اس مرتبہ ہمارے مطالبات پورے نہیں کئے گئے تو ہم اس پل کے نیچے خود کو پھانسی لگا لیں گے۔‘‘ ریاست میں بی جے پی حکومت کے خلاف اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے رکن اسمبلی امنگ سنگھار نے بھی بے گھر ہونے والے کچھ خاندانوں اور مظاہرین سے ملاقات کی۔ انہوں نے یقین دلایا ہےکہ ان کے خدشات کو پوری شدت کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور وزیر اعلیٰ موہن یادو کی حکومت پر متاثرین کی بازآبادکاری اور معاوضے کو یقینی بنانے کے لئے دباؤ ڈالا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:سوشل میڈیا سے بچوں کو بچانے کی کوشش تیز
کین بیتوا ندیوںکو جوڑنے کا پروجیکٹ کیا ہے؟
کین-بیتوا لنک پروجیکٹ دریا جوڑنے کاملک کا پہلا بڑا منصوبہ ہے۔ اس کے تحت ایک دریا کے طاس یعنی کین سے دوسرے دریا کے طاس تک پانی پہنچا یاجائے گا ۔ اس مقصد کیلئے زیر زمین دباؤ والی پائپ لائنوں کا استعمال کیا جائے گا۔اس منصوبے کی ابتدائی لاگت ۴۴؍ ہزار کروڑ روپے سے زائدہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد ۱۰؍ لاکھ ہیکٹر زرعی زمین کو آبپاشی کی سہولت حاصل ہوگی، ۶۲؍ لاکھ افراد کو پینے کا پانی فراہم کیا جا سکے گا اور ۱۳۰؍ میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔بندیل کھنڈ جیسے پانی کی قلت سے دوچار خطے میں آبپاشی اور پینے کے پانی کی فراہمی لاکھوں لوگوں کی زندگی بدل سکتی ہے لیکن اس منصوبے سے متاثر ہونے والے دسیوں ہزار مرد، خواتین اور بچوں کے لئے یہ سوال بھی اتنا ہی اہم ہے کہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد ان کی زندگی کس طرح چلے گی؟