Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۴؍ سال بعد بری ہونے کے باوجود سوال کیوں؟ سورج پنچولی کا ناقدین کو دوٹوک جواب

Updated: August 02, 2026, 9:09 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ اداکار سورج پنچولی نے اداکارہ جیا خان خودکشی کیس میں عدالت سے بری ہونے کے باوجود مسلسل اٹھنے والے سوالات پر خاموشی توڑتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک طویل بیان جاری کیا ہے۔

Sooraj And Jiah.Photo:INN
جیا اور سورج۔ تصویر:آئی این این

بالی ووڈ اداکار سورج پنچولی  نے اداکارہ جیا خان  خودکشی کیس میں عدالت سے بری ہونے کے باوجود مسلسل اٹھنے والے سوالات پر خاموشی توڑتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک طویل بیان جاری کیا ہے۔سورج پنچولی نے انسٹاگرام پر لکھا کہ وہ ۱۴؍سال تک عدالتی کارروائی کا سامنا کرتے رہے اور عدالت نے تمام شواہد، حقائق اور قانون کی بنیاد پر انہیں بے قصور قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں کوئی قانونی سوال اب تشنۂ جواب نہیں رہا۔انہوں نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا’’اگر آپ کہتے ہیں کہ کچھ سوالوں کے جواب نہیں ملے تو براہِ کرم واضح کریں کہ کون سے سوال؟ پہلے اپنے حقائق درست کریں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے:ورلڈ کپ کی مایوسی کے بعد لیونل میسی کی واپسی، انٹر میامی کا کولمبس کریو سےمیچ ڈرا


’’میں صرف ۲۰؍ سال کا تھا ‘‘
سورج نے بتایا کہ جب جیا خان کی موت کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، اس وقت وہ صرف ۲۰؍ سال  کے تھے اور جیا کو بمشکل  چار ماہ  سے جانتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمر میں انہیں اندازہ نہیں تھا کہ جیا اندر ہی اندر کس ذہنی اور جذباتی کیفیت سے گزر رہی تھیں۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Sooraj P (@soorajpancholi)


۱۴؍ سال میری زندگی رک گئی 
اداکار نے کہا کہ جس وقت انہیں اپنا فلمی کریئر بنانا چاہیے تھا، وہ عدالتوں کے چکر لگا رہے تھے۔انہوں نے لکھا’’میں نے انصاف کے نظام پر اعتماد رکھا اور ۱۴؍ سال بعد عدالت نے مجھے بری کر دیا۔ اگر اس کے بعد بھی لوگ مجھے قصوروار سمجھتے ہیں تو مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے اور کیا کر سکتا ہوں۔‘‘
جیا خان کی نجی زندگی کا احترام
سورج پنچولی نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی جیا خان کی ذاتی زندگی، ذہنی مسائل یا ان کے ساتھ شیئر کی گئی نجی باتوں کو عوام کے سامنے نہیں رکھا کیونکہ وہ ان کی پرائیویسی کا احترام کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ وہ بدلے میں صرف یہی چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ بھی  منصفانہ، ذمہ دارانہ اور حساس رویہ  اختیار کیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے:کنگنا رناوت کا رتیک روشن کو جواب’’اپنی ساتھی کو شرمندہ کرنا بند کریں‘‘


 میڈیا سے اپیل
اپنے بیان کے اختتام پر سورج پنچولی نے میڈیا سے درخواست کی کہ اگر ان کی کہانی بیان کی جائے تو  آدھی نہیں بلکہ پوری حقیقت  سامنے رکھی جائے، تاکہ عوام حقائق کی بنیاد پر رائے قائم کر سکیں۔واضح رہے کہ  ۲۰۲۳ء میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت  نے جیا خان خودکشی کیس میں شواہد کی کمی کی بنیاد پر سورج پنچولی کو تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK