ایک وائرل پوسٹ جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ’’رامائن‘‘ کے وی ایف ایکس کو صرف تین منٹ سے بھی کم وقت میں اے آئی کے ذریعے بہتر بنایا جا سکتا ہے، نے ٹیزر کے بصری اثرات پر شدید بحث کو دوبارہ بھڑکا دیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 06, 2026, 4:02 PM IST | Mumbai
ایک وائرل پوسٹ جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ’’رامائن‘‘ کے وی ایف ایکس کو صرف تین منٹ سے بھی کم وقت میں اے آئی کے ذریعے بہتر بنایا جا سکتا ہے، نے ٹیزر کے بصری اثرات پر شدید بحث کو دوبارہ بھڑکا دیا ہے۔
ایک وائرل پوسٹ جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ’’رامائن‘‘ کے وی ایف ایکس کو صرف تین منٹ سے بھی کم وقت میں اے آئی کے ذریعے بہتر بنایا جا سکتا ہے، نے ٹیزر کے بصری اثرات پر شدید بحث کو دوبارہ بھڑکا دیا ہے۔ ایکس پر۸۶۸؍ ہزار سے زائد ویوز حاصل کرنے والی اس پوسٹ کے بعدرتیک روشن بھی فلم کے دفاع میں سامنے آئے، اور یوں بالی ووڈ کی سب سے زیادہ متوقع فلم اپنی ریلیز (دیوالی ۲۰۲۶ء) سے کئی ماہ پہلے ہی تنقید کی زد میں آ گئی۔
۴۰۰۰؍ کروڑ روپے کی فلم، دو منٹ میں اے آئی سے اصلاح، اور سوشل میڈیا پر نہ ختم ہونے والی بحث۔ نتیش تیواری کی فلم رامائن، جس میں رنبیر کپور رام کا کردار ادا کر رہے ہیں، حالیہ دنوں میں بالی ووڈ کی سب سے گرما گرم بحثوں میں شامل ہو گئی ہےلیکن بات اس کی کاسٹ یا پیمانے کی نہیں، بلکہ اس کے ویژول ایفیکٹس کے معیار کی ہو رہی ہے۔
وائرل اے آئی اصلاح جس نے بلاک بسٹر کو چیلنج کیا
ایکس کی صارف مہیکا جادھو، جو اپنے پروفائل کے مطابق گروتھ اور اسٹریٹیجی پروفیشنل ہیں، نے ۴؍ اپریل کو ایک سائیڈ بائی سائیڈ موازنہ پوسٹ کیا جو تیزی سے وائرل ہو گیا اور۸۷۲؍ ہزار سے زیادہ ویوز حاصل کر گیا۔ ان کی تنقید خاصی واضح تھی: ٹیزر میں گرد جلد پر نہیں چپکتی، ہوا کی کوئی واضح سمت نہیں، بالوں پر اس کا اثر نہ ہونے کے برابر ہے اور روشنی طوفانی منظر سے ہم آہنگ نہیں لگتی۔ اے آئی ٹولز استعمال کرتے ہوئے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے صرف ۲؍ سے۳؍ منٹ میں ان فزکس کے مسائل کو درست کر دیا۔ بالوں میں ہوا کے بہاؤ کو شامل کیا، گرد کے ذرات کو جلد کے ساتھ تعامل میں لایا اور روشنی کے پھیلاؤ کو حقیقت کے مطابق بنایا۔
I fixed basic physics which a 4000 Cr film couldn`t.
— Mahika Jadhav (@mahikaa101) April 4, 2026
And somehow… the dust doesn’t stick, the wind has no direction, hair barely reacts, and lighting ignores the storm.
I just made the hair flow with wind vectors, added particle interaction on skin, fixed light scattering in… pic.twitter.com/i8czSQVcJ9
انہوں نے لکھاکہ ’’میں نے وہ بنیادی فزکس درست کر دی جو ۴۰۰۰؍ کروڑ کی فلم نہ کر سکی۔ ‘‘ اور مزید کہاکہ ’’یہ میں نے صرف ۲۔۳؍ منٹ میں کیا، شکریہ اے آئی!‘‘ پہلے اور بعد کی تصاویر میں واضح فرق تھا، اور اس پوسٹ نے ایسے وقت میں لوگوں کو متاثر کیا جب ناظرین پہلے ہی ٹیزر کے بارے میں منقسم تھے۔
کچھ صارفین نے سخت ردعمل دیا، ایک نے کہا:’’یہ فلم تو گئی، ایک اورآدی پُروش جیسی ناکامی ہوگی۔‘‘ جبکہ ایک اور نے اے آئی کی طاقت پر تبصرہ کیا: ’’ ماننا پڑے گا، اب یہ زیادہ حقیقت کے قریب لگ رہا ہے، لیکن یہ بھی ڈراؤنا ہے کہ اے آئی اتنی جلدی یہ سب ٹھیک کر سکتی ہے—پھر بڑے بجٹ کا کیا فائدہ؟ ‘‘
یہ بھی پڑھئے:آئی پی ایل: آر سی بی کی شاندار جیت، سی ایس کے کو مسلسل تیسری شکست
کئی لوگوں نے کہا کہ اے آئی والا ورژن اصل سے بہتر لگ رہا ہے اور امید ظاہر کی کہ فلم ساز ابھی بھی وی ایف ایکس میں بہتری لا سکتے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا: ’’یہ واقعی بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔ چاہے ہم ان خامیوں کو شعوری طور پر نہ بھی دیکھیں، ہمارا لاشعور فوراً محسوس کر لیتا ہے کہ کچھ غیر حقیقی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:انٹرنیٹ پررنویر سنگھ کے ذریعہ شریا گھوشال کی نقل کا ویڈیو وائرل
تنقید کے دائرے میں فلم اور ایک بالی ووڈ اسٹار کا ردعمل
ٹیزر کے اجرا کے بعد کچھ لوگوں نے فلم کے پیمانے اور وژن کی تعریف کی، جبکہ دوسروں نے زیادہ سی جی آئی کے استعمال کو تنقید کا نشانہ بنایا، اسے ’’ویڈیو گیم‘‘ جیسا قرار دیا۔ یہ فلم نمیت ملہوترہ کے پرائم فوکس اسٹوڈیوز، آسکر یافتہ وی ایف ایکس کمپنی ڈی این ای جی (جو Dune اور Interstellar جیسی فلموں پر کام کر چکی ہے) اور یش کی مونسٹر مائنڈ کریئیشنز کے اشتراک سے بنائی جا رہی ہے۔ اسی مضبوط پس منظر کی وجہ سے تنقید نے حامیوں کو مزید متاثر کیا ہے۔