بینک آف فرانس نے کہا ہے کہ اس نے نیویارک میں رکھے اپنے بقیہ سونے کے ذخائر کو واپس لے لیا ہے اور اس کی جگہ پیرس میں واقع اپنے ذخائر میں یکساں مقدار کا سونا رکھ لیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 06, 2026, 5:10 PM IST | Paris
بینک آف فرانس نے کہا ہے کہ اس نے نیویارک میں رکھے اپنے بقیہ سونے کے ذخائر کو واپس لے لیا ہے اور اس کی جگہ پیرس میں واقع اپنے ذخائر میں یکساں مقدار کا سونا رکھ لیا ہے۔
بینک آف فرانس نے کہا ہے کہ اس نے نیویارک میں رکھے اپنے بقیہ سونے کے ذخائر کو واپس لے لیا ہے اور اس کی جگہ پیرس میں واقع اپنے ذخائر میں یکساں مقدار کا سونا رکھ لیا ہے۔ بینک کے مطابق یہ مقدار۱۲۹؍ ٹن ہے، جو اس کے سونے کے کل ذخائر کا تقریباً پانچ فیصد ہے۔ فرانس طویل عرصے سے اپنے سونے کے کچھ ذخائر کو فیڈرل ریزرو بینک آف نیویارک میں رکھتا آیا تھا۔
فرانس نے۱۹۶۰ء کی دہائی میں ہی اپنے سونے کے ذخائر کی واپسی کا عمل شروع کردیا تھا، جب حالات بریٹن ووڈس سسٹم کے خاتمے کی طرف بڑھے۔ اس کے باوجود نیویارک میں تھوڑی مقدار میں اب تک سونا رکھا ہواتھا۔ پچھلی دو دہائیوں میں بینک پرانے یا غیر معیاری سونے کے ذخائر کو جدید بین الاقوامی معیارات کے مطابق بار سے تبدیل کر رہا ہے۔ فرانس نے ۲۰۲۴ء کے داخلی جائزے کے بعد جولائی ۲۰۲۵ء اور جنوری ۲۰۲۶ء کے درمیان امریکہ میں رکھے سونے کو تبدیل کرنے کا عمل مکمل کیا۔
اس عمل میں، براہ راست سونا لانے کے بجائے اسے فروخت کرکے یورپ میں نئے معیار کے گولڈ بار خریدے گئے۔ بینک کے گورنر فرانسس ویلروئے ڈی گالہاؤ نے کہا کہ پیرس میں سونے کے نئے ذخائر کو ذخیرہ کرنے کا فیصلہ سیاسی نہیں ہے، بلکہ یہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء: سیکوریٹی خدشات پر ایران کا امریکہ جانے سے انکار
اس اقدام کے نتیجے میں سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے بینک کو تقریباً ۱۳؍ ارب یورو (۱۵؍ ارب ڈالر) کا سرمایہ جاتی منافع ہوا۔ اس سے بینک نے ۲۰۲۵ء میں۱ء۸؍ ارب یورو کا خالص منافع ریکارڈ کیا جبکہ۲۰۲۴ء میں ۷ء۷؍ ارب یورو کا خسارہ ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:فلم ’’رامائن‘‘ کے طبیعیات کے بنیادی اصول درست کرنے والی خاتون کا پوسٹ وائرل
فرانس کے سونے کے کل ذخائر تقریباً ۲۴۳۷؍ ٹن پر مستحکم ہیں، جو اب مکمل طور پر پیرس میں زیر زمین ذخیرہ کرنے کی سہولیات میں رکھے گئے ہیں۔ بینک نے کہا کہ تقریباً۱۳۴؍ ٹن سونے کو اب بھی جدید معیارات کے مطابق بہتر کرنے کی ضرورت ہے، جو ۲۰۲۸ء تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔