• Sun, 25 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دنیا کے سست ترین ٹریفک والے ٹاپ ۱۰؍ شہروں میں چار ہندوستانی

Updated: January 25, 2026, 1:04 PM IST | New Delhi

دنیا بھر کے ٹریفک اعداد و شمار میں ہندوستان کے چار بڑے شہر سست ترین ڈرائیونگ رفتار اور بدترین ٹریفک جام کی فہرست میں آ گے ہیں۔ ٹوم ٹوم ٹریفک انڈیکس ۲۰۲۵ء کے مطابق بنگلور دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ ٹریفک جام والا شہر ہے۔یہ رپورٹ شہری زندگی، اقتصادی پیداواری صلاحیت اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو ظاہر کرتی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

بین الاقوامی ٹریفک تجزیاتی کمپنی ٹوم ٹوم ٹریفک انڈیکس ۲۰۲۵ء کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ٹریفک کی حالت پہلے سے بھی زیادہ بگڑ گئی ہے۔ رپورٹ میں تقریباً ۵۰۰؍ شہروں کا تجزیہ کیا گیا، جس میں ہندوستان کے چار بڑے شہر، بنگلور، حیدرآباد، چنئی اور احمد آباد، بین الاقوامی درجہ بندی میں شامل ہوئے ہیں، جہاں ڈرائیونگ رفتار انتہائی سست اور ٹریفک جام کے معاملات بڑھ گئے ہیں۔

بنگلور
رپورٹ کے مطابق بنگلور دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ ٹریفک جام والا شہر بن گیا ہے۔ یہاں کا اوسط ٹریفک جام لیول ۴ء۷۴؍ فیصد ہے، جس کا مطلب ہے کہ ڈرائیور عام سفر کے مقابلے میں بڑھتی ہوئی بھیڑ اور سست رفتار کی وجہ سے تقریباً تین چوتھائی اضافی وقت ضائع کرتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بنگلور میں ۱۰؍ کلومیٹر کا سفر ۳۶؍ منٹ تک لے لیتا ہے جبکہ شہری سالانہ تقریباً ۱۶۸؍ گھنٹے ٹریفک میں ضائع کرتے ہیں۔ اس شہر میں ٹریفک کی بڑھتی ہوئی تعداد، سڑکوں کی ناکافی توسیع، پارکنگ کی کمی، اور مجوزہ انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں تاخیر جیسے عوامل شامل ہیں، جنہوں نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے۔ بہت سے شہری روزانہ ٹریفک جام کی وجہ سے دیر سے کام پر پہنچتے ہیں، جس سے پیداوار اور ذہنی تناؤ بڑھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سڑک سرکشا ابھیان ۲۰۲۶ء کا آغاز، نتن گڈکری کی قیادت میں ممبئی میں ٹیلی تھون

حیدرآباد
تلنگانہ کا دارالحکومت چوتھے نمبر پر ہے جس کی رفتار ۴ء۱۸؍ کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ یہاں مسافر ۱۵؍ منٹ میں اوسطاً ۶ء۴؍ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہیں۔ ہر سال ٹریفک میں ۱۲۳؍ گھنٹے ضائع ہوتے ہیں۔ 

چنئی
تمل ناڈو کا دارالحکومت دنیا کا آٹھواں سست ترین ٹریفک والا شہر ہے۔ مسافر ایک گھنٹے میں ۲ء۱۹؍ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرپاتے ہیں۔ ٹریفک میں پھنس جانے کی وجہ سے ہر سال ۱۳۲؍ گھنٹے ضائع ہوتے ہیں۔

احمد آباد
گجرات کا سب سے بڑا شہر ۱۰؍ ویں نمبر پر ہے۔ ایک گھنٹے میں صرف ۷ء۲۰؍ کلومیٹر کا فاصلہ ہی طے کرپاتے ہیں۔ ٹریفک میں پھنسے لوگوں کا ہر سال ۱۰۶؍ گھنٹہ ضائع ہوتا ہے۔

دیگر شہر
اس فہرست میں پہلے نمبر پر لندن، تیسرے پر میکسیکو سٹی، پانچویں پر بگوٹا، چھٹے پر نیویارک سٹی، ساتویں پر بیونس آئرس، اور نویں نمبر پر پیرس ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بنگلور میں بائیک ٹیکسی کی واپسی ،کرناٹک ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ پلٹا

ٹریفک کے بڑھتے رجحان کے اسباب
ٹوم ٹوم رپورٹ کے تجزیے کے مطابق، آبادی میں تیزی سے اضافہ، گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، ناقص شہری منصوبہ بندی، اور پبلک ٹرانسپورٹ کے محدود وسائل اس بحران کے بنیادی اسباب ہیں۔ عالمی سطح پر بھی ٹریفک جام بڑھ رہا ہے، جہاں صرف چند شہروں نے اپنی اندرون شہروں کی رفتار میں بہتری دیکھی ہے۔
ہندوستان کے بڑے شہروں میں ٹریفک جام نہ صرف شہریوں کا وقت ضائع کر رہا ہے بلکہ یہ سماجی، اقتصادی اور ماحولیاتی مسائل کو بھی جنم دے رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر میں مناسب سرمایہ کاری، سائیکل لینز، پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کی توسیع، اور سمارٹ ٹریفک منیجمنٹ ضروری ہے تاکہ شہریوں کو بہتر سفر تجربہ مل سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK