Updated: October 15, 2026, 7:03 PM IST
| Mumbai
ویڈیو شیئرنگ کے معروف پلیٹ فارم یوٹیوب نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کی جانے والی موسیقی کی شناخت اور اس کی نشاندہی کے نظام پر توجہ بڑھا دی ہے۔ موسیقی کی تخلیق میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث اب ایسے گانے اور دھنیں بھی سامنے آ رہی ہیں جنہیں مکمل طور پر یا جزوی طور پر اے آئی ٹولز کی مدد سے تیار کیا جاتا ہے۔
یوٹیوب ٹی وی ۔ تصویر:آئی این این
ویڈیو شیئرنگ کے معروف پلیٹ فارم یوٹیوب نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کی جانے والی موسیقی کی شناخت اور اس کی نشاندہی کے نظام پر توجہ بڑھا دی ہے۔ موسیقی کی تخلیق میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث اب ایسے گانے اور دھنیں بھی سامنے آ رہی ہیں جنہیں مکمل طور پر یا جزوی طور پر اے آئی ٹولز کی مدد سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس پیش رفت نے موسیقی کی صنعت میں تخلیق کاروں کے حقوق، اصل فنکاروں کی شناخت، مواد کی شفافیت اور سامعین کو درست معلومات فراہم کرنے سے متعلق نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
یوٹیوب پر اے آئی سے تیار کردہ موسیقی کی نشاندہی کا مقصد سامعین کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ وہ جو مواد سن رہے ہیں، اس کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ہوا ہے یا نہیں۔ تاہم، اس طرح کی نشاندہی کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ ایسے گانوں کو پلیٹ فارم سے ہٹا دیا جائے گا یا انہیں سننے پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ اصل معاملہ مواد کی شناخت، متعلقہ پالیسیوں پر عمل درآمد اور فنکاروں کے حقوق کے تحفظ سے جڑا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شامی حجام نے کرسٹیانو رونالڈو سے اچانک ملاقات کی دلچسپ کہانی سنادی
یوٹیوب کے مطابق۱۴؍ اکتوبر ۲۰۲۶ءسے یوٹیوب میوزک پر ایسے گانوں کے لیے نئے لیبل متعارف کرانے کا عمل شروع ہوگیا ہے جن کی تخلیق میں مصنوعی ذہانت نے نمایاں کردار ادا کیا ہو، مثلاً دھن یا آواز تیار کرنے کے لیے جنریٹیو اے آئی کا استعمال۔ یہ لیبل گانے کے پلے بیک صفحے پر دکھائی دے گا اور اس پر ٹیپ کرنے سے مزید معلومات حاصل کی جا سکیں گی۔ کمپنی نے بتایا ہے کہ یہ نظام بعد میں مرکزی یوٹیوب پلیٹ فارم پر بھی پھیلایا جائے گا۔
یوٹیوب موسیقی کے شراکت داروں سے توقع کرتا ہے کہ وہ گانے اپ لوڈ کرتے وقت یہ واضح کریں کہ مواد مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے، جزوی طور پر اے آئی کا استعمال ہوا ہے یا اس کی تخلیق میں اے آئی کا استعمال نہیں کیا گیا۔ اس کے ساتھ کمپنی اپنے شناختی نظام اور دستیاب معلومات سے بھی مدد لے گی۔ اگر اپ لوڈ کرنے والے کی جانب سے تفصیلات فراہم نہ کی گئی ہوں تو یوٹیوب دیگر اشاروں کی بنیاد پر بھی گانے کو مکمل یا جزوی طور پر اے آئی سے تیار کردہ قرار دے سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:رشمیکا کام کے بعد خود کو الگ کرلیتی ہیں، میں ایسا نہیں کر پاتا: وجے دیورا کونڈا
نئے لیبل کا مقصد موسیقی کے اصل ماخذ کے بارے میں شفافیت پیدا کرنا ہے، نہ کہ ہر اے آئی سے تیار کردہ گانے کو حذف کرنا۔ یوٹیوب کی عمومی پالیسی کے مطابق، صرف اے آئی کے استعمال کی نشاندہی سے لازماً کسی ویڈیو کی رسائی محدود نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کی آمدنی حاصل کرنے کی اہلیت خودبخود ختم ہوتی ہے۔ البتہ، تخلیق کار اگر مسلسل ضروری معلومات چھپائیں تو پلیٹ فارم ان کے مواد پر خود لیبل لگا سکتا ہے یا اپنی پالیسیوں کے تحت کارروائی کر سکتا ہے۔
اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے اب دھنیں، گلوکاری جیسی آوازیں اور مکمل موسیقی تیار کرنا پہلے سے آسان ہوگیا ہے۔ ایسے میں سامعین کے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ کسی گانے کی تخلیق میں انسانی فنکاروں اور مصنوعی ذہانت کا کیا کردار رہا ہے۔ نئی نشاندہی موسیقی کے بارے میں زیادہ واضح معلومات فراہم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جبکہ فنکاروں اور موسیقی کی کمپنیوں کے لیے بھی یہ اہم ہے کہ ان کے کام اور آواز کی نقل کے معاملے میں حقوق اور اجازت کے تقاضوں کا احترام کیا جائے۔