گھنے جنگلات، بلند و بالا پہاڑ، شفاف جھرنے، عظیم الشان آبشار اور رنگا رنگ قبائلی تہذیب کی وجہ سے بستر ملک کے اہم سیاحتی خطوں میں شمار ہوتا ہے۔
چھتیس گڑھ میں واقع چترکوٹ آبشار-تصویر:آئی این این
چھتیس گڑھ کا بستر خطہ ہندوستان کے ان چند علاقوں میں شامل ہے جہاں فطرت، تاریخ، ثقافت اور قبائلی روایات ایک دوسرے میں اس طرح گھل مل گئی ہیں کہ پورا خطہ ایک زندہ عجائب گھر کا منظر پیش کرتاہے۔ گھنے جنگلات، بلند و بالا پہاڑیاں، شفاف جھرنے، عظیم الشان آبشاریں، قدیم مندروں اور رنگا رنگ قبائلی تہذیب کی وجہ سے بسترملک کے اہم سیاحتی خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ جگدل پور اس خطے کا مرکزی شہر ہے، جہاں سے مختلف سیاحتی مقامات تک آسانی سے پہنچا جا سکتا ہے۔بستر کا سفر صرف قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ ہندوستان کی قدیم قبائلی تہذیب اور ثقافت کو قریب سے جاننے کا ایک منفرد موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
چترکوٹ آبشار
بستر کا سب سے مشہور سیاحتی مقام چترکوٹ آبشار ہے، جسے اکثر ’ہندوستان کا نیاگرا‘کہا جاتا ہے۔ دریائے اندراوتی پر واقع یہ آبشار تقریباً ۹۵؍فٹ کی بلندی سے نیچے گرتا ہے اور برسات کے موسم میں اس کی چوڑائی کئی سو میٹر تک پہنچ جاتی ہے۔جب بارش کے دوران پانی پوری قوت کے ساتھ نیچے گرتا ہے تو اس کامنظر نہایت دلکش اور ہیبت ناک محسوس ہوتا ہے۔ سورج کی روشنی میں پانی کے قطروں سے بننے والی قوسِ قزح اس حسن میںچار چاند لگا دیتی ہے۔ شام کے وقت یہاں خصوصی روشنیوں کا انتظام بھی کیا جاتا ہے، جس سے آبشار کا منظر اور بھی حسین ہو جاتا ہے۔کشتی رانی کی سہولت بھی موجود ہے، جس کے ذریعے سیاح آبشار کے قریب جا کر اس کی عظمت کو محسوس کر سکتے ہیں۔
کنگیر ویلی نیشنل پارک
بستر کا کنگیر ویلی نیشنل پارک ملک کے خوبصورت ترین جنگلاتی محفوظ علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تقریباً ۲۰۰؍مربع کلومیٹر پر پھیلا یہ پارک گھنے سال کے درختوں، نایاب نباتات اور جنگلی حیات کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں چیتے، ریچھ، جنگلی بلیاں، ہرن اور پرندوں کی متعدد اقسام دیکھی جا سکتی ہیں۔ فطرت اور فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے یہ مقام جنت سے کم نہیں۔
تیرتھ گڑھ آبشار
کنگیر ویلی نیشنل پارک کے اندر واقع تیرتھ گڑھ آبشار بستر کی دوسری بڑی قدرتی کشش ہے۔ یہ آبشار تقریباً ۳۰۰؍فٹ کی بلندی سےکئی مرحلوں میں نیچے آتا ہے، جس کی وجہ سے اسے سیڑھی نما آبشار بھی کہا جاتا ہے۔ چاروں جانب گھنے جنگلات، پہاڑی چٹانیں اورپرندوں کی آوازیں اس مقام کو ایک روح پرور ماحول عطا کرتی ہیں۔برسات اور سردیوں کے موسم میں یہاں آنے والے سیاح قدرت کے انتہائی دلکش مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
کٹومسر غار
کنگیر ویلی نیشنل پارک کے اندر واقع کٹومسرغار ہندوستان کی طویل ترین قدرتی غاروں میں شمار ہوتاہے۔ یہ غار چونے کے پتھروں سے بناہوا ہے اور اس کے اندر مختلف قدرتی اشکال ہزاروں برس کے عمل سے وجود میں آئی ہیں۔غار کے اندر مکمل تاریکی، ٹھنڈی فضا اور خاموشی ایک منفرد تجربہ فراہم کرتی ہے۔ یہاں ایک نایاب قسم کی اندھی مچھلی بھی پائی جاتی ہے جو روشنی کے بغیر زندگی گزارنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کیلاش غار
کیلاش غار بھی بسترکے اہم قدرتی عجائبات میں شامل ہے۔ اس غارکی دریافت نسبتاً حالیہ دور میں ہوئی تھی، لیکن اس کے اندر موجود چونے کے پتھر سے بنی قدرتی ساختیں دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہیں۔بعض قدرتی ستون اور اشکال ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے کسی ماہر سنگتراش نے انہیں تراشا ہو، حالانکہ یہ سب قدرتی عمل کا نتیجہ ہیں۔
بستر پیلس
جگدل پور میں واقع بستر پیلس اس خطے کے شاہی ماضی کی یاد دلاتاہے۔یہ محل بستر کے سابق حکمرانوں کی رہائش گاہ تھا اور آج بھی اپنی قدیم شان و شوکت کا احساس دلاتا ہے۔اگرچہ محل کے بعض حصوں میں وقت کے اثرات نمایاں ہیں، لیکن اس کی تعمیر اور اندرونی ڈیزائن دکنی اور یورپی فنِ تعمیر کے امتزاج کی بہترین مثال پیش کرتے ہیں۔
بستر ہاٹ بازار
بستر کے ہفتہ وار بازار اس خطے کی ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔ یہاں مختلف قبائل اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ بانس کی مصنوعات، لوہے کےبرتن، زیورات، لکڑی کی دستکاری اور روایتی کپڑے فروخت کرتے ہیں۔یہ بازار صرف تجارت کے مراکز نہیں بلکہ سماجی اور ثقافتی میل جول کا بھی اہم ذریعہ ہیں۔ سیاح یہاں سے یادگار کے طور پر منفرد قبائلی مصنوعات خرید سکتے ہیں۔جگدل پور میں قائم قبائلی عجائب گھر بسترکی تہذیب و ثقافت کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم مقام ہے۔