Inquilab Logo Happiest Places to Work

بٹوارہ۱۹۴۷ء: حب الوطنی کا پیغام دینے والی ایک بہترین فلم

Updated: August 15, 2026, 12:57 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai

تقسیم ہند کے موضوع پر ایک منفرد قسم کی فلم، اس فلم کو بنیادی طور پر شبانہ اعظمی کی فلم بھی قرار یا جاسکتا ہے جنہوں نے بہترین اداکاری کا مظاہرہ کیا ہے۔

Sunny Deol and others can be seen in a scene from the film `Batwara 1947`. Picture: INN
فلم’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘ کے ایک منظر میںسنی دیول اور دیگر کو دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

بٹوارہ ۱۹۴۷ (Batwara 1947)
اسٹارکاسٹ:شبانہ اعظمی، سنی دیول، پریتی زنٹا، علی فضل،کرن دیول، ایشا سندھیر،ابھیمنیو سنگھ،وجینت کوہلی،سندیپ چٹرجی
ڈائریکٹر:راج کمار سنتوشی
 رائٹر:راج کمار سنتوشی، اصغر وجاہت
 پروڈیوسر:عامر خان،اپرنا پروہت
موسیقار:اے آر رحمان 
گیت کار:جاوید اختر
گلوکار:انورادھا پوڈوال، شان، سونو نگم،اریجیت سنگھ
سنیماٹو گرافر:سنتوش سیوان
ایڈیٹر:شیام سلگائونکر 
پروڈکشن ڈیزائن:سبرتا چکرورتی، امیت رے
آرٹ ڈائریکٹر:اویشیک بوس 
کاسٹیوم:میکسیما بوس
 ریٹنگ: ****

یہ بھی پڑھئے: بالی ووڈ کے کئی نغمے آج بھی حب الوطنی کے جذبے کو بلند کرتے ہیں

حب الوطنی کے موضوع پر یوں تو آج کل بہت ساری فلمیں بن رہی ہیں لیکن وہ زیادہ تر ایک ہی ڈھرے پر ہوتی ہیں۔فلم سازوں اور ہدایت کاروں نے ایک مخصوص فارمولہ تیار کرلیا ہے جس پرفلمیں بنائی جاتی ہیں۔ لیکن حب الوطنی صرف وہیں تک مخصوص نہیں ہے کہ کسی جاسوس کو پاکستان بھیج دیا جائے اور خفیہ آپریشن کروایا جائے یاوہاں گھس کر دہشت گردوں کو ہلاک کیا جائے۔ عامر خان پروڈکشن کے تحت راج کمار سنتوشی کی ہدایت کاری میں بنائی گئی سنی دیول،شبانہ اعظمی اور پریتی زنٹا کی اداکاری سے سجی نئی فلم میں انسانیت کو مقدم رکھا گیا ہے جو حقیقی حب الوطنی کا مرکز ہوتی ہے۔اس فلم کے ذریعہ یہی پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے جو سنی دیول کا ڈائیلاگ بھی ہے کہ’کوئی مذہب اچھا یا برا نہیں ہوتا،بر ا آدمی ہوتا ہے۔ ‘ اصغر وجاہت کے مشہور زمانہ ڈرامے’جس لاہور نہیں ویکھیا، وہ جنمیا ہی نہیں‘پر مبنی اس فلم میں ملک کی آ زادی اور بٹوارے کے بعد کے حالات پیش کئے گئے ہیں کہ نہ کوئی مسلمان برا ہے اور نہ ہی کوئی ہندو، برے تو محض وہ لوگ ہیں جواپنی سیاست چمکانا چاہتےہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کیا آپ جانتے ہیں؟ ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو ریلیز ہونے والی پہلی فلم کون سی تھی؟

فلم کی کہانی

فلم کی کہانی آزادی کے اعلان کے بعدسے شروع ہوتی ہے جب میرٹھ میں رہنے والے کاروباری شخص سکندر مرزا(سنی دیول ) اپنی بیگم (پریتی زنٹا) کے ساتھ آزادی کاجشن منارہے ہوتے ہیں لیکن اس خوشی کو خوف میں بدلتے ہوئے فسادات شروع کردیئے جاتےہیں۔ اپنے گھر کی چھت سے مسلمانوں کو مارے جانے کا منظر دیکھ کر سکندر مرزا پاکستان کے شہر لاہورمنتقل ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ وہ کسی طرح اپنی بیوی اور چھوٹی بیٹی کے ساتھ وہاں پہنچ جاتے ہیں لیکن ان کا بیٹا نہیں پہنچ پاتا۔ اپنے بیٹے کی گمشدگی اوربیٹی کی بیماری میں ریلیف کیمپ میں رہناان کیلئے مشکل ہوتا ہے تو وہ حکومت سے گھر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ انہیں نہیں مل پاتا۔ ایسے میں ایک شاعر حبیب انور(علی فضل)انہیں اپنا گھر دے دیتا۔ جب سکندر اس گھر میں رہنے جاتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اوپری منزل پر کوئی اور پہلے سے موجودہے۔پتہ چلتا ہے کہ وہ اس گھر کے پہلے مالک کی ماں(شبانہ اعظمی)ہے جو اکیلی رہ گئی ہے اور اس کا پورا خاندان مارا جاچکا ہے۔ایسے میں’مائی‘اپنا گھر چھوڑنا نہیں چاہتی۔ ابتدائی ٹکرائو کے بعد پردے پر دو ایسے خاندانوں کی کہانی ابھرتی ہے جس میں ایک اپنا گھر بار چھوڑ کر آیا ہے تو دوسرا اپنا گھر چھوڑنا نہیں چاہتا۔ لیکن دھیرے دھیرے کہانی مذہب اور بٹوارے سے بڑھ کر ایک ایسے موڑ پر پہنچ جاتی ہے جو سوچنے پر مجبور کردیتاہے کہ جس مذہب کے نام پر اس قدر قتل عام ہوا ہے وہ حقیقت میں ہے کیا؟ اسے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ خونریزی کسی مذہب کے سبب نہیں سیاسی خواہشات کے سبب ہوتی آئی ہے۔کہانی کے موڑ اوراس وقت کے حالات کی عکاسی دیکھنے کیلئے آپ کو تھیٹر تک جانا ہوگا۔

ہدایت کاری

راج کمار سنتوشی ایک ماہر ہدایت کار مانے جاتے ہیں اور اس فلم کے ذریعہ بھی انہوں نے اپنی مہارت کا ثبوت دیا ہے۔فلم کا اسکرین پلےکافی عمدہ ہے، کئی چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ ایڈیٹنگ تھوڑی اور چست ہوسکتی تھی۔ خاص طور پر فلم کے پہلے ہاف میں کہانی کھنچی ہوئی محسوس ہوتی ہے لیکن انٹرول کے بعد کئی ٹوئسٹ اور ٹرنز کے سبب ناظرین کو باندھے رکھتی ہے۔خاص طور پر فلم کاپیغام آپ کو کچھ اور سوچنے کا موقع نہیں دیتا۔سنیماٹوگرافی بھی کافی عمدہ ہے جس میں پرانے طرز کی کاریں،گھوڑا گاڑی کسی حد تک۸۰؍ سال پہلے کا منظرپیش کرتے ہیں۔ گیت زیادہ نہیں ہیں لیکن جو بھی ہیں ان میں اے آر رحمان اور جاوید اختر کی جھلک صاف محسوس کی جاسکتی ہے۔ فلم میں ایک بھجن بھی رکھا گیا ہے۔شبانہ اعظمی پر فلمائے گئے اس بھجن کو لکھا جاوید اختر نے،موسیقی سے سجایا اے آر رحمان نے جبکہ گایا انورادھا پوڈوال اور شان نے ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’مالامال ویکلی ۲‘‘ :پرانی کاسٹ کی واپسی، پریش، رتیش اورراجپال پھر ایک ساتھ

اداکاری

شبانہ اعظمی کی اداکاری کو فلم کی جان قرار دیا جاسکتا ہے، سنی دیول نےبھی ایکشن کے ساتھ جذباتی مناظر کو عمدگی سے پیش کیا ہے، پریتی زنٹا بھی بہت دنوں بعد پردے پر آکر خوشگوار احساس پیدا کرتی ہیں، انہیں دیکھ کر لگتا ہےکہ انہوں نے اپنے کردار میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیںرکھی ہے۔دیگر اداکاروں میں یعقوب پہلوان نامی منفی کردار ادا کرنے والے ابھیمنیو سنگھ نے بھی اپنے کردار سے انصاف کیا ہے۔ کرن دیول کی اداکاری بھی ٹھیک ٹھاک ہے،انہیں ابھی مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے جبکہ شاعر حبیب انور کے رول میں علی فضل بھی کئی مواقع پر آکر کہانی میں مثبت اضافہ کرتے ہیں۔

کیوں دیکھیں؟

پیار محبت پر مبنی حب الوطنی کے جذبہ کو محسوس کرنا چاہتے ہیں اور خاص طور پر شبانہ اعظمی کی اداکاری کیلئے فلم کو ضرور دیکھنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK