Updated: August 14, 2026, 9:04 PM IST
| Melbourne
بالی ووڈ کی معروف اداکارہ رانی مکھرجی کو آسٹریلیا کی لا ٹروب یونیورسٹی نے ہندوستانی سنیما میں تقریباً تین دہائیوں پر محیط ان کی شاندار خدمات اور خواتین، بچوں اور محروم طبقات کے لیے ان کی مسلسل کوششوں کے اعتراف میں Honorary Doctor of Letters کی اعزازی ڈگری سے نوازا ہے۔
رانی مکھرجی۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ کی معروف اداکارہ رانی مکھرجی کو آسٹریلیا کی لا ٹروب یونیورسٹی نے ہندوستانی سنیما میں تقریباً تین دہائیوں پر محیط ان کی شاندار خدمات اور خواتین، بچوں اور محروم طبقات کے لیے ان کی مسلسل کوششوں کے اعتراف میں ( Honorary Doctor of Letters (D.Litt کی اعزازی ڈگری سے نوازا ہے۔
یہ اعزاز ۱۴؍ اگست کو میلبورن کے فیڈریشن اسکوائر میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران دیا گیا۔ یہ تقریب انڈین فلم فیسٹیول آف میلبورن (آئی ایف ایف ایم)۲۰۲۶ء کے تحت منعقد ہوئی۔ اس اعزاز کے ساتھ رانی مکھرجی شاہ رخ خان کے بعد لا ٹروب یونیورسٹی کی جانب سے یہ اعلیٰ اعزاز حاصل کرنے والی دوسری ہندوستانی فلمی شخصیت بن گئی ہیں۔ یونیورسٹی نے اس سے قبل ۲۰۱۹ء میں شاہ رخ خان کو ہندوستانی سنیما اور ان کے فلاحی کاموں میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا تھا۔ یونیورسٹی نے ان کے نام سے پی ایچ ڈی اسکالرشپ کا بھی اعلان کیا تھا۔
اعزازی ڈاکٹریٹ حاصل کرنے کے بعد رانی مکھرجی نے اسے اپنی زندگی کے انتہائی جذباتی اور عاجزی سے بھرے لمحات میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بچپن میں ان کا بھی خواب تھا کہ وہ اپنے خاندان اور ملک کو فخر محسوس کرائیں۔ انہیں اس وقت معلوم نہیں تھا کہ یہ خواب کس طرح پورا ہوگا، لیکن وہ جانتی تھیں کہ اگر وہ کسی کام میں پوری محنت سے خود کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گی تو ان کے والدین خوش ہوں گے۔ رانی کے مطابق سنیما ان کے اس خواب کو پورا کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ اپنے فلمی کریئر اور فلموں کے انتخاب کے بارے میں رانی نے کہا کہ وہ اپنے کریئر کے آغاز سے ہی خطرہ مول لینے والی اداکارہ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:انڈین فلم فیسٹیول آف میلبورن ۲۰۲۶ء: رشبھ شیٹی، ذوالقرسلمان نے اعزاز جیتا
رانی کے مطابق انہوں نے ہمیشہ ایسی فلموں کا انتخاب کیا جو پہلے ان کے اپنے دل کو متاثر کریں اور جن کی کہانی بیان کرنا ضروری ہو۔ وہ ایسی کہانیوں کا حصہ بننا چاہتی تھیں جو لوگوں کو متاثر، حوصلہ مند اور بااختیار بنائیں۔ رانی نے کہا کہ انہوں نے اپنی فلموں کے ذریعے خاموشی سے ایسی مضبوط ہندوستانی لڑکیوں اور خواتین کو پیش کرنے کی کوشش کی جن کے ارادے درست اور حوصلے بلند ہوں۔
رانی مکھرجی نے اپنے فلمی کرداروں کے ساتھ ساتھ ضرورت مند افراد اور فوری مدد کے محتاج لوگوں کے لیے اپنے کام کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ انہیں جو درست محسوس ہوتا ہے، اسے کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور یہ اعزاز انہیں مستقبل میں بھی صحیح جدوجہد جاری رکھنے کے لیے مزید حوصلہ دیتا ہے۔
رانی مکھرجی نے سنیما کی طاقت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ہمیشہ سے یقین رہا ہے کہ فلمیں لوگوں کے خیالات بدلنے سے پہلے ان کے دل بدل سکتی ہیں۔ ان کے مطابق کسی اداکار کی ذمہ داری صرف اداکاری اور اسکرین پر پرفارمنس تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ فنکار خاموشی سے اپنے ملک اور ثقافت کے سفیر بھی بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی فلموں نے ایک بھی شخص کو ہندوستان اورہندوستانی خواتین کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دی، مکالمے کو فروغ دیا یا لوگوں میں ہمدردی پیدا کی، تو وہ سمجھتی ہیں کہ انہوں نے صرف اداکارہ ہونے سے کہیں بڑی ذمہ داری ادا کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان کی ہاکی ٹیم کی توجہ۵۱؍سال بعد ورلڈ کپ کی نئی تاریخ رقم کرنے پر مرکوز
لا ٹروب یونیورسٹی کے چانسلر دی آنرایبل جان برمبی نے رانی مکھرجی کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات نے تفریح کی حدود سے آگے بڑھ کر سماجی انصاف، مساوات اور شمولیت جیسے اہم موضوعات پر بحث کو فروغ دیا ہے۔انہوں نے رانی کی انسانی فلاح و بہبود کے لیے مسلسل وابستگی کو اعزازی ڈاکٹریٹ کے لیے انہیں ایک غیر معمولی طور پر موزوں امیدوار قرار دیا۔