اس میں اچانک آنے والے بھوت پریت یا شور شرابہ نہیں ہے بلکہ ایسا ماحول بنایا گیا ہے کہ خوف آہستہ آہستہ آپ کے اندر داخل ہوتا ہے۔
EPAPER
Updated: January 04, 2026, 10:49 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai
اس میں اچانک آنے والے بھوت پریت یا شور شرابہ نہیں ہے بلکہ ایسا ماحول بنایا گیا ہے کہ خوف آہستہ آہستہ آپ کے اندر داخل ہوتا ہے۔
بھئے: دی گورو تیواری مسٹری
(Bhay: The Gaurav Tiwari Mystery)
اسٹریمنگ ایپ : ایم ایکس پلیئر(۸؍ایپی سوڈ)
اسٹار کاسٹ:کرن ٹکر، کالکی کوچلن، سلونی بترا، دانش سود، شبھم چودھری، سونل جھا، بابلا کوچر، وبھا رانی
ڈائریکٹر:رابی گریوال
رائٹر:ارشد سید
پروڈیوسر:پربھلین سندھو
سنیماٹوگرافر:آدتیہ کپور
ایڈیٹر:ارچت رستوگی
پروڈکشن ڈیزائنر:سرشٹی رونگٹا، میور ترپاٹھی
ریٹنگ:***
بھئے- دی گورو تیواری مسٹری ایک ایسی ویب سیریز ہے جو عام ہارر یا کرائم تھرلرکے شور شرابےسےہٹ کر، ایسا ماحول بناتی ہے کہ خوف آہستہ آہستہ آپ کےدل میں اُترتاہے۔ یہ سیریز چیخوں اور اچانک ڈرانے والے مناظر کے بجائے، خاموشی، اندیشے اور نفسیاتی دباؤکے سہارے اپنی فضا قائم کرتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کہانی کسی فرضی دنیا کی نہیں، بلکہ ہندوستان کے مشہور پیرا نارمل ایکسپرٹ گورو تیواری کی زندگی اور ان کے گرد پھیلے اسرار سے متاثر ہے، اور یہی پہلو اسے محض تفریح نہیں رہنے دیتا، بلکہ ایک سنجیدہ تجربہ بنا دیتا ہے۔
کہانی
کہانی کا مرکز گورو تیواری(کرن ٹکر)ہیں، جو خود کو بھوت پریت یا اندھی عقیدت کے خلاف ایک سائنسی آوازکے طور پر پیش کرتے ہیں۔ وہ ہر کیس میں یہی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ خوف کے پیچھے کوئی نہ کوئی عقلی وجہ ہوتی ہے۔ مگر جیسے جیسے وہ مختلف پراسرار مقامات، ویران گھروں اور مبینہ آسیب زدہ جگہوں پر جاتے ہیں، حالات بدلنے لگتے ہیں۔ سیریز کا اصل کمال یہ ہے کہ یہ ناظر کو فوراً کسی نتیجے پر نہیں پہنچنے دیتی۔ ہر واقعہ کے ساتھ سوال بڑھتے جاتے ہیں کہ کیا واقعی یہ سب وہم ہے؟
یا پھر کچھ راز ایسے ہیں جنہیں سائنس بھی پوری طرح سمجھ نہیں پاتی؟
اور سب سے بڑا سوال، گورو تیواری کی پراسرار موت، جس کا سایہ پوری سیریز پر منڈلاتا رہتا ہے۔
اسکرین پلے
سیریز کی رفتار دانستہ طور پر سست رکھی گئی ہے، جو ہر ناظر کو پسند نہیں آئےگی۔ مگر یہی سست روی اس کی طاقت بھی ہے۔ یہ خوف کو پکنے دیتی ہے، وقت لیتی ہے، اور پھر دل کے کسی کونے میں اتر جاتی ہے۔ لوکیشنز کے طور پرویران فلیٹس، بند کمروں کی گھٹن، نیم روشن راہداریاں سب کچھ ایک پرانی، دبی دبی دہشت کا احساس پیدا کرتا ہے۔ کیمرہ ورک غیر ضروری حرکت سے بچتا ہے اور خاموش فریمز میں زیادہ بات کہہ جاتا ہے۔
ہدایت کاری
ہدایت کارنےیہاں سب سے بڑا رسک یہ لیا ہے کہ انہوں نے ہارر کو’تماشہ‘نہیں بنایا۔ نہ چیخ چیخ کر ڈرایا گیا، نہ خون خرابے کا سہارا لیا گیا۔
پس منظر میں بجنے والی موسیقی ہلکی ہے، مگر بے چین کرنے والی ہے۔ خاموشی کو بھی آواز کی طرح استعمال کیا گیا ہے، اور یہی چیز دل پر اثر کرتی ہے۔
سیریز ہر کسی کے ذوق کے مطابق نہیں۔ جو ناظر تیز رفتار تھرل، چونکا دینے والے ٹوئسٹ اور فوری خوف کے عادی ہیں، انہیں یہ کہانی کہیں کہیں کھنچی ہوئی محسوس ہو سکتی ہے۔ کچھ سوالوں کے جواب جان بوجھ کر ادھورے چھوڑ دیے گئے ہیں، جو بعض لوگوں کو ناگوار گزریں گے۔ بھَے-دی گورو تیواری مسٹری ایک خاموش، سنجیدہ اور سوچ میں ڈالنے والی سیریز ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل خوف اکثر اندھیرےکمروں میں نہیں، بلکہ ہمارے یقین اور شکوک کے بیچ پیدا ہوتا ہے۔ یہ سیریز دیکھ کر شاید آپ ڈر کر چیخیں گےنہیں، مگر دیر تک ایک انجانا سا بوجھ دل پر محسوس کریں گےاور یہی اس کی کامیابی ہے۔
اداکاری
مرکزی کردار میں کرن ٹکرکی اداکاری متوازن اور سنجیدہ ہے۔ وہ نہ توحدسےزیادہ ڈرامائی بنتا ہے اور نہ ہی سپاٹ۔ ایک ایسا شخص جو عقل پر یقین رکھتا ہے، مگر اندر کہیں نہ کہیں خوفزدہ بھی ہے، یہ کشمکش چہرے اور آنکھوں سے جھلکتی ہے۔ سپورٹنگ کاسٹ میں کالکی کوچلن اور سلونی بترا کہانی کا بوجھ نہیں بنتیں، بلکہ ماحول کو حقیقت کے قریب رکھتی ہیں۔ کوئی بھی کردار غیر ضروری طور پر ہیرو یا ولن نہیں بنایا گیا، جو اس صنف میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
نتیجہ
اگر آپ ہارر کو صرف ڈر کے طور پر نہیں، بلکہ ایک نفسیاتی اور فکری تجربے کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، اگر حقیقی واقعات پر مبنی پراسرار کہانیاں آپ کو اپنی طرف کھینچتی ہیں، تو بھئے آپ کے لیے ہے۔