۲۹؍سال قبل ریلیز ہونے والی فلم کو آگے بڑھاتے ہوئے اسے وسعت دی گئی ہے،ملک کی محبت کے ساتھ تفریح بھی پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
فلم’بارڈر۲‘کےایک منظر میںسنی دیول اور مونا سنگھ کودیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این
بارڈر ۲ (Border 2)
اسٹارکاسٹ:سنی دیول، ورون دھون، دلجیت دوسانجھ، اہان شیٹی، میدھا رانا،سونم باجواہ، مونا سنگھ، پرمویر چیما، سدیش بیری
ڈائریکٹر:انوراگ سنگھ
رائٹر :سومیت اروڑا،جے پی دتا، ندھی دتا،انوراگ سنگھ
پروڈیوسر:جے پی دتا، ندھی دتا، بھوشن کمار،گلشن کمار،کرشن کمار
موسیقار:انو ملک،وشال مشرا، متھن شرما، سچیت ٹنڈن
سنیماٹوگرافر:انشول چوبے
ایڈیٹر:منیش مورے
کاسٹنگ ڈائریکٹر:مکیش چھابرا
کاسٹیوم ڈیزائنر:شیتل شرما
ریٹنگ: ***
ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں کچھ فلمیں نہ صرف ریل پر بلکہ لوگوں کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑتی ہیں۔ ۱۹۹۷ء میںجب جے پی دتہ نےفلم’’بارڈر‘‘ بنائی تھی تویہ صرف ایک فلم نہیں تھی، یہ ایک احساس تھا۔ جب سنی دیول نے لونگے والا کی افسانوی جنگ کو بڑے پردے پر زندہ کیا تو تھیٹر میں موجود ہر ہندوستانی کا دل فخر سے بھر گیا۔ فلم کی سب سے بڑی خوبی اس کی حقیق پسندی اور سادگی تھی۔ اب، ٹھیک ۲۹؍سال بعد، اس شاندار ورثے کا اگلا باب، ’بارڈر۲‘ سینما گھروں کی زینت بنا ہے۔ پہلی ’بارڈر‘ کی کہانی کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ فلم بتاتی ہے کہ ۱۹۷۱ءکی ہند پاک جنگ صرف لونگے والا میںنہیں لڑی گئی تھی، بلکہ تینوں محاذوں پر لڑی گئی تھی یعنی زمین، پانی اورہوا میں۔ہدایت کار انوراگ سنگھ کی یہ فلم صرف ایک جنگی ڈرامہ نہیںہے جس میں بہادری کی عکاسی کی گئی ہے بلکہ یہ سرحد پر لڑنے والے فوجیوں اور ان کے خاندانوں کے انسانی پہلو پیش کرتی ہے۔
فلم کی کہانی
یہ کہانی ۱۹۷۱ءکی ہند پاک جنگ کے پس منظر میںکئی زاویوں سے آگے بڑھتی ہے۔۱۹۶۱ءمیںنیشنل وار اکیڈمی میں ملنے والے ۳؍ قریبی دوستوں کو ۱۹۷۱ءکی جنگ میں اپنی بہادری ثابت کرنے کا موقع ملتا ہے۔ فلائنگ آفیسر نرمل جیت سنگھ سیکھوں (دلجیت دوسانجھ) کو شادی کے فوراً بعد ڈیوٹی پر بلایا جاتا ہے۔ میجر ہوشیار سنگھ داہیا (ورن دھون) اپنے پہلے بچے کی پیدائش کا انتظار کر رہے ہیں جب جنگ کا اعلان ہوجاتا ہے۔ دریں اثنا، لیفٹیننٹ کمانڈر مہندر ایس راوت (آہان شیٹی) اپنی بیوی اورجوان بیٹی کو الوداع کہتے ہیں اوراپنا فرض پورا کرنے کیلئے نکل پڑے۔ ان کے انسٹرکٹر، لیفٹیننٹ کرنل فتح سنگھ کلیر(سنی دیول)، جموں کے مناور توی علاقے میں ایک محاذ کی کمانڈ کر رہے ہیں۔ اپنی ذاتی زندگی میں وہ اور ان کی اہلیہ مونا نے اپنے جوان بیٹے کی قربانی کا مشاہدہ کیا ہے۔
اس بار چیلنجز زیادہ ہیں۔ہندوستانی فوج کا ایک بڑا حصہ مشرقی پاکستان میں تعینات ہے،اس لیے مغربی سرحد کے دفاع کے لیے کم فوجیوں کی ضرورت ہے۔ اس دوران پاکستانی فوج راجستھان، پنجاب اور جموں کشمیر میں دراندازی کی تیاری کر رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ بہادر سپاہی دشمن کو کیسے شکست دیتے ہیں،کون اپنی جان قربان کرتا ہے اور کون گھرلوٹتا ہے؟ اس کا جواب فلم دیکھ کر ہی ملے گا۔
ہدایت کاری
سبھی جانتے ہیں کہ جے پی دتہ کی ۱۹۹۷ءکی فلم ’بارڈر‘ہندی سنیما کی جنگ پر مبنی فلموں میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ سیکوئل لانے والے ہدایت کار انوراگ سنگھ کا امتحان ہونا فطری تھا۔ یہ کہنا ضروری ہے کہ انوراگ نے جنگی ماحول کے ساتھ ساتھ جذبات کی دنیا کو مہارت سے بنایا ہے۔ ڈائریکٹر ’بارڈر‘ کی ساکھ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ہدایت کار نے نہ صرف کہانی کو وسیع کیاہے بلکہ تفریح کا حصہ بھی برقرار رکھا ہے۔فلم کا پہلا نصف تفریحی انداز میں آگے بڑھتا ہے، کرداروں کی بیک اسٹوریز پیش کرتا ہے۔ فلم کا دوسرا نصف ایک سنسنی خیز، بیک وقت بحری، زمینی اور فضائیہ کی لڑائیوں کو پیش کرتےہوئے جنگ کو آگے بڑھاتا ہے۔ تاہم، فلم کا جنگی حصہ کافی لمبا ہے، اور ان مناظر میں روشنی کو مزید بہتر بنایا جا سکتا تھا۔ لیکن اس کمی کو فلم کے طاقتور اسکرین پلے اور لمبی کہانی نے پورا کیا ہے۔
اداکاری
جہاں تک اداکاری کا تعلق ہے، فلم کا بوجھ زیادہ تر سنی دیول کے کندھوںپر ہے، جو اسے اپنےانداز میں شاندار طریقے سے اٹھاتے ہیں۔ورون دھون نے میجر ہوشیار سنگھ دہیا کے طور پر دل جیت لیے۔ وہ اپنے ہریانوی لہجے سے جذبات کو قید کرنے کا انتظام کرتے ہیں۔ دلجیت دوسانجھ تفریحی لمحات پیش کرتے ہیں اور اپنی فضائی لڑائی میں یادگار ہیں۔یہاں،’بارڈر۲‘میں آہان شیٹی نے پچھلی فلم’بارڈر‘میں اپنے والد سنیل شیٹی کو کامیابی سے خراج تحسین پیش کیا ہے۔
کیوں دیکھیں؟
اگر آپ’بارڈر‘کی پرانی یادوں کو تازہ کرنا چاہتے ہیں، جنگ پر مبنی فلموں کے شوقین ہیں، تو آپ اس حب الوطنی پر مبنی فلم کو یوم جمہوریہ کے موقع پر دیکھ سکتے ہیں۔