Inquilab Logo Happiest Places to Work

صوبیدار: انل کپور کو بطور’اینگری اولڈ مین‘ پیش کرنے والی فلم

Updated: March 07, 2026, 9:55 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai

۱۹۸۰ء اور۹۰ء کی فلموں کے بھر پور مصالحے شامل کئے گئے ہیں، اس پر اداکاروں کی شاندار اداکاری بھی فلم کو امیزون پرائم پر دیکھنے لائق بناتی ہے۔

Anil Kapoor can be seen in action in a scene from the film `Subedaar`. Photo: INN
فلم’صوبیدار‘کےایک منظر میں انل کپور کو ایکشن میں دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

صوبیدار(Subedaar)
اسٹارکاسٹ: انل کپور، رادھیکا مدان، خوشبو سندر، سوربھ شکلا، آدتیہ راول، مونا سنگھ، فیصل ملک
ڈائریکٹر: سریش تریوینی
رائٹر: سریش تریوینی، پرجول چندرشیکھر
پروڈیوسر: وکرم ملہوترا، انل کپور، سریش تریوینی
سنیماٹوگرافر: اجے سکسینہ
ایڈیٹر: شیو کمار پنیکر
پروڈکشن کمپنی: ابنڈنٹیا اینٹرٹینمنٹ، اوپننگ امیج فلمز، انل کپور فلمزاینڈ کمیونیکیشن نیٹورک
کہاں دیکھیں: امیزون پرائم ویڈیو
ریٹنگ:***
۱۹۸۰ء اور۱۹۹۰ءکی دہائی میں بالی ووڈکی فلموں میں ایسے ہیروز کا غلبہ تھا جو ناانصافی اور بدعنوان نظام کے خلاف آواز اٹھاتے تھے، غریبوں کے حقوق کے لیے لڑتے تھے اور بیک وقت دس بیس غنڈوں کو اکیلے ہی زیر کر دیتے تھے۔ ’’اینگری ینگ مین‘‘ کا کردار مرکزی دھارے کے سنیما میں بےحد مقبول ہوا اور اس کا زمانہ بھی خاصاطویل رہا۔ ہدایت کار سریش تریوینی کی فلم صوبیداربھی اسی مزاج کی فلم ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں ’صوبیدار‘کی صورت میں ایک ’اینگری اولڈ مین‘ سامنے آتا ہے اور یہ ماننا پڑے گا کہ انل کپور جیسے باصلاحیت اداکار نے اپنے انداز، جھنجھلاہٹ، جوش، غصے اور ہیرو ازم سے اس کردار کو یادگار بنا دیا ہے۔ 
فلم کی کہانی
فلم’صوبیدار‘ کی کہانی ریٹائرڈ فوجی افسر صوبیدار ارجن موریہ (انل کپور)کے گرد گھومتی ہے، جو برسوں کی فوجی خدمت کے بعد اپنی بکھری ہوئی زندگی کو سمیٹنے کے لیے مدھیہ پردیش کے ایک اندرونی قصبے میں اپنے گھر لوٹتا ہے۔ اس کی کالج میں پڑھنے والی بیٹی شیاما (رادھیکا مدان)اب تک اپنی ماں (خوشبو سندر)کی حادثے میں ہوئی موت کے صدمے سے پوری طرح باہر نہیں آ سکی ہے۔ ارجن کا دوست پربھاکر (سوربھ شکلا)جو ایک سیکوریٹی ایجنسی چلاتا ہے، اسے باڈی گارڈکی نوکری دلوانے کے لیے علاقے کے بااثر افراد سافٹی (فیصل ملک)اور پرنس بھیا(آدتیہ راول)کےپاس لے جاتا ہے۔ یہ دونوں مقامی ریت مافیا سے جڑے ہوئےہیں اور پورے علاقے میں ان کا دہشت ناک اثر و رسوخ ہے۔ اس پورے نیٹ ورک کی اصل سرغنہ ببلی دیدی (مونا سنگھ)ہے، جو دو قتل کے مقدمات میں جیل میں بند ہونے کے باوجود وہیں سے اپنے غیر قانونی کاروبار کو چلا رہی ہے۔ ارجن کو جلد ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ علاقے میں پھیلی بدامنی اور نظام کی بگڑی ہوئی حالت کے پیچھے اسی مافیا کا بڑا ہاتھ ہے۔ عام لوگ ان کے خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ دوسری طرف شیاما کو بھی اپنے کالج میں غنڈہ گردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کہانی اس وقت فیصلہ کن موڑ لیتی ہے جب بگڑا ہوا پرنس نشے اور مستی میں ارجن کی جپسی کار کو نقصان پہنچاتا ہے اور اس پر پیشاب کر دیتا ہے۔ یہ وہی جپسی ہے جو اس کی بیوی نے برسوں کی محنت کی کمائی سے خریدی تھی۔ یہ ذلت ارجن کو اندر تک ہلا دیتی ہے اور وہ ریت مافیا کے ان درندوں کے خلاف کھلی جنگ چھیڑ دیتا ہے۔ 
ہدایت کاری
فلم کا جائزہ لیا جائے تو ہدایت کار سریش تروینی نے اپنی اس فلم میں وہ تمام مصالحے شامل کیے ہیں جن کے لیے مرکزی دھارے کا سنیماجانا جاتا ہے، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اسے ایک نئےانداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم مسئلہ کہانی کی سادگی کا ہے، جسے ڈھائی گھنٹے کی فلم کی صورت دے دی گئی ہے۔ فلم کا ہیرو اپنی ذاتی لڑائی تو لڑتا ہے مگر ایک عوامی ہیرو کے طور پر وہ اتنی مضبوطی سے ابھر کر سامنے نہیں آ پاتا۔ البتہ باپ اور بیٹی کے رشتے کو ہدایت کار نے نہایت باریکی سے پیش کیا ہے۔ 
اداکاری 
اداکاری کے اعتبارسے فلم کو اصل سہارا اس کی کاسٹ سے ملتا ہے۔ انل کپور اپنی اداکاری سے کردار میں جان ڈال دیتے ہیں۔ ان کا غصہ، خاموشی اور پھر دشمن پر وار کرنے کا انداز بے حد مؤثر ہے۔ خوفناک پرنس کے کردار میں آدتیہ راول خوب جچتے ہیں اور اپنی پچھلی فلموں کے مقابلے میں زیادہ پختہ نظر آتےہیں۔ رادھیکا مدان نے ہمیشہ کی طرح مضبوط اداکاری کی ہے۔ ببلی دیدی کے کردار میں مونا سنگھ کو شاید مزید وسعت دی جا سکتی تھی، تاہم انہوں نے اپنے کردار کے ساتھ انصاف کیا ہے۔ پربھاکر کے روپ میں سوربھ شکلا اور سافٹی کے کردار میں فیصل ملک بھی قابلِ ذکر اداکاری پیش کرتے ہیں۔ نانا پاٹیکرکی مختصر کیمیو انٹری ناظرین کو چونکا دیتی ہے۔ معاون اداکاروں کی پوری ٹیم بھی مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ 
کیوں دیکھیں ؟
اگر آپ مصالحہ فلموں کے شوقین ہیں اور انل کپور کی بھرپور اداکاری دیکھنا چاہتےہیں تو یہ فلم امیزون پرائم پر دیکھی جا سکتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK