سابقہ فلم سے آگے کی کہانی پر مبنی فلم میں ہندی فلموںکے بھی متعدد اداکاروں کو شامل کیا گیا ہےجن میں ودیا بالن، جیکی شراف اور ریتک شامل ہیں۔
فلم’جیلر۲‘کےایک منظر میںرجنی کانت کو دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر: آئی این این
جیلر۲ (Jailer 2)
اسٹارکاسٹ: رجنی کانت، ودیا بالن، ایس جے سوریہ،جیکی شراف، رامیا کرشنن، شیو راج کمار، یوگی بابو،وجے سیتوپتی،ریتک روشن
رائٹر اورڈائریکٹر : نیلسن دلیپ کمار
پروڈیوسر: کلاندھی مارن،آر کنن، سیمبیئن سیوکمار
موسیقی: انیرودھ روی چندر
ایڈیٹر: آر نرمل
سنیماٹو گرافر: وجے کارتک کنن
آرٹ ڈائریکٹر: ڈی آر کے کرن
کاسٹیوم ڈیزائن: متھل حفیظ، پلوی سنگھ
میک اپ: شیجو کرشنا، روہت پانڈے،پٹنم رشید
ریٹنگ: ***
فلمی دنیا میں تھلائیوا رجنی کانت کی فلموں کی اپنی ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔ ان کے مداح ان کے چلنے، بولنے، چشمہ گھمانے اور سگار سلگانے جیسے ہر انداز کے دیوانے ہیں۔ ان کے اسی رعب دار انداز اور اسٹائل نے ۲۰۲۳ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’جیلر‘ کو بلاک بسٹر بنایاتھا۔ اب مصنف اور ہدایت کار نیلسن دلیپ کمار اسی کامیابی کو دہرانے کے لیے اس کے سیکوئل ’جیلر ۲‘ کے ساتھ واپس آئے ہیں۔
فلم کی کہانی
فلم کی کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں پچھلی فلم ختم ہوئی تھی۔ ریٹائرڈ جیلر ٹائیگر متھوویل پانڈین (رجنی کانت) اپنی خون خرابے سے بھری سابقہ زندگی سے دور، بیوی وجیا (رامیا کرشنن)، بہو شویتا (مرنا) اور پوتے رتوک کے ساتھ ایک گمنام اور عام زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ لیکن ماضی کے حساب کتاب اور انتقام کی آگ اسے دوبارہ مار دھاڑ، تشدد اور جرائم کی دنیا میں کھینچ لاتی ہے۔
قدیم مورتیوں کی اسمگلنگ کے غیر قانونی کاروبار سے وابستہ دلیپ (سورج وینجاراموڈو) اپنے دوست ورمن کی موت کا بدلہ لینے کیلئےمتھو کو چیلنج کرتا ہے۔ یہی نہیں، مورتیوں کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کا سرغنہ بودھی کلپک (ایس جے سوریا) اور اس کا خاندان بھی متھو کیلئےخطرہ بن جاتا ہے۔ اس خاندان میں اس کی بہن کانتا (ودیا بالن)، والد چکری (متھن چکرورتی) اور اس کے بھائی شامل ہیں۔
اب متھو ان نئےدشمنوں کا مقابلہ کس طرح کرتا ہے اور اپنے اہل خانہ کو بچانے کیلئےکیا کچھ کرتا ہے، یہ دیکھنا رجنی کانت کے مداحوں کے لیے کسی بصری دعوت سے کم نہیں۔
ہدایت کاری
مصنف اور ہدایت کار نیلسن دلیپ کمار نے پہلی فلم ’جیلر‘ کے ہی اندازپر اس سیکوئل کو بھی ایک مکمل تجارتی اور عوامی پسند کی تفریحی فلم بنانےکی کوشش کی ہے۔ زبردست ایکشن مناظر کے ساتھ انہوں نے مزاح، رقص اور جذبات جیسے تمام عناصر کو فلم میں شامل کیا ہے۔ فلم کے پہلے حصے میں مزاح ایک بڑا مثبت پہلو ہے، جو ناظرین کو خوب محظوظ کرتا ہے۔انیرودھ کا پس منظر میں بجنے والا موسیقی کا ٹریک اور وجے کارتک کنن کی سنیماٹوگرافی بھی فلم کی طاقت ہیں۔ فلم میں رجنی کانت کے مخصوص انداز کے کئی یادگار لمحات ہیں۔ خاص طور پر وقفے سے پہلے سالگرہ والا منظر خاصا جاندار ہے۔
تاہم، دوسرے حصے میں کہانی اپنی گرفت کھونے لگتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ولن کے طور پر کلپک خاندان کا کمزور ثابت ہونا ہے۔ ایس جے سوریا، ودیا بالن اور متھن چکرورتی سے وابستہ کرداروں کی کہانی اتنی مؤثر نہیں بن پاتی جتنی توقع کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ جذباتی پہلو بھی پہلی فلم جتنامضبوط نہیں ہے۔ نورا فتحی کے آئٹم ڈانس میں بھی تمنا بھاٹیا کے مشہور گانے ’کاوالا‘ جیسا جادو نظر نہیں آتا۔
اداکاری
اداکاری کی بات کی جائے تو رجنی کانت پوری فلم کی بنیاد ہیں۔ ۷۵؍برس کی عمر میں بھی وہ اپنے مضبوط کندھوں پر بڑے پیمانے کی ایکشن فلم کا بوجھ اٹھانےکاہنرخوب جانتے ہیں۔ جیلر متھوویل پانڈین کے کردار میں اسکرین پر ان کی موجودگی، ان کا ہر انداز اور مکالموں کی ادائیگی دیکھنے لائق ہے۔نیلسن نے کہانی کے مقابلے میں رجنی کانت کے اسٹارڈم پر زیادہ بھروسہ کیا ہے۔ اسی وجہ سےاگر کوئی ناظر فلم میں کچھ نیا یا مختلف دیکھنے کی توقع رکھتا ہے تو اسے مایوسی ہوسکتی ہے۔رجنی کانت کے علاوہ ٹیکسی ڈرائیور کے کردار میں یوگی بابو اور مورتی کےکردار میں نمو نارائن کی اداکاری بھی دلچسپ ہے۔فلم میں اداکاروں، یا یوں کہیں کہ بڑے ستاروں کی ایک پوری فوج موجود ہے۔ رامیا کرشنن، متھن چکرورتی، ودیا بالن اور ایس جے سوریا جیسے فن کار فلم کو مضبوطی تو دیتے ہیں، لیکن ان کے کردار وہ گہرا اثر نہیں چھوڑ پاتے جس کی توقع کی جاتی ہے۔اس کے برعکس موہن لال، شیوا راج کمار اور جیکی شراف کی تینوں کے ساتھ ریتک روشن اور وجے سیتھوپتی کی مختصر جھلکیاں ناظرین کو خاصا پرجوش کرتی ہیں۔ فلم کا اختتام بھی اگلے حصے کی ایک جھلک دکھاتا ہے، جو رجنی کانت کے مداحوں کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں۔
کیوں دیکھیں؟
اگر آپ رجنی کانت کے مداح ہیں تو ان کے مخصوص انداز، رعب دار شخصیت اور ایکشن مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے ’جیلر ۲‘ دیکھی جاسکتی ہے۔