گینگسٹراور پولیس افسر کا کردار ادا کرنے کیلئے مشہور اداکار رندیپ ہڈا نے اپنےغم ،غصہ اور غلط فہمیو ںسے جوجھتےہوئے شخص کا کردار ادا کیا ہے
EPAPER
Updated: July 01, 2023, 9:25 AM IST | Mumbai
گینگسٹراور پولیس افسر کا کردار ادا کرنے کیلئے مشہور اداکار رندیپ ہڈا نے اپنےغم ،غصہ اور غلط فہمیو ںسے جوجھتےہوئے شخص کا کردار ادا کیا ہے
سنسنی خیز اورسسپنس فلموںکو اکثر پسند کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ بیشترفلم ساز اور ہدایت کار ایسی ہی فلمیں بنانے کی کوشش کرتےہیں۔ہدایت کارپروال رمن نے بھی ایسی ہی کوشش کی ہے لیکن وہ اپنی فلم’سارجنٹ‘ میں وہ بات پیدا نہیں کرسکے۔ہاں فلم کا کلائمکس حیران کردینے والا ہے لیکن پونے دو گھنٹے کی فلم میں وہ تحیر اور سسپنس پیدا نہیں ہوسکا۔ اس فلم کو دیکھنے کے بعدیہ بات شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ ایک شارٹ اسٹوری جسے۱۰؍تا ۱۵؍منٹ یا زیادہ سے زیادہ ۴۰؍منٹ میں سمیٹا جاسکتا تھا،ایک گھنٹہ ۴۴؍منٹ میں پیش کیا گیا ہے۔باقی کاایک گھنٹہ ہیرو کا اپنے والد اور ایک ساتھی کے خلاف غصہ، جھلاہٹ، ڈپریشن، اسٹریس اور ایکسپٹنس، سگریٹ نوشی، شراب نوشی اور ایسی ہی دیگر باتوںمیں صرف کیا گیا ہے۔
موضوع: فلم کااہم موضوع بڑے پیمانے پرمنشیاب کی تجارت اور ہیومن ٹریفکنگ کے خلاف جنگ ہےجس سے فلم کا ہیرو بھی متاثر ہےیہاں تک کہ اس کا ایک پیر بھی آپریشن کے ذریعہ کاٹ دیا جاتا ہے۔لیکن وہ آخر تک حقیقی مجرم تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھتا ہے۔ اس فلم میں اپنے کام کے تئیں جوش و جذبے سے بھرے ایک پولیس افسرکی کہانی دکھائی گئی ہے جو جرائم اور اپنی زندگی سےمتعلق چند باتوں کی حقیقت تک پہنچنے کیلئے سخت جدوجہد کرتا ہے۔
کہانی: فلم کا ہیرو لندن پولیس میں سارجنٹ(انسپکٹر سے نچلے عہدے کاافسر)کے عہدےپر فائزنکھل شرما(رندیپ پڈا) مجرم کی تلاش میں جدوجہد کی وجہ سےاپنا پیر گنواچکا ہے جسے آپریشن کے ذریعہ ڈاکٹروںنےکاٹ دیاہے۔وہ ڈاکٹروں سے اپنی جسمانی اور ذہنی پریشانیوں کے تعلق سے جھوٹ بول کر دوبارہ محکمہ پولیس میں خدمات انجام دینے پہنچ جاتا ہے لیکن اسےفیلڈ کے بجائے ڈیسک ورک دیاجاتا ہے۔لیکن وہ اس سے خوش نہیں ہوتا کیوں کہ وہ مجرموں تک پہنچنا چاہتاہے۔وہ اپنی ماں کی خودکشی کیلئےاپنے والد(ارون گوول)اورخودسے آگے پہنچ جانے پراپنےساتھی اور دوست حیدر علی (عادل حسین)کومورد الزام ٹھہراتا ہے۔اس کا مقصد منشیات اور ہیومن ٹریفکنگ(انسانوں کی اسمگلنگ) کے اہم ملزموں تک پہنچنا ہوتا ہے۔کہانی صرف اتنی ہے لیکن اسے طویل بنانے کیلئے اس میں ہیروکے جذبات واحساسات کے ساتھ نفسیاتی مسائل سے جوجھنے کی جدوجہد دکھائی گئی ہے۔
اداکاری: کہانی چاہے کیسی بھی ہو لیکن رندیپ ہڈا، عادل حسین اورارون گوول نےاچھی اداکاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ رندیپ جو عام طور پرگینسٹراورپولیس افسرکاکردار ادا کرنے میں مہارت رکھتے ہیں نےاس فلم میں بھی ایک پولیس افسر کے کردار میں اچھی اداکاری کی ہے۔ لیکن چونکہ یہ فلم برطانیہ کے ایک پولیس افسر کی ہے تو اس میں بہتر انگریزی بولنے والےاداکارکو کاسٹ کیا جانا چاہئے تھا جس میں رندیپ ہڈاکچھ حد تک ناکام ثابت ہوئےہیں۔حالانکہ عادل نے اس معاملے میں اچھا کام کیا ہے جبکہ رندیپ کی انگریزی کی ڈائیلاگ ڈلیوری میںکچھ خامی محسوس ہوتی ہے۔
ہدایتکاری:فلم ’سارجنٹ‘ کی ہدایت کاری کو بہتر نہیں کہا جاسکتا۔فلم کا نام ’سارجنٹ‘ سن کر کوئی بھی یہ امید کرے گا کہ فلم ایک پولیس افسر کےفرائض کے گرد گھومتی ہوگی لیکن ایسا قطعی نہیں ہے۔ فلم میں ہیرو کو اپنی نجی زندگی اور اس کے مسائل کے گرد گھومتا ہوا دکھایا گیا ہے۔زیادہ تر مناظر میں وہ اپنے پیر کے درد سےپریشان،ماں کی یاد میں کھویا ہوا، شراب نوشی اور سگریٹ نوشی میں ملوث دکھایا گیا ہے۔
سنیماٹوگرافی:اس شعبے میں بھی فلم بہتر ہے۔ اس کے کئی مناظر کو عمدہ طریقے سے فلمایاگیا جیسے کہ ابتدائی سین میں اسے پانی کے اندر ڈوبا ہوا دکھا یا گیا ہے جسے دیکھ کر پانی کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ لندن کے مختلف علاقے اور عمارتیں اور گلیاں بھی عمدہ طریقے سے فلمائی گئی ہیں۔
ایڈیٹنگ :فلم میں ایڈیٹنگ کی کمی شدت سے محسو ہوتی ہے، کہ اس میں کئی مناظر ایک جیسے اور کئی مناظر کافی طویل محسوس ہوتے ہیں۔اس شعبے میں بہتر کام کیا گیا ہوتا تو اس کی طوالت بھی کم ہوتی اور اس کا بوجھل پن بھی کچھ کم کیا جاسکتا تھا۔ اگر ایسا کیا گیا ہوتا تو شاید زیادہ تعداد میں ناظرین اس کو دیکھنا پسند کرتے۔
نتیجہ: مجموعی طور پرفلم’سارجنٹ‘ اپنے نام کی مناسبت سےایک سسپنس تھریلرہونے کے بجائے ایک جذباتی کہانی بن گئی ہے جو مناظر کی یکسانیت اور طوالت کی وجہ سے بوجھل بن جاتی ہے۔ رندیپ ہڈاکی بہتر اداکاری کی وجہ سے اسے ایک مرتبہ دیکھا جاسکتا ہے۔آن لائن ہونے کی وجہ سے اس کا پورا کنٹرول آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے تو آپ کچھ مناظر کو آگے بڑھاکر فلم دیکھ سکتے ہیں ۔n