کے جی ایف ۲؍ سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنےوالے یش کی کامیابی کی قیمت وصول کرنے کی کوشش لیکن الجھی ہوئی کہانی سرمیں درد کردیتی ہے۔
فلم’ٹاکسک‘کےایک منظر میں اداکار یش کو خطرناک انداز میں دیکھاجاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این
ٹاکسک(Toxic)
اسٹارکاسٹ: یش، نین تارا، کیارا اڈوانی، ہما قریشی، تارا ستاریا، اکشے اوبرائے، رکمنی وسنت، سنجیدہ شیخ، ڈیرل ڈسلوا
ڈائریکٹر:گیتو موہن داس
رائٹر:گیتو موہن داس،یش
پروڈیوسر:وینکٹ نارائن، یش
موسیقار:فہیم عبداللہ،تنشک باگچی،روی بسرور،ارسلان نظامی
سنیماٹو گرافر:راجیو روی
کاسٹنگ:بھرت جھا، یش ناگرکوٹی
کاسٹیوم ڈیزائنر:نیہا وشواس بجاج
ایڈیٹر:اجول کلکرنی
پروڈکشن ڈیزائن:عابد ٹی پی
آرٹ ڈائریکٹر:متر راج چودھری، موہن کیرے،سندیپ شرما
ریٹنگ: **
یہ بھی پڑھئے: ’’ بگ باس ۲۰‘‘ میں بڑا اپ ڈیٹ، سلمان خان نے انکشاف کیا
’’میری مدر ٹنگ وائلنس ہے رے‘‘، یش کا یہ مکالمہ پوری فلم کی زبان اور مزاج کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔ مسئلہ بس اتنا ہے کہ تشددکی اسی انتہا اور مبالغہ آمیزی میں جذبات کہیں بہت پیچھے رہ جاتےہیں۔ آخر جس فلم میں یش جیسے ’راکنگ اسٹار‘ ہوں، اسٹائلش ایکشن ہو، ہائی وولٹیج ڈراما ہو، جدید وی ایف ایکس ہو اور ایک ساتھ چارچار ہیروئنیں موجود ہوں، اس سے دھماکے دار تفریح کی امید تو لازمی ہے۔تقریباً۵۰۰؍کروڑ روپے کے بجٹ سے بننے والی اس فلم میں گولیوں اور دھماکوں کی ایسی بھرمار ہے کہ ’کے جی ایف‘ کے راکی بھائی کی کمی محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن کہانی کے معاملے میں فلم اس قدر الجھ جاتی ہے کہ ۳؍گھنٹے سے زیادہ وقت گزارنے کے بعد جب یہ ختم ہوتی ہے تو ناظر سنسنی اور جوش سے زیادہ بھاری سر لے کر سنیما ہال سے باہر نکلتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ناگ ارجن نے تیلگو کے ساتھ ہندی فلموں میں بھی نام کمایا ہے
فلم کی کہانی
فلم کی کہانی گوا کی منشیات اور جرائم کی دنیا میں طاقت، خاندان اورانتقام کے گرد گھومتی ہے۔ فلیش بیک کے ذریعے کہانی ناظرین کو رایا، یعنی یش کی دنیا میں لے جاتی ہے۔ رایا ایک ایسا شخص ہے جس کے نزدیک تشدد سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس کی بہن گنگا، جس کا کردار نین تارا نے ادا کیا ہے، بچپن سے اس کی پرورش کرتی آئی ہے، اس لیے وہ رایا کے لیے صرف بہن نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔جرائم کی دنیا میں رایا کا اثر و رسوخ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب وہ سلواڈور کے قریب آتا ہے۔ سلواڈور کا کردار ڈیرل ڈسلوا نے ادا کیا ہے۔ سلواڈور کی محبوبہ، جس کے کردار میں ہما قریشی ہیں، اس کا بھائی، یعنی اکشے اوبرائے کا کردار، اور اس کی بیٹی ربیکا، جسے تارا ستاریانےنبھایا ہے، سبھی اس سازش، طاقت اور جرائم کے کھیل کا حصہ ہیں۔سلواڈور چاہتا ہے کہ اپنی بیٹی ربیکا کی شادی رایا سے کروا کر اپنے کرائم سنڈیکیٹ کو مزید مضبوط بنائے۔ رایا بھی اس شادی کے لیےتیار ہے۔ لیکن اس کی زندگی اس وقت ایک نیا رخ اختیار کر لیتی ہےجب اس کی ملاقات سرکس کی خطرناک مگر دلکش فن کارہ نادیہ، یعنی کیارا اڈوانی سے ہوتی ہے۔ دونوں کے درمیان ایک جنونی محبت جنم لیتی ہے، مگر اس محبت کی قیمت انہیں اتنی بھاری چکانی پڑتی ہے کہ ان کی دنیا ہی تہس نہس ہو جاتی ہے۔
ہدایت کاری
ہدایت کار گیتو موہن داس نے’کے جی ایف: چیپٹر۲‘ کے بعد یش کے اسٹارڈم اور ان کی بے پناہ فین فالوئنگ سے فائدہ اٹھانے میںکوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔فلم کو انتہائی بڑے پیمانے اور شان و شوکت کےساتھ پیش کیا گیا ہے اور تقریباً ہر فریم پر یش کا جنونی، پرتشدد اور ’لارجر دین لائف‘ انداز چھایا ہوا ہے۔
فلم کا آغاز تجسس اور رازکی فضا پیدا کرتا ہے، لیکن جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے، اس کے کردار اور واقعات اس قدر پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں کہ ناظر جذبات محسوس کرنے کے بجائے رشتوں اور واقعات کی گرہیں سلجھانے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ جب تک آپ ماضی اور حال کے درمیان جھولتی کہانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اس سے پہلے ہی ایک اور ہائی آکٹین ایکشن منظر سامنے آ جاتا ہے۔ گولیاں، خون اور تشدد کی اتنی بہتات ہے کہ ایک وقت کے بعد ان سب کا اثر بھی ختم ہونے لگتا ہے۔’اینیمل‘ میں بھی تشدد کی انتہا تھی، لیکن وہاں باپ اور بیٹے کے رشتےنے اس تشدد کو ایک جذباتی وزن عطا کیا تھا۔ ’ٹاکسک‘ میں بھی بہن، باپ، بیوی اور بچوں سمیت کئی رشتے موجود ہیں، لیکن افسوس کہ ان میں سے کوئی بھی رشتہ ناظر کے دل میں اپنی جگہ نہیں بنا پاتا۔
اداکاری
حقیقت یہ ہے کہ یش ہی فلم کا سب سے بڑا مثبت پہلو ثابت ہوتےہیں۔ان کا ایکشن، چال، سگریٹ پینے کا انداز، اداس مگر خونخوار آنکھوں والا تاثر اور ہر منظر میں چھایا ہوا ان کا اسٹارڈم، ان کے مداحوں کے لیے کسی بصری تحفے سے کم نہیں۔ فلم میں ان کا کم عمر روپ بھی خاصا متاثر کن ہے۔
کیوں دیکھیں؟
اگر آپ کو تشدد، تشدد اور صرف تشدد سےبھری کہانیاں پسند ہیں، خون خرابے اور گولیوں کی گھن گرج آپ کے لیے تفریح کا ذریعہ ہے اور آپ یش کے پکے مداح ہیں تو ’ٹاکسک‘ آپ کے لیے ایک بصری اور ایکشن سے بھرپور تجربہ ہو سکتی ہے۔