دی اوڈیسی اور اسپائیڈر مین کے بعد ہالی ووڈ کی ایک اور فلم سامنے آئی ہے جس میں ڈائینوساراور خود کو بچائے رکھنے کا تجربہ پیش کیا گیا ہے۔
فلم’دی اینڈ آف اوک اسٹریٹ‘کےاہم اداکاروں کو کار میں بیٹھاہوا دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این
دی اینڈ آف اوک اسٹریٹ (The End of Oak Street)
اسٹارکاسٹ:این ہیتھ وے،ایوان میک گریگر، میسی اسٹیلا، کرسچن کنوری، جارڈن الیکسا ڈیوس، پی جے بائرن، ہڈسن میک
رائٹراورڈائریکٹر:ڈیوڈ رابرٹ مچل
پروڈیوسر:جے جے ابرامز، جان کوہن، ٹامی ہارپر،میٹ جیکسن، ہناہ منگھیلا،ڈیوڈرابرٹ مچل، مائیکل سیلون
موسیقار:مائیکل گیاچینو
سنیماٹو گرافر:مائک گوئلاکس
ایڈیٹر:جان ایکسلراڈ
پروڈکشن ڈیزائن:مایا شیموگوچی
آرٹ ڈائریکٹر:کیون ہائولی ہن، الزبتھ ویڈنگ
ریٹنگ:****
یہ بھی پڑھئے: بٹوارہ۱۹۴۷ء: حب الوطنی کا پیغام دینے والی ایک بہترین فلم
کیا ہو، اگر ایک صبح آنکھ کھلتے ہی آپ کو معلوم ہو کہ صرف آپ کا گھر ہی نہیں بلکہ پورا علاقہ ایک قدیم جنگل میں تبدیل ہوچکا ہے اور آس پاس خونخوار، آدم خور ڈائنوسار کا قبضہ ہے؟ کسی بھیانک خواب جیسا لگتا ہے نا؟ لیکن ہدایت کار ڈیوڈ رابرٹ مچل کی فلم ’دی اینڈ آف اوک اسٹریٹ‘ میں یہ خوفناک خواب حقیقت بن جاتا ہے۔ ایک خوش حال خاندان اور اس کے پورے شہر پر جب یہ ہولناک آفت نازل ہوتی ہے تو ان کے سامنے زندگی بچانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں رہ جاتا۔ یعنی اب ان کا صرف ایک ہی مقصد ہے، زندہ بچنا۔
فلم کی کہانی
کہانی کا آغاز پیزا ڈیلیوری کرنے والے گریگ (ایوان میک گریگر)، ان کی مصنفہ اہلیہ ڈینس (این ہیتھ وے) اور ان کے بچوں آڈری (میجی اسٹیلا) اور برائن (کرسچن کونویری) سے ہوتا ہے۔ یہ خاندان اپنے پیارے پالتوکتے کے ساتھ ایک پرسکون زندگی گزار رہا ہوتاہے۔ لیکن ایک رات آسمان پر پراسرار روشنیاں نمودار ہوتی ہیں اور ایک عجیب و غریب کائناتی واقعہ پیش آتا ہے۔ اگلی صبح ان کی دنیا مکمل طور پر بدل چکی ہوتی ہے۔ ان کا شہر ایک گھنے، قدیم جنگل میں تبدیل ہوچکا ہوتا ہے، جہاں خونخوار ڈائنوسار انسانوں کا شکار کررہے ہوتے ہیں۔ بجلی اور نیٹ ورک بھی بند ہوچکے ہوتے ہیں۔
گریگ اور ڈینس کا خاندان اس آفت سے بچنے کے لیے اپنی کار میں سوار ہوکر وہاں سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن ناکام رہتا ہے۔ جلد ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ پورا علاقہ ایک پراسرار، روشن پورٹل میں پھنس کر جراسک دور میں پہنچ چکا ہے۔ ہر طرف موت اور تباہی کے درمیان خوف، بھوک اور بے بسی سے لڑتا ہوا یہ خاندان کسی طرح زندہ رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن کیا وہ ٹائم ٹریول کے اس خوفناک جال سے باہر نکل پائیں گے؟ اس کا جواب جاننے کے لیے آپ کو فلم دیکھنی ہوگی۔
ہدایت کاری
۹۰ءکی دہائی میں ’جراسک پارک‘ نے ناظرین کو ڈائنوسار کی دنیا سے روشناس کراکے مسحور کردیا تھا۔ ہدایت کار ڈیوڈ رابرٹ مچل کی ’دی اینڈ آف اوک اسٹریٹ‘ بھی اسی رومان انگیز دنیا کی ایک جھلک پیش کرتی ہے، لیکن ان کا فلم سازی کا انداز کہیں زیادہ سادہ اور براہِ راست ہے۔ فلم میں دکھائی گئی ایک عام سی کہانی میں ڈائنوسار اور دیوہیکل، آدم خور پرندوں جیسے مخلوقات کو شامل کرکے وہ خوف اور سنسنی پیدا کرتے ہیں۔
فلم کے تعاقب والے مناظر میں استعمال کیے گئے لانگ شاٹس تناؤ کو بڑھاتے ہیں۔ فلم کا پہلا نصف قدرے سست محسوس ہوتا ہے، لیکن جیسے ہی انسانوں اور ان خوفناک مخلوقات کے درمیان تصادم شروع ہوتا ہے، دوسرا نصف زیادہ مضبوط ہوجاتا ہے۔ ہدایت کار پورٹل کےپیچھے موجود سائنس کو تفصیل سے سمجھانے کے بجائے سنسنی اور تھرل پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ مخلوقات کا ڈیزائن شاندار ہے اور شکاری اور شکار کے درمیان جاری آنکھ مچولی ناظرین کے ایڈرینالین کو بڑھا دیتی ہے۔
تقریباً۹۰؍منٹ کی مدت بھی فلم کے حق میں جاتی ہے۔ تاہم، اگر پورٹل کے راز اور اس کے پیچھے موجود وجہ پر کچھ مزید روشنی ڈالی جاتی تو فلم کا تجسس اور سنسنی مزید بڑھ سکتی تھی۔
اداکاری
فلم کی اداکاری کی بات کی جائے تو این ہیتھ وے ہر لحاظ سے شاندار رہی ہیں۔ اپنے خاندان کو آدم خور مخلوقات سے بچانے کا ان کا جذبہ پردے پر پوری شدت کے ساتھ ابھرکر سامنے آتاہے۔ اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔
والد گریگ کے کردار میں ایوان میک گریگر ایک بہادر، حساس اور محبت کرنے والے شوہر اور والد کے کردار کو بخوبی نبھاتےہیں۔ یہ دونوں فن کار کہانی کو جذباتی گہرائی دینے کا کام کرتے ہیں، جبکہ بچوں کے کردار میں نوجوان اداکار میجی اسٹیلا اور کرسچن کونویری نے بھی اچھی اداکاری کی ہے۔
کیوں دیکھیں؟
اگر آپ ہالی ووڈکی فلموں خاص طور پرسائنس فکشن اور سروائیول تھرلر فلموں کے شوقین ہیں تو ’دی اینڈ آف اوک اسٹریٹ‘ آپ کے لیے ایک قابلِ توجہ فلم ثابت ہوسکتی ہےجس دیکھنا آپ کیلئے ایک اچھا تجربہ ثابت ہوسکتا ہے۔