تاریخ کے صفحات پر ایک طائرانہ نگاہ

Updated: October 30, 2022, 9:52 AM IST | Aakar Patel | Mumbai

پاکستان کے حالات سے قارئین بخوبی واقف ہیں۔ عمران خان کا لانگ مارچ شروع ہوچکا ہے اور سیاسی شب و روز نت نئی خبروں کا آئینہ بنے ہوئے ہیں۔ ایسے میں، مضمون نگار نے پاکستان کی اب تک کی تاریخ کا نہایت اختصار کے ساتھ احاطہ کیا ہے تاکہ قارئین موجودہ حالات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

Imran Khan`s Long March
عمران خان کا لانگ مارچ

پاکستان کے چوتھے آمر جنرل پرویز مشرف کو اقتدار سے بے دخل ہوئے چودہ سال ہوچکے ہیں۔ یہاں، آئندہ سال انتخابات ہونے ہیں۔ اس دوران ہرچند کہ فوج ایک بار پھر خبروں میں ہے مگر اس کی وجوہات پر روشنی ڈالی جائے تو یہ مضمون خاصا طویل ہوجائیگا اس لئے یہ موضوع پھر کبھی۔ فی الحال یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ پاکستان، فوج کے تسلط سے محفوظ دکھائی دے رہا ہے جو وقفے وقفے سے باگ ڈور سنبھالتی رہی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ جاننے کیلئے ہمیں پاکستان کی تاریخ کی ورق گردانی کرنی ہوگی۔ سہولت کیلئے اسے دہائیوں میں منقسم کیا جاسکتا ہے:
 پہلی دہائی پاکستان کیلئے تذبذب کی دہائی تھی۔ محمد علی جناح،  نئے ملک کی تشکیل کے بعد کچھ ہی عرصے میں اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ اُن کے بعد جو لوگ منصہ شہود پر آئے اُن کیلئے آئین سازی ایک مشکل مرحلہ تھا۔ مسلم لیگ نے الگ الگ طبقات اور برادریوں سے وزرائے اعظم منتخب کئے اور اُنہیں باری باری موقع دیا۔ ان میں دو بنگالی (سہروردی اور بوگرا)، ایک گجراتی (چُندریگر) اور دو پنجابی تھے (نون اور محمد علی) مگر اصل اقتدار ملک غلام محمد کے ہاتھوں میں تھا جو پشتون اور اعلیٰ سرکاری افسر تھے مگر ملازمت سے علاحدگی اختیار کرکے جیپ گاڑیاں درآمد کرنے کے کاروبار سے منسلک ہوگئے تھے۔ اُنہوں نے ایک کمپنی کی بنیاد ڈالی تھی جس کا نام تھا ’’محمد اینڈ مہندرا‘‘ جو بعد میں مہندرا اینڈ مہندرا کہلائی۔ بعدازیں  اُنہوں نے ملک و قوم کی خدمت کیلئے کاروبار کو خیرباد کہہ دیا۔ 
 اپنی سوانح حیات (فرینڈس ناٹ ماسٹرس) میں جنرل ایوب خان نے لکھا ہے کہ وہ محمد (ملک غلام محمد) ہی تھے جنہوں نے اُنہیں (ایوب خان کو) اقتدار سنبھالنے کی ترغیب دی تھی۔ ایوب خان وزیر دفاع اور فوجی سربراہ تھے جو ۴۸؍ سال کی عمر میں سبکدوش ہونا چاہتے تھے مگر محمد (ملک غلام محمد) نے اُنہیں صلاح دی کہ پاکستان کو سیاستدانوں سے بچانے کیلئے کچھ کریں۔ ایوب خان نے یہی کیا۔ 
 دوسری دہائی پاکستان کیلئے ’’ترقیاتی دہائی‘‘ تھی۔ ایوب خان نے اپنی ذہانت سے اقوام عالم کو اتنا متاثر کیا کہ ’’تہذیبوں کا تصادم‘‘ کے مصنف سیموئل ہنٹنگٹن نے اُن کا موازنہ لاگیور سولون سے کیا جو ایتھنز کے قدآور سیاستداں اور آئینی قانون ساز تھے۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان کی شرح نمو، ہندوستان کی شرح نمو سے زیادہ تھی۔ نہرو اور ایوب خان نے اسی دور میں اُس معاہدہ پر دستخط کئے تھے جس کے سبب قیام ِامن ممکن ہوسکا۔ اب پاکستان کو اپنے لئے ایک نمونہ (ماڈل) مل چکا تھا جو ایک طرح سے لیزس فیئر پالیسی کے معاشی اُصولوں اور بنیادی جمہوریت کا آمیزہ تھا۔ لیزس فیئر پالیسی کے بارے میں بتادیں کہ اس میں افراد اور معاشرہ کی معاشی سرگرمیوں میں حکومتی دخل اندازی بہت کم ہوتی ہے۔ 
  ایوب خان دیگر آمریت پسندوں کی طرح غلطیو ںسے پاک نہیں رہے۔ اُنہوں نے اپنے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کے ایک ایسے منصوبے کو منظور کرلیا جس کا مقصد فوجیوں کو شہری لباس میں لائن آف کنٹرول پر بھیجنا تھا۔ ہندوستان میں اُس وقت وزیر اعظم لال بہادر شاستری تھے جنہوں نے بین الاقوامی سرحد پر (لاہور کے قریب) فوج بھیجی۔ اسی دوران سوویت یونین کی مدد سے جنگ بندی ہوئی۔ اِس پر بھٹو نے استعفےٰ دے دیا اور عوام سے کہا کہ دھوکہ ہوا ہے۔ ۱۹۶۵ء کی جنگ نے ایوب خان کو کمزور کردیا اور اُن کے فوجی جنرلوں ہی نے اُنہیں اقتدار سے بے دخل کردیا چنانچہ یحییٰ خان نے عنان حکومت سنبھالی اور اس طرح ’’ترقیاتی دہائی‘‘ ختم ہوئی۔
 تیسری دہائی بھٹو کے عروج سے شروع ہوکر اُن کی پھانسی پر اختتام کو پہنچی۔ اس دوران پاکستان میں اولین باقاعدہ انتخابات منعقد ہوئے جن میں پنجابیوں کو ہزیمت اُٹھانی پڑی اور بنگالی شیخ مجیب الرحمان کو اکثریت حاصل ہوئی۔ یہ اکثریت مشرقی پاکستان تک محدود نہیں تھی بلکہ اسمبلی کی اکثر سیٹوں پر اُن کا پلڑا بھاری تھا۔ بنگالیوں کا تسلط مغربی پاکستان کو منظور نہیں ہوا۔ اس کے بعد پاکستان  دو حصوں میں تقسیم ہوگیا جس کے نتیجے میں بھٹو اقتدار میں آئے جن کی پاکستان پیوپلز پارٹی کو مغربی پاکستان میں معمولی اکثریت حاصل ہوئی تھی۔ برصغیر کے بہت سے کرشماتی سیاستدانوں کی طرح بھٹو کا دور اقتدار بھی تباہ کن ثابت ہوا۔ اُنہوں نے ایسا سوشلزم اختیار کیا جس نے چھوٹی چھوٹی تجارتی اکائیوں کو بھی، مثلاً آٹے کی چکی، قومیا دیا جس کے سبب گجراتیوں کے بہت سے باصلاحیت افراد کراچی سے نکل گئے۔ اس سے پاکستانی معیشت کو شدید نقصان پہنچا۔ وہ اس خیال کے حامل تھے کہ اُنہوں نے فوج کو نچلا بیٹھنے پر مجبور کردیا ہے۔ اسی خیال کے تحت اُنہوں نے مغربی پاکستان یعنی بنگلہ دیش کے ۹۰؍ ہزار جنگی قیدیوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ ان قیدیوں نے چند سال شمالی ہندوستانی کیمپوں میں گزارے ۔ بھٹو نے فوجی جنرلوں کو یا تو برطرف کردیا یا اختیارات کم کردیئے اور کاشتکار برادری کے ایک جالندھری صاحب کو فوج کا سربراہ مقرر کردیا۔ وہ اپنے ایک جنرل ضیاء الحق سے خوش نہیں تھے۔
 مگر ضیاء الحق حالات کو اچھی طرح بھانپ رہے تھے۔ جب آئندہ انتخابات میں بدعنوانی کے واقعات ہوئے اور تشدد پھوٹ پڑا تو فوج کو مداخلت کا پھر موقع ملا اور ضیاء الحق کا دور شروع ہوا۔
 چوتھی دہائی ضیاءالحق کے اقتدار کا زمانہ تھا۔اسی دہائی میں سال ۱۹۷۹ء واقعات در واقعات کا سال تھا۔ اس میں بھٹو پھانسی دی گئی جبکہ افغانستان میں سوویت یونین کی فوجیں داخل ہوئیں۔ انقلاب ایران بھی اسی دور کا واقعہ تھا۔ اسی دہائی میں ضیاء الحق کی طیارہ حادثہ میںموت ہوئی پھر بے نظیربھٹو اقتدار میں آئیں اور اس طرح کے کئی واقعات رونما ہوئے جو اَب تاریخ کا حصہ ہیں۔ 
 پانچویں دہائی اگر جمہوری دور تھا تو کسی حد تک، کیونکہ بالواسطہ طور پر اب بھی اصل اقتدار فوجی سربراہ کے ہاتھوں میں تھا۔ زیادہ صحیح ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ آئی ایس آئی چیف کے ہاتھوں میں تھا۔ 
 چھٹی دہائی جنرل مشرف کا دور لے کر آئی جس کے ساتھ ہی ایوب خان کی لیزس فیئر پالیسی اور جزوی جمہوریت بھی واپس آئی جس کا نتیجہ تھا کہ ہزار مشکلات کے باوجود پاکستان کی شرح نمو ۵؍ فیصد ہوگئی جو اَب بھی ہے۔ 
 ساتویں دہائی میں مشرف بے دخل ہوئے۔ یہ دہائی لگاتار تین عام انتخابات سے عبارت رہی جس پر بظاہر فوج کا سایہ نہیں تھا۔ اب آٹھویں دہائی میں ایسا لگتا ہے کہ پاکستان پارلیمانی جمہوریت کو قبول کرچکا ہے اور اس سے مطمئن ہے بالکل اُسی طرح جیسے بنگلہ دیش ہے یا پھر ہماری طرح جو ہمیشہ سے جمہوریت رہے ہیں۔n

imran khan Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK