اساتذہ کی عزت نہ کرنے والا سماج کبھی آسودہ حال نہیں ہو سکتا

Updated: March 07, 2021, 7:37 PM IST | Jamal Rizvi

وطن عزیز کے حالات پر نظر ڈالیں تو افسوس ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہاں اساتذہ کی حرمت اور وقار کے تحفظ کو ثانوی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ بہ ظاہر یہ کوئی بڑی بات نہ نظر آئے لیکن در حقیقت یہ ایک نازک اور حساس سماجی مسئلہ ہے جس سے اگر بہت زیادہ دیر تک بے اعتنائی برتی جائے تو یہ مسئلہ مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

انسانی سماج کو پرامن اور خوشحال بنانے میں اساتذہ کا جو کلیدی کردار ہوتا ہے اس کااعتراف ہر دور میں کیا گیا ہے۔ انسانی تہذیب اور تمدن کے ارتقائی سفر کو ایک واضح سمت و رفتار عطا کرنے میں اساتذہ نے جو خدمات انجام دی ہیں، وہ انسانی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش باب ہے۔ ایک ٹیچر نہ صرف ایک فرد کو مہذب اور ذمہ دار شہری بناتا ہے بلکہ اپنے علم و عمل سے ایسی فضا تعمیر کرتا ہے جس میں پورا معاشرہ زندگی کی ان قدروں سے واقفیت حاصل کرتا ہے جو انسانیت کی بقا اور ترقی کی ضامن ہوتی ہیں۔ زندگی کو ایک منظم سانچے میں ڈھالنے کا کام انجام دینے والے اساتذہ کسی ملک یا معاشرہ کے مستقبل کو سنوارنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں اساتذہ کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ عہد حاضر کا انسانی سماج جس طر ح روز بہ روز زندگی کی پیچیدگیوں میں الجھتا جا رہا ہے اس کے سبب نہ صرف انسان کے طرز حیات میں تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں بلکہ زندگی اور سماج کے متعلق انسانی نظریہ میںبھی تبدیلی ہو رہی ہے ۔ تبدیلی کے اس عمل سے دو چار ہونے کے باوجود دنیا کے بیشتر ملکوں میں اساتذہ کو جو عزت و وقار حاصل ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر اس انتہائی اہم شعبے سے وابستہ افراد کی عظمت اور اہمیت کو نظر انداز کردینے کے بعد کوئی بھی معاشرہ اپنے کو مہذیب اور ترقی یافتہ کہنے کا داعی نہیں ہو سکتا۔ اس ضمن میں اگر وطن عزیز کے حالات پر نظر ڈالیں تو یہاں صورتحال ذرا مختلف نظر آتی ہے اور یہ مختلف صورتحال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اب ہندوستانی سماج میں اساتذہ کی حرمت اور وقار کے تحفظ کو ثانوی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ اگر چہ بہ ظاہر یہ کوئی بڑی بات نہ نظر آئے لیکن در حقیقت یہ ایک نازک اور حساس سماجی مسئلہ ہے جس سے اگر بہت زیادہ دیر تک بے اعتنائی برتی جائے تو یہ مسئلہ مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔
 گزشتہ دنوں اس سلسلے میں ایک ایسی خبر نظر سے گزری جو اس تلخ حقیقت سے روبرو کراتی ہے کہ ملک اور معاشرہ سے متعلق پالیسیاں اور منصوبے بنانے کا اختیار جن ہاتھوں میں ہے ان کے نزدیک اب اساتذہ کی قدر و منزلت کا معاملہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اس خبر کے مطابق مہاراشٹر خصوصاً ممبئی میں کورونا کے بڑھتے معاملوں پر قابو پانے کی خاطر سے جو احتیاطی اقدامات حکومت کی طرف سے کئے جا رہے ہیں ان میں سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کو مارشل کی ڈیوٹی تفویض کی گئی ہے۔ اسکولوں میں درس و تدریس کے کام انجام دینے والے یہ اساتذہ اب عوامی مقامات پر ان لوگوں کی نگہداشت کریں گے جو حکومت کے طے شدہ احتیاطی اقدامات کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ یہ اساتذہ ایسے لوگوں کے درمیان کورونا سے تحفظ کیلئے احتیاطی اقدامات کی سختی سے پابندی کو یقینی بنانے کا کام انجام دیں گے اور ساتھ ہی ان لوگوں سے جرمانہ بھی وصول کریں گے جو ان احتیاطی اقدامات کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ارباب اقتدار کا یہ فیصلہ نہ صرف یہ کہ اساتذہ کی حرمت اور عظمت کو پامال کرنے کے مترادف ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اب ہندوستانی معاشرے میں علم کی اہمیت اس قدر نہیں رہ گئی جس کی بنا پر یہ کہا جا سکے کہ انسان کو زیور علم سے آراستہ کرنے والے اساتذہ سماج کی تعمیر و تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
 زندگی اور شخصیت سازی کا اہم کام انجام دینے والا یہ شعبہ ان دنوں جس بحرانی صورتحال سے گزر رہا ہے، ان کے اسباب پر غور کر نا ضروری ہے۔ اس ضمن میں سب سے پہلی بات جو سامنے آتی ہے وہ یہ کہ اس شعبے پر سیاست دانوں کا غلبہ اس حد تک ہو گیا ہے کہ وہ دیگر شعبہ ہائے حیات کی مانند اسے بھی اپنی مرضی کا تابع بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ اس ملک کے سیاسی منظر نامہ سے واقفیت رکھنے والا ہر انسان اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ سیاست میں کسی اعلیٰ مقام تک پہنچنے کے بعد کس طرح سیاست داں خود کو پورے انسانی سماج سے افضل و برتر سمجھنے لگتے ہیں۔ چونکہ ملک اور معاشرہ کی ترقی اور خوشحالی کی منصوبہ سازی کا کام بیشتر ایسے ہی سیاست دانوں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے لہٰذا وہ سماجی حقائق اور نزاکتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی فیصلہ کرنے کی جگہ اپنی مرضی اور خواہش کو فوقیت دیتے ہیں۔ سیاست دانوں کا یہ رویہ بعض اوقات ایسے مسائل پیدا کر دیتا ہے جس کے دور رس نتائج پورے سماج کو متاثر کرتے ہیں۔ ملک اور عوام کی فلاح اور ترقی کیلئے منصوبہ سازی کرنے والے یہ سیاست داں جب اپنی مرضی اور خواہش کی بہر طور تکمیل کی ہوس میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو وہ ان حقائق کو بھی نظر انداز کر دینے کی خو اختیار کر لیتے ہیں جن کے بغیر ایک خوشحال اور پرامن سماج کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اس ضمن بالکل سامنے کی بات مرکزی حکومت کے ذریعہ بنائے گئے وہ زرعی قوانین ہیں جن کے خلاف گزشتہ چار پانچ مہینوں سے کسان احتجاج کر رہے ہیں لیکن حکومت ان کی کوئی بھی بات سننے پر راضی نہیں ہے۔
 سیاست دانوں کی ہٹ دھرمی والا یہ رویہ ہندوستانی سیاست میں اس قدر اپنی جگہ بنا چکا ہے کہ اب عموماً ہر پارٹی اس طرز پر فیصلے کرنے کو اپنا حق سمجھنے لگی ہے۔ مہاراشٹر میں ارباب اقتدار کے ذریعہ اساتذہ کو مارشل کی ڈیوٹی پر مامور کئے جانے والے فیصلے کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھنا چاہئے۔اس سے قبل بھی اساتذہ سے ایسے کام لئے جاتے رہے ہیں جو ان کے تدریسی کاموں میں مخل ہوتے رہے ہیں لیکن اس بار ممبئی میںشعبہ ٔ تعلیم کے افسران نے انتہائی قابل مذمت فیصلہ کیا جو نہ صرف اساتذہ کے تدریسی عمل کو متاثر کرنے والا ہے بلکہ ان کے سماجی مرتبہ کو بھی یہ فیصلہ وسیع پیمانے پر نقصان پہنچائے گا۔انسانی معاشرے میں اساتذہ کی جو قدر و منزلت ہے، اس کے پیش نظر اس طرز کے فیصلوں کو کسی طور سے بھی درست نہیں قرار دیا جا سکتا۔اس سے قبل مختلف سرکاری منصوبوں کے نفاذ میں بھی اساتذہ کو ’استعمال‘ کیا جا تا رہا ہے اور چونکہ ایک انسان جو حصول تعلیم کے بعد مختلف قسم کے مسائل اور پریشانیوں کا سامنا کرنے کے بعد اسکول میں ملازمت حاصل کر لیتا ہے وہ اپنی ملازمت کے تحفظ کے پیش نظر اس طرح ’ استعمال‘ ہونے پر راضی ہو جاتا ہے لہٰذا اس شعبے کے افسران اور ارباب اقتدار یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب انھیں اسی طرح ’استعمال‘ کرتے ہوئے ان سے کوئی بھی کام لیا جا سکتا ہےلیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ارباب اقتدار اور اس شعبے کے افسران کا رویہ اس حد کو پہنچ گیا ہے کہ وہ اساتذہ کو مارشل کاکام تفویض کرنے میں بھی نہیں ہچکچاتے۔
 درس و تدریس کے شعبے میں پیدا ہو جانے والی دیگر خرابیوں میں ایک بڑی خرابی یہی ہے کہ اساتذہ کی عظمت اور اہمیت اب نہ تو ارباب اقتدار کے نزدیک باقی رہی ہے اور نہ ہی سماج اس معاملے میں حساس ہے اور اس سے بھی بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ خود اساتذہ بھی اپنی اہمیت اور عظمت کے تحفظ کے تئیں سنجیدہ نہیں ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ شعبہ اب انسانی خدمت کے اس تصور سے بڑی حد تک عاری ہو چکا ہے جس میں مالی منفعت کے بجائے سماجی فلاح اور ترقی کو اولیت حاصل تھی۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ زندگی کے دیگر پیشوں کی مانند درس و تدریس بھی محض ایک ایسا پیشہ بن گیا ہے جو مالی منفعت کی راہ آسان کرتا ہے اور چونکہ اسکول، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں ملازمت کرنے والے بیشتر اساتذہ اسی نظریہ کو حتمی حقیقت سمجھنے لگے ہیں لہٰذا نہ تو ان کا سماجی مرتبہ محفوظ رہ گیا ہے اور نہ ہی خود اس کی حفاظت کے تئیں سنجیدہ نظر آتے ہیں۔اس وقت وطن عزیز میں جو سماجی مسائل پورے معاشرتی نظام کو متاثر کر رہے ہیں ان میں یہ مسئلہ بہت نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔اگر اس جانب سے یوں ہی مسلسل غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا رہا تو یہ مسئلہ جس حد تک پہنچ جائے گا اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔
 دنیا کے نقشے پر ترقی یافتہ اور خوشحال ملکوں کی فہرست میں نظر آنے والے ممالک سے اپنا موازنہ کرنا ہندوستانیوں کو، خواہ وہ کسی بھی عہدے یا منصب پر فائز ہو بہت مرغوب ہے لیکن اس تقابل میں جب بات شعبہ ٔ تعلیم اور درس و تدریس کی آتی ہے تو وہاں دنیا کے دیگر ملکوں کے درمیان ہندوستان جس مقام پر نظر آتا ہے وہ مقام بہت زیادہ اطمینان بخش نہیں ہے۔ دنیا کے وہ ممالک جو مبینہ طور پر ابھی ترقی اور خوشحالی کی اس سطح پر نہیں پہنچ سکے ہیںکہ ان کا نام ان ملکوں کے ساتھ لیا جا سکے جو اپنی خوشحالی اور ترقی کا پرچم اٹھائے عالمی لیڈر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ان ملکوں میں بھی اساتذہ کی عزت اور شعبہ ٔ درس و تدریس کی اہمیت اس ملک سے کہیں زیادہ ہے جو ملک اس وقت ’وشو گرو‘ بننے کی نام نہاد کوششوں میں مصروف ہے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ کوششیں اس وقت تک بار آور نہیں ہو سکتیں جب تک کہ علم کی اہمیت اور استاد کی حرمت اور وقار کے تحفظ کو یقینی نہ بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK