عام آدمی پارٹی پسند ہو یا ناپسند، اُس کی طرف سے اطمینان ہو یا بے اطمینانی، قومی پارٹی کا درجہ ملنے پر ’بدھائی‘ اُس کا حق ہے۔
EPAPER
Updated: April 12, 2023, 10:25 AM IST | Mumbai
عام آدمی پارٹی پسند ہو یا ناپسند، اُس کی طرف سے اطمینان ہو یا بے اطمینانی، قومی پارٹی کا درجہ ملنے پر ’بدھائی‘ اُس کا حق ہے۔
عام آدمی پارٹی پسند ہو یا ناپسند، اُس کی طرف سے اطمینان ہو یا بے اطمینانی، قومی پارٹی کا درجہ ملنے پر ’بدھائی‘ اُس کا حق ہے۔ یہ اس لئے بھی بڑا اعزاز ہے کہ ۲۰۱۱ء کے انّا ہزارے آندولن سے جنم لینے والی اس پارٹی نے کم وقت، صرف نو سال سات ماہ، میں یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ اَنا صاحب اب گوشۂ گمشدگاں کا حصہ ہیں، کبھی کبھار ہی کسی خبر میں اُن کا نام آتا ہے مگر اُن کے آندولن سے نکلنے والی پارٹی روزانہ خبروں میں رہتی ہے۔ پارٹی کو نیشنل اسٹیٹس ملنا ہی اہم اور قابل ذکر نہیں، اس پارٹی کو نہایت کم وقت میں بڑی فتوحات بھی حاصل ہوئی ہیں۔ پہلی مرتبہ، دہلی اسمبلی الیکشن میں تو اس نے دیکھتے ہی دیکھتے کامیابی حاصل کرلی تھی۔ یہ تب کی بات ہے جب بی جے پی کے اچھے دن آئے ہوئے تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا۔ اس نے گزشتہ سال پنجاب بھی جیت لیا جو اس کا بڑا کارنامہ تھا۔
عام آدمی پارٹی کو قومی پارٹی کا اعزاز ایسے وقت میں ملا ہے جب کئی علاقائی پارٹیاں نسبتاً زیادہ عرصہ کی سیاسی و انتخابی جدوجہد کے باوجود قومی پارٹی بننے سے محروم ہیں۔ اگر کچھ جماعتیں قومی درجہ پانے کے بعد یہ درجہ گنوا چکی ہیں تو کئی ایسی ہیں جنہیں یہ درجہ ملا ہی نہیں۔ قومی درجہ گنوانے والی پارٹیوں میں تازہ بہ تازہ مثال ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کی ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ انہیں قومی درجہ پانے کی جدوجہد کرنی چاہئے تھی یا نہیں، ہمیں لگتا ہے کہ سیاسی پارٹیاں عوام کے ہر طبقے سے اپنا تعلق بنانے اور ہر علاقے اور خطے کے مسائل کو اُجاگر کرنے کی کوشش کرتی رہیں تو اُن کے حق میں فضا سازگار ہوتی چلی جاتی ہے۔ وقت لگتا ہے مگر یہ ممکن ہوجاتا ہے مگر عین الیکشن کے وقت چھلانگ لگا کر کسی ریاست میں پہنچ جانا اور اچانک عوام کا ہمدرد و غمگسار بن جانا فائدہ مند نہیں ہوتا کیونکہ یہ مفاد پرستانہ سیاسی عمل ہے جسے عوام بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رائے دہندگان کسی ایسی پارٹی کو جلدی گھاس نہیں ڈالتے جس کی علاقائی پہچان بہت مضبوط ہے۔
ترنمول کانگریس کو بہت اُمید تھی کہ جہاں جہاں بھی بنگال کے لوگ ہیں وہاں وہاں اس کیلئے زمین زرخیز ہے اور اگر اس نے اُس زرخیزی کا فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی تو کامیابی قدم چومے گی مگر گوا اور شمال مشرقی ریاستوں میں عوام نے اُسے مسترد کردیا۔ وہ شاید یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ ترنمول بہت اچھی پارٹی ہے مگر بنگال میں رہے تو اچھا ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے بتادیں کہ ترنمول ۱۹۹۸ء میں قائم ہوئی تھی۔ اسے ۲۰۱۴ء میں ریاستی پارٹی کاجبکہ ۲۰۱۶ء میں قومی پارٹی کا درجہ ملا۔ سنا ہے کہ ترنمول کے ارباب اقتدار الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرینگے مگر ہمارا خیال ہے کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کی پسند ناپسند یا صوابدید کے مطابق نہیں ہوتا بلکہ چند اُصولوں کی بنیاد پر ہوتاہے، مثلاً:
(۱) قومی پارٹی کا درجہ اُسے ملتا ہے جو کم از کم چار ریاستوں میں مقبول ہو (۲) جسے چار یا زائد ریاستوں میں ۶؍ فیصد ووٹ ملیں (۳) جس کے کم از کم چار ایم پی ہوں اور (۴) جس نے لوک سبھا کی ۲؍ فیصد نشستیں کم از کم تین ریاستوں سے جیتی ہوں۔ ٹی ایم سی اور این سی پی (اس لسٹ میں سی پی آئی بھی ہے) یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ اُن کے بعد قائم ہونے والی (عام آدمی) پارٹی اتنی آگے چلی گئی