وہ پارلیمنٹ مسلسل عوامی موضوعات اٹھارہے تھے، ایسے میں ان کیخلاف کارروائی سے عوام میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔
EPAPER
Updated: April 03, 2026, 11:33 AM IST | Mumbai
وہ پارلیمنٹ مسلسل عوامی موضوعات اٹھارہے تھے، ایسے میں ان کیخلاف کارروائی سے عوام میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔
عام آدمی پارٹی نے پنجاب سے راجیہ سبھا کے رکن راگھو چڈھا کو ایوان بالا میں ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ پارٹی نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا سیکریٹریٹ کو خط بھی بھیجا ہے۔ اب اشوک متل راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کے ڈپٹی لیڈر ہوں گے۔ خط کے ذریعہ عام آدمی پارٹی نے راجیہ سبھا سیکریٹریٹ کو مطلع کیا ہے کہ ایم پی راگھو چڈھا کو پارلیمنٹ میں بولنے کے لئے وقت نہ دیا جائے۔ اس کے علاوہ عام آدمی پارٹی نے راجیہ سبھا سیکریٹریٹ کو پیش کردہ خط میں ایم پی اشوک متل کو پارٹی کا ڈپٹی لیڈر مقرر کرنے کی درخواست کی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ راجیہ سبھا میں ان کے بولنے کے وقت پر بھی قینچی چلے گی اور ممکن ہے کہ انہیں بولنے کا وقت بہت کم دیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: ’اسمارٹ میٹر‘ پر لوک سبھا میں شدید احتجاج
یہ معاملہ راگھو چڈھا کے لئے بڑا جھٹکا مانا جارہا ہے کیوں کہ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے پارلیمنٹ میں مسلسل عوامی موضوعات اٹھارہے تھے۔ ان کے اٹھائے گئے معاملات اور سوالات سوشل میڈیا پر بھی کافی دیکھے جارہے تھے۔ اس تازہ واقعہ کے سلسلے میں ذرائع کی مانیں تو راگھو چڈھا کو پارلیمنٹ کی طرف سے د ئیے گئے وقت میں بھی کٹوتی ہونے والی ہے۔ غور طلب ہے کہ کچھ عرصہ سے راگھو چڈھا پارلیمنٹ میں عوامی مسائل زوردار طریقے سے اُٹھارہے تھے۔ جن میں ہوائی اڈوں پر ۱۰؍روپے کی چائے سے لے کر ڈیلیوری بوائز اور موبائل ریچارج کے معاملے شامل ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال کے بجٹ پر بحث کے دوران بھی نہایت مدلل انداز میں وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے سامنے وہ تمام خامیاں اور پریشانیاں رکھی تھیں جو بجٹ میں موجود تھیں اور اس کی وجہ سے بڑھنے والی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: مالدہ میں۷؍ عدالتی افسران یرغمال، سپریم کورٹ شدید برہم
اب ان پر عام آدمی پارٹی کی کارروائی سے لوگ حیران نظر آرہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ راگھو چڈھا پارٹی سے مشورہ کئے بغیر مسائل اُٹھا رہے تھے۔ وہ راجیہ سبھا میں کن مسائل پر بات کرنے والے ہیں، اس کے بارے میں بھی پارٹی کو نہیں بتاتے تھے۔ عام آدمی پارٹی نے اس سلسلے میں انہیں خبردار بھی کیا تھا۔ حالانکہ پارٹی کی جانب سے ابھی تک ان کے خلاف کی گئی کارروائی کی وجوہات واضح نہیں کی گئی ہیں لیکن پارٹی کے اس فیصلہ کے پیچھے ڈسپلن شکنی اور پارٹی لائن کے تحت کام نہ کرنا بڑی وجہ بتائی جارہی ہے۔سیاسی حلقوں میں طویل عرصے سے اس طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ راگھو چڈھا عام آدمی پارٹی کی لائن کے خلاف بات کرتے ہیں۔ مزید برآں حال ہی میں کیجریوال اورسیسودیا کے بری ہونےپر انہوں نے خاموشی اختیار کی تھی۔