Updated: April 02, 2026, 8:02 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کی متوقع فلم ’’ماتربھومی: مے وار ریسٹ اِن پیس‘‘ کی ریلیز تاریخ ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار ہے۔ ابتدائی طور پر ۱۷؍ اپریل ۲۰۲۶ء کیلئے طے شدہ فلم کو مؤخر کر دیا گیا، جبکہ نئی رپورٹس کے مطابق اسے ۱۵؍ مئی کو ریلیز کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اپوروا لاکھیہ کی ہدایتکاری میں بننے والی اس فلم کا عنوان بھی حال ہی میں تبدیل کیا گیا، جس کا مقصد کہانی کے جذباتی اور انسانی پہلو کو اجاگر کرنا ہے۔
بالی ووڈ میں اس وقت سلمان خان کی آنے والی فلم ’’ماتربھومی: مے وار ریسٹ اِن پیس‘‘ کی ریلیز تاریخ سب سے زیادہ زیر بحث موضوع بن چکی ہے، جہاں مداح سرکاری اعلان کے منتظر ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق فلم کی ریلیز کو ایک بار پھر مؤخر کر دیا گیا ہے اور اب ۱۵؍ مئی ۲۰۲۶ء کو سینما گھروں میں پیش کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ رپورٹس کے مطابق فلم کی اضافی شوٹنگ مکمل ہو چکی ہے اور پروڈکشن اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق، ’’فلم تقریباً تیار ہے، اس لئے بنانے والوں کا خیال ہے کہ اسے زیادہ تاخیر کے بجائے جلد ریلیز کیا جائے۔ ۱۵؍ مئی کی تاریخ پر سنجیدگی سے غور جاری ہے، تاہم حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’بھوت بنگلہ‘‘ کی ریلیز مؤخر، ’’دھرندھر ۲‘‘ کے دباؤ میں نئی حکمت عملی
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلم کی ابتدائی ریلیز ۱۷؍ اپریل ۲۰۲۶ء کیلئے مقرر تھی، لیکن باقی شوٹ اور پوسٹ پروڈکشن کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا۔ اس کے بعد مختلف تاریخوں پر غور کیا گیا، جن میں یوم آزادی کا ویک اینڈ بھی شامل تھا۔ تاہم ذرائع کے مطابق اس تاریخ پر عامر خان اور سنی دیول کی فلم ’’لاہور ۱۹۴۷ء‘‘ کے ساتھ ممکنہ ٹکراؤ کے باعث یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا۔ دوسری جانب فلم کے عنوان کی تبدیلی بھی خاصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ابتدائی طور پر ’’بیٹل آف گلوان‘‘ کے نام سے جانی جانے والی اس فلم کا نام بدل کر ’’ماتربھومی: مے وار ریسٹ اِن پیس‘‘ رکھا گیا، جس سے فلم کے موضوع میں تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے۔ اپوروا لاکھیہ نے اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ اچانک نہیں تھا بلکہ ابتدا سے ہی دونوں عنوانات رجسٹر کئے گئے تھے۔
ان کے مطابق، ’’یہ فلم محض جنگ کے بارے میں نہیں بلکہ ایک خاموش جنگ کی کہانی ہے، جس میں قربانی، انسانیت اور امن کا پیغام شامل ہے۔ نیا عنوان اس جذبے کو زیادہ بہتر انداز میں بیان کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ فلم میں شامل اسی نام کے گانے کو شائقین کی جانب سے مثبت ردعمل ملا، جس نے اس عنوان کو مزید موزوں بنا دیا۔ فلمی ماہرین کے مطابق ریلیز تاریخ میں مسلسل تبدیلیاں کسی بھی بڑے پروجیکٹ کیلئے خطرے کی علامت ہو سکتی ہیں، کیونکہ اس سے نہ صرف مارکیٹنگ حکمت عملی متاثر ہوتی ہے بلکہ ناظرین کی توقعات بھی غیر یقینی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر فلم کا مواد مضبوط ہو تو تاخیر اس کیلئے فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سورو گنگولی کی بایوپک کا نام ’’دادا‘‘ راجکمار راؤ مرکزی کردار میں
ماتروبھومی ایک جنگی ڈرامہ ہے جو گلوان وادی کے تنازع سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے، تاہم اس میں جنگ کے بجائے انسانی جذبات اور قربانی پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ فلم کے پوسٹر پر درج ٹیگ لائن ’’مے وار ریسٹ اِن پیس‘‘ May War Rest in Peace بھی اسی پیغام کی عکاسی کرتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا ۱۵؍ مئی کی مجوزہ تاریخ برقرار رہتی ہے یا فلم کو مزید مؤخر کیا جاتا ہے۔ مداحوں اور انڈسٹری دونوں کی نظریں اب سرکاری اعلان پر مرکوز ہیں، جو اس غیر یقینی صورتحال کو ختم کر سکتا ہے۔