اگنی پتھ اسکیم: کیا نوجوانوں کا احتجاج رنگ لائیگا؟

Updated: June 19, 2022, 9:20 AM IST | Aakar Patel | Mumbai

اس سلسلے میں فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے مگر ماضی میں ہم پاٹی دار تحریک کا حشر دیکھ چکے ہیں۔ احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو پُرتشدد نہیں ہونا چاہئے تھا۔ پُرامن تحریک زیادہ کارگر ہوتی ہے۔

agneepath scheme
اگنی پتھ اسکیم

گنی ویر کے معاملے میں بھی حکومت نے پہلے فیصلہ اور اقدام کیا، پھر اس کے عواقب پر غور کرنا شروع کیا۔ وہ چیز جو ایک تجربہ کے طور پر اپنائی جاسکتی تھی اور جس سے تقرریوں کا ایک مختصر حصہ متاثر ہوسکتا تھا، اُس نے پورے موجودہ طریق کار ہی کی جگہ لے لی۔ اب اس میں تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ پہلے یہ اعلان کیا گیا کہ جو ۲۱؍ سال سے زیادہ کی عمر کے ہیں وہ اس سال عرضی دے سکتے ہیں، پھر کہا گیا کہ نیم فوجی دستوں میں بے روزگار اگنی ویروں کیلئے ریزرویشن ہوگا۔ اہم معاملات میں پہلے غوروخوض کیا جاتا ہے تب پالیسی بنائی جاتی ہے۔ ہمارے یہاں نیا نظام قائم ہوا ہے کہ پہلے پالیسی بنالی جاتی ہے پھر غوروخوض کے بعد اس میں ترامیم کی جاتی ہیں۔ اگنی پتھ اسکیم کا خاکہ پیش کرنے والوں نے یقیناً مختلف پہلوؤں پر غور کیا ہوگا مگر جتنا غوروخوض درکار تھا اُتنا نہیں ہوا ، ورنہ یہ نوبت نہ آتی۔
 اس کا جو ردعمل سامنے آیا وہ یقینی تھا۔ اس سال کے اوائل میں انہی علاقوں میں جہاں اِن دنوں احتجاج جاری ہے، اسی نوعیت کے واقعات ریلوے کی ملازمتوں کے تعلق سے رونما ہوئے تھے۔ اس مرتبہ وہ نوجوان سڑکوں پر ہیں جنہوں نے مسلح افواج میں تقرری کیلئے ضروری تربیت حاصل کی۔ انہیں دو سال انتظار کرنا پڑا (جبکہ اُن کیلئے یہ دو سال کا عرصہ بہت اہم تھا)۔ وجہ وبائی حالات تھے مگر اب اُن سے کہا جارہا ہے کہ جس اسکیم کے تحت اُن کی تقرری ہوسکتی تھی وہ اب نہیں ہے یعنی اُنہیں بالکل اُسی طرح منتخب نہیں کیا جاسکتا جس طرح اُن سے پہلے اور اس سے بھی پہلے کی نسل کی تقرری عمل میں آئی تھی جنہوں نے طویل عرصہ فوج کی خدمت کی، سبکدوش ہوئے اور بقیہ تمام عمر فوجی کہلائے۔نئی اسکیم کےتحت اُنہیں کانٹریکٹ پر تقرری دی جائیگی اور اُن میں سے بیشتر کو چار سال بعد سبکدوش کردیا جائیگا۔ یہ اسکیم اُن کے لئے قطعی غیر متوقع ثابت ہوئی۔ اُنہوں نے اس کیلئے اتنی محنت سے تربیت حاصل نہیں کی تھی۔ اب اُن کا غم و غصہ اُبل پڑا ہے تو حکومت اپوزیشن کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہے کہ اُس نے نوجوانوں کو اشتعال دلایا ہے جبکہ اس الزام میں کچھ دم نہیں ہے۔
 حکومت جانتی تھی کہ اس قسم کا ردعمل سامنے آسکتا ہے، اس کا ایک اشارہ اس بات سے ملتا ہے کہ اسکیم کا اعلان وزیر اعظم نے نہیں کیا بلکہ وزیر دفاع اور بحری، بری وفضائی فوج کے سربراہان نے اس کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم کے طرفدار کہیں گے کہ اس میں کیا قباحت ہے۔ ہم بھی سمجھتے ہیں کہ اس میں کوئی قباحت نہیں ہے مگر ۲۰۱۴ء کے بعد سے تو ایسا نہیں ہورہا ہے۔ جب بھی کوئی بڑا اعلان کرنا ہوتا ہے تب ایک ہی شخص کیمروں کے سامنے آتا ہے اور بتاتا ہے کہ کون سی غیر معمولی چیزیں ہونے جارہی ہیں۔ ایک ایسا اقدام جس کے ذریعہ فوج کی ۲۲۵؍ سالہ تاریخ بدل کر رہ جائیگی، ماسٹراسٹروک تھا یعنی اس قابل تھا کہ اس کا اعلان وزیر اعظم خود ہی کرتے مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ اب عالم یہ ہے کہ اگنی پتھ اسکیم اُس صف میں شامل ہوگئی ہے جس صف میں سی اے اے، نوٹ بندی، زرعی قوانین اور لاک ڈاؤن وغیرہ تھے۔ ان تمام اقدام کے ساتھ مسئلہ یہ رہا کہ ان کا اعلان پہلے ہوا اور ان پر غوروخوض بعد میں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس اسکیم کا بھی وہی حشر ہوگا جو زرعی قوانین اور سی اے اے کا ہوا؟ کیا اسے واپس لے لیا جائیگا یا سرد خانے میں ڈال دیا جائیگا؟ یہ وقت ہی بتائے گا۔ میرے خیال میں اگنی ویر اسکیم نافد بھی ہوگی اور جاری بھی رہے گی کیونکہ جب متاثرین کا ردعمل پُرتشدد احتجاج کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے تو دیرپا نہیں ہوتا۔ یہ نوجوان جو اتنی برہمی کا اظہار کررہے ہیں جلد تھک جائینگے اور گھروں کو لوَٹنے پر مجبور ہوں گے۔ ایسا کہنے کی وجہ ہے۔ ہم نے ملازمتوں یا تقرریوں کے سلسلے میں تشدد پہلے بھی دیکھا ہے۔ مثال کے طور پر پاٹی دار تحریک جو ۲۰۱۵ء میں جاری ہوئی تھی۔ جو تحریک عوامی تحریک کے طور پر شروع ہوئی تھی، جلد ہی اپنا دم خم گنوانے لگی جبکہ اس تحریک میں شامل لوگوں کا کوئی مطالبہ پوری طرح سے تسلیم نہیں کیا گیا۔ تحریکات وہی کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہیں جو پُرامن ہوتی ہیں، جمہوری طریقے پر جاری رہتی ہیں۔ اس کی مثال سی اے اے اور زرعی قوانین کے خلاف جاری ہونے والی تحریکات سے ملتی ہے۔ اگنی پتھ اسکیم سے ناراض اور بددل نوجوانوں کو پُرامن تحریک کے بارے میں سوچنا چاہئے تھا جو زیادہ عرصہ تک جاری رہتی۔ اُن کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی منظم قیادت اُن کے پاس نہیں ہے چنانچہ اُنہوں نے احتجاج کے بارے میں شاید منصوبہ بندی نہیں کی۔ ورنہ وہ منظم ہوتے اور باقاعدہ تحریک چلاتے۔
 ایک وجہ اور بھی ہے۔ بے روزگاری ذاتی مسئلہ ہے جس پر کوئی نوجوان شرم محسوس کرتا ہے۔ وہ اپنے جیسے سیکڑوں اور ہزاروں نوجوانوں کو تلاش نہیں کرپاتا۔ اسی لئے بے روزگار نوجوان منظم نہیں ہوپاتے۔ اگر وہ ایک پلیٹ فارم پر آبھی جائیں تو اپنا غم و غصہ ظاہر کرنے کے درپے رہتے ہیں، مسئلہ کے پُرامن حل پر ضروری غورو خوض نہیں کرپاتے۔ اسی لئے، مَیں یہ محسوس کرتا ہوں کہ چند دنوں یا ہفتوں کے بعد یہ نوجوان واپس ہوجائینگے اور حکومت اس اسکیم کو جاری کردے گی۔ جو لوگ مجھ سے زیادہ قابل ہیں اُنہوں نے اسکیم کے فوائد و نقصانات سے بحث کی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ بحث ابھی جاری ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ فائدے زیادہ ہیں اور کچھ کا کہنا اس کے برخلاف ہے۔ جو لوگ دونوں جانب کی گفتگو سنیں گے وہ اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اسکیم کے نقصانات بے حد افسوسناک ہوسکتے ہیں جبکہ فائدہ، خرچ میں کمی کے علاوہ کچھ نہیں۔
 ایک آخری نکتہ جو مجھے ضروری معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ بے روزگاری ایک گہرا اور پُرپیچ مسئلہ  ہے اور دن بہ دن زیادہ پریشان کن ہوتا جارہا ہے۔ اس ماہ جاری ہونے والا سرکاری ڈیٹا یہ اشارہ دیتا ہے کہ ہم روزگار بڑھانے کے بجائے گھٹا رہے ہیں۔ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ لوگ مینوفیکچرنگ اور سروس سیکٹر کو چھوڑ کر زراعت کی طرف جارہے ہیں۔ بے روزگاری کی وجہ سے شہر چھوڑ کر دیہاتوں کا رُخ کرنے کے اس رجحان کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنا غم بیان کرنے سے قاصر ہیں اس لئے یہ کہنے کو ترجیح دینا چاہتے ہیں کہ ہم کام ہی نہیں کررہے ہیں۔ سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکنامی کا کہنا ہے کہ ۱۵؍ سال سے زیادہ کی عمر کے لوگ جو کام کررہے ہیں یا کام کی تلاش میں ہیں اُن کی تعداد ۴۰؍ کروڑ ہے۔ 
 ملک میں بے روزگاری تسلسل کے ساتھ موضوع بحث ہے جو جنوبی ایشیاء میں بھی سب سے زیادہ ہے اور دُنیا کے بہتیرے ملکوں سے بھی زیادہ۔ نئے ہندوستان میں روزگار نہیں ہے، ملازمتیں نہیں ہیں چنانچہ نوجوانوں کا جو غصہ ہم دیکھ رہے ہیں وہ آنے والے دنوں میں ایک بڑے مسئلہ  کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے، خدانخواستہ۔  n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK