Updated: December 27, 2020, 2:45 PM IST
نابغہ‘ ایسے شخص کو کہتے ہیں جو غیر معمولی ذہنی صلاحیتوں کا مالک ہو۔ لغت میں اس کا معنی ’عبقری صلاحیت کا مالک‘ بھی درج ہے۔ انگریزی میں اس کیلئے لفظ ’جینس‘استعمال کیا جاتا ہے۔ البتہ نابغہ مفرد نہیں بلکہ روزگار کے لاحقے کے ساتھ (نابغہ ٔ روزگار) مستعمل ہے۔
شمس الرحمٰن فاروقی۔ تصویر:آئی این این
’نابغہ‘ ایسے شخص کو کہتے ہیں جو غیر معمولی ذہنی صلاحیتوں کا مالک ہو۔ لغت میں اس کا معنی ’عبقری صلاحیت کا مالک‘ بھی درج ہے۔ انگریزی میں اس کیلئے لفظ ’جینس‘استعمال کیا جاتا ہے۔ البتہ نابغہ مفرد نہیں بلکہ روزگار کے لاحقے کے ساتھ (نابغہ ٔ روزگار) مستعمل ہے۔ ہماری زبان اور ادب میں ایسی کئی شخصیتیں گزری ہیں جنہیں کسی تامل کے بغیر نابغہ ٔ روزگار کہا جاسکتا تھا اور کہا گیا مگر اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کی تکمیل تک آتے آتے ہم، ہماری زبان اور ہمارا ادب ایسی شخصیات سے بڑی حد تک محروم ہوگیا۔ جن بزرگان ِزبان و ادب اور باقیات الصالحات کیلئے ’نابغہ ٔ روزگار‘استعمال کرنا ان الفاظ کی توقیر بڑھانے کے مترادف ہے، اُن کی تعداد اُنگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔ شمس الرحمٰن فاروقی، جو جمعہ ۲۵؍ دسمبر ۲۰ء کو سفر آخرت پر روانہ ہوئے، ایسی ہی شخصیت تھے۔ فاروقی صاحب کسی ایک میدان کے شہسوار نہیں تھے۔ اُنہوں نے فن تحقیق میں بھی شناوری کی اور تنقید بھی لکھی۔ فن افسانہ میں بھی طبع آزمائی کی اور شاعری میں بھی۔ ترجمہ بھی کیا تدوین بھی۔ ادارت کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں اور لغت نویسی کی علمی مشقت بھی اُٹھائی۔ یہی نہیں بلکہ گزشتہ صدی کے دوسرے نصف میں جب اُردو میں جدیدیت کا رجحان درآیا تو اپنے رسالے ’شب خون‘ کے ذریعہ اس کی سرپرستی کی۔ اس پرچے میں جگہ پاکر نئے شاعروں ادیبوں کی ایک پوری نسل نے اپنی شناخت کو مستحکم کیا۔ پوسٹل سروسیز میں ممتاز اور کلیدی عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود فاروقی صاحب علمی و ادبی کاموں کیلئے جتنا وقت نکالتے رہے ہوں گے اگر اُسے ترازو کے ایک پلڑے میں اور دوسرے میں اُن کی علمی و ادبی خدمات کو رکھا جائے تو دوسرا پلڑا فوراً جھک جائیگا۔ اس سے ثابت ہوا کہ وہ کم وقت میں زیادہ بلکہ بہت زیادہ کام کرتے تھے جس میں وسعت علمی بھی اُن کی معاون ہوا کرتی تھی۔ ’’شعرشور انگیز‘‘ کی چار جلدوں اور ’’لغات روزمرہ‘‘ کے چار سو سے زائد صفحات کا جائزہ لیجئے تو معلوم ہوگا کہ فاروقی صاحب،میرؔ کی زبان میں، سرسری گزرنے کے قائل نہیں تھے بلکہ ہر جا جہانِ دیگر دیکھنے پر یقین رکھتے تھے۔
ایسےادباء و شعراء کم ہی ہوتے ہیں جنہیں دیگر زبانوں پر بھی ملکہ حاصل ہو۔ فاروقی صاحب، فارسی اور انگریزی پر بھی دستگاہ رکھتے تھے۔ اپنے ضخیم ناول’’کئی چاند تھے سرآسماں‘‘ کا انگریزی ترجمہ (Mirror of Beauty)خود اُنہوں نے کیا تھا۔ ’’الفاظ‘‘ (جولائی تا ستمبر ۲۰۰۰ء) کے اداریئے کا یہ جملہ اُن کیلئے بہترین خراج تھا کہ ’’بہت زیادہ لکھنا کوئی کمال نہیں، کمال اس میں ہے کہ آپ جو لکھیں وہ انتخاب ہو اور آپ کی تحریر سے ایک سطر خارج کرنا یا اسے فضول ٹھہرانا ممکن نہ ہو۔ فاروقی صاحب کی نگارشات کا یہی وصف قابل ذکر ہے۔‘‘ویسے، مرحوم کا ایک قابل ذکر وصف یہ بھی تھا کہ کسی موضوع پر گھنٹوں اظہار خیال پر قادر تھے۔ تحریر و تقریر دونوں کا شگفتہ اور علم سے رچا بسا ہونا اور قاری و سامع کو مستفید کرنا غیر معمولی صلاحیت ہے۔ جن لوگوں نے فاروقی صاحب کو دیکھا، اُنہیں سنا، اُن کی تحریریں پڑھیں اور اُن سے گفتگو کی وہ اس کی گواہی دینگے۔ یہ وصف علم دوستی اور کتاب دوستی سے پیدا ہوتا ہے۔ فاروقی صاحب کم عمری سے کتابوں کا ذوقِ بلند رکھتے تھے، اس کا ثبوت اُن کے سوانحی مضمون سے ملتا ہے جس میں کم عمری میں بینائی کمزور ہوجانے کا انکشاف کیا گیا تھا۔
بلاشبہ، اُن کی رحلت زبان و ادب کا بڑا نقصان ہے۔ n