یہ بھی تو دیکھئے کہ مارکیٹ میں اشیاء کی مانگ کتنی ہے؟

Updated: April 05, 2021, 7:49 PM IST | Bharat Jhun Jhunwala

شرح سود میں تخفیف اچھی بات ہے مگر جب تک مارکیٹ میں مانگ یا ڈیمانڈ پیدا نہیں ہوگی تب تک ایسے اقدامات کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکے گا۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

حکومت نے ۳۱؍ مارچ کو چھوٹی بچتوں پر شرح سود میں تخفیف کا اعلان کیا مگر چند ہی گھنٹوں میں اسے واپس لے لیا۔ شرح سود میں کیا تخفیف ہوئی تھی؟ جواب یہ ہے کہ پنچ سالہ نیشنل سیونگ سرٹیفکیٹ (این ایس سی) پر سود کی شرح ۷ء۹؍ فیصد سے کم کرکے ۶ء۸؍ فیصد کردی گئی۔ اسی طرح کسان وکاس پتریکا، سینئر سٹیزن سیونگ اسکیم اور پراویڈنٹ فنڈ پر دیئے جانے والے سود میں بھی تخفیف کی گئی مگر پھر اسے بھی واپس لے لیا گیا۔  ان اسکیموں میں پیسے جمع کرانے والوں کے پاس شکایت کا کوئی موقع نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شرح سود کو اسی آہنگ کے ساتھ تبدیل ہونا چاہئے جس رفتار سے افراط زر کی شرح گھٹتی بڑھتی ہے۔ مثال کے طور پر ۲۱۔۲۰۲۰ء میں این ایس سی پر دیا جانے والا سود ۷ء۹؍ فیصد تھا جبکہ افراط زر کی شرح ۴ء۹؍ فیصد تھی۔ اس تناظر میں جو حقیقی سود کھاتے داروں کو ملا وہ ۳؍ فیصد تھا۔ حقیقی سود اس لئے کم ہے کہ جمع شدہ اصل رقم (پرنسپل اماؤنٹ) کی مالیت اسی مقدار میں کم ہوتی ہے جس مقدار میں افراط زر میں کمی واقع ہوتی ہے۔  اسے اس طرح سمجھئے کہ آپ نے فکسڈ ڈپازٹ میں گزشتہ سال ۱۰۰؍ روپے جمع کرائے تھے۔ اس کیلئے ۴ء۹؍ فیصد کی شرح سود آپ کو بتائی گئی۔ اپنی اصل رقم سے آپ گزشتہ سال اعلیٰ معیار کاایک کلو باسمتی چاول خرید سکتے تھے مگر آپ نے وہ رقم فکسڈ میں رکھ دی چنانچہ سود کے ساتھ بینک سے ۱۰۴ء۹؍ روپے ملے جس میں ۴ء۹؍ روپے سود کے ہیں۔ مگر اب اعلیٰ معیاری باسمتی چاول کی قیمت ۱۰۴ء۹؍ روپے فی کلو ہوگئی۔ معلوم ہوا کہ بینک سے آپ کو زیادہ رقم ملی (۱۰۰؍ کے بجائے ۱۰۴ء۹؍ روپے) مگر تب تک چاول کی قیمت بڑھ چکی تھی اور اب آپ کو چاول کی اتنی ہی مقدار زائد قیمت پر مل رہی ہے۔ اس مثال سے آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ کھاتے داروں کو اصل فائدہ اسی وقت ملتا ہے جب شرح سود اور شرح افراط زر میں فرق ہوتا ہے۔  اِس وقت صورت حال یہ ہے کہ شرح افراط زر ۴ء۹؍ فیصد سے گھٹ کر ۳ء۷؍ فیصد ہوگئی ہے مگر این ایس سی پر شرح سود اُتنی ہی ہے۔ کھاتے دار کو (یہاں کھاتے دار سے مراد وہ لوگ ہیں جو بچت اسکیموں میں پیسہ لگاتے ہیں) جس نے این ایس سی میں گزشتہ سال ۱۰۰؍ روپے پیسہ جمع کرائے ہیں، ۱۰۷ء۹؍ روپے ملیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے ۴ء۲؍ فیصد کا حقیقی سود ملے گا (۷ء۹؍ فیصد شرح سود اور ۳ء۷؍ فیصد شرح افراط زر)۔ گزشتہ سال حقیقی شرح سود ۳؍ فیصد ملا تھا (۷ء۹؍ فیصد شرح سود اور ۴ء۹؍ فیصد شرح افراط زر)۔ فرق دیکھئے  پچھلے سال ۳؍ فیصد اور اس سال ۴ء۲؍ فیصد۔ یہ اضافی سود کیوں ملا؟ اس لئے کہ شرح سود برقرار تھی مگر افراط زر کی شرح کم ہوگئی۔ اگر حکومت این ایس سی (نیشنل سیونگ سرٹیفکیٹ) پر ۷ء۹؍ فیصد سے کم کرکے ۶ء۸؍ فیصد پر لانے کے اپنے فیصلے اور اعلان کو نافذ کردیتی تب بھی کھاتے دار کو حقیقی سود ۳ء۱؍ فیصد ہی ملتا (۶ء۸؍ شرح سود اور ۳ء۷؍ فیصد شرح افراط زر)۔  اس پس منظر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہماری معیشت گزشتہ چھ سال میں روبہ زوال ہی رہی ہے۔ کورونا کی وباء گزشتہ سال مارچ میں پھیلنا شروع ہوئی تو حالات مزید خراب ہونے لگے۔ سمجھا جارہا تھا کہ وباء ایک دو ماہ میں ختم ہوجائے گی مگر اس نے پر پرزے پھیلائے اور اب تک بھی اس کے دفع ہونے کا امکان دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ اب دوسری لہر سے معاشی زبوں حالی میں اضافہ کا خدشہ پیدا ہورہا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک دکاندار نے دوران گفتگو بتایا کہ اس کا کاروبار اب بھی گزشتہ سال مارچ کے پہلے کے مقابلے میں ۲۵؍ فیصد کم ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ تقریباً تمام دکانداروں کا یہی حال ہے۔ مال و اسباب کی فروخت کم تو منافع کم ۔ مارکیٹ میں فروخت کا کم ہونا اس بات کا اشاریہ ہوتا ہے کہ صارفین میں اشیاء کی مانگ کم ہوگئی ہے۔ مانگ کم ہونے کا مطلب ہے پیداوار کم کیونکہ پیداوار مانگ کو دیکھ کر گھٹائی بڑھائی جاتی ہے۔  ایسے حالات میں تجارت پیشہ اور کاروبار پیشہ لوگ سرمایہ کاری نہیں کرتے بلکہ ہاتھ روک لیتے ہیں۔ چونکہ سرمایہ کاری نہیں کرتے یعنی بزنس میں مال نہیں لگاتے اس لئے وہ بینکوں سے قرض نہیں لیتے۔ وہ کاروبار کو وسیع کرنے کے بارے میں بھی نہیں سوچتے جس کیلئے اُنہیں عموماً قرض کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں بینکوں کی جانب سے صفر فیصد شرح سود پر قرض ملنے لگے تب بھی وہ قرض نہیں لینا چاہیں گے۔ جاپان جیسے ملکوں میں یہی ہورہا ہے۔ بینکوں نے شرح سود صفر فیصد کردی مگر لوگ قرض نہیں لے رہے ہیں اور معاشی ترقی رکی ہوئی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ معاشی سرگرمیاں رفتار پکڑیں تاکہ معیشت پٹری پر لوَٹ سکے۔ اس کیلئے اس نے تاجروں اور کاروباریوں کیلئے قرض لینا آسان کردیا ہے ۔ این ایس سی اور دیگر بچت اسکیموں پر شرح سود میں تخفیف صحیح سمت میں اُٹھایا جانے والا قدم تھا مگر چونکہ مارکیٹ میں ڈیمانڈ نہیں ہے اس لئے قرض نہیں لیا جارہا ہے۔  ان حالات میں ضروری ہے کہ حکومت اپنی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کو تبدیل کرے۔ صرف شرح سود میں تخفیف سے کوئی بڑا فائدہ نہیں ہوگا۔ اس سے کہیں زیادہ بہتر یہ ہے کہ عوام کو براہ راست نقدی کی ترسیل کا پروگرام بنایا جائے جیسا کہ امریکہ اور دیگر ملکوں میں کیا گیا ہے۔ لوگوں کے ہاتھوں میں پیسہ ہوگا تو ان میں قوت خرید پیدا ہوگی۔ اس کے نتیجے میں ڈیمانڈ پیدا ہوگی اور پھر معیشت کے وہ تمام تقاضے پورے ہوں گے جو ڈیمانڈ، سپلائی اور پروڈکشن سے وابستہ ہیں۔n
 (مضمون نگار، آئی آئی ایم بنگلور کے پروفیسر رہ چکے ہیں)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK