ریزرویشن کا فائدہ اور تبدیلیٔ مذہب

Updated: October 31, 2021, 9:39 AM IST | Aakar Patel | Mumbai

گزشتہ تین ہفتے سے زائد عرصہ میں این سی بی کے جواں سال زونل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڈے خبروں میں رہے۔ اُن پر عائد ہونے والے الزام سے یہ دو معاملات ایک بار پھر موضوع بحث بن گئے ہیں، یہ الگ بات کہ تبدیلیٔ مذہب کیخلاف تو گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ مہم چل رہی ہے۔

Sameer Wankhede.
سمیر وانکھیڈے

سمیر وانکھیڈے کے شیڈول کاسٹ سرٹیفکیٹ کا تنازع ہمیں دو باتوں کا جائزہ لینے کا موقع عنایت کرتا ہے۔ پہلی بات ریزرویشن اور دوسری بات مذہبی آزادی۔ جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے ہمارا قانون ہندو، سکھ اور بدھشٹ دلتوں کو شیڈول کاسٹ ریزرویشن حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے مگر یہ سہولت مسلمانوں اور عیسائیوں کو حاصل نہیں ہے۔ سابق جسٹس راجندر سچر کی سربراہی میں یو پی اے حکومت کی تشکیل کردہ کمیٹی نے شیڈول کاسٹ کے زمرے میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی شمولیت کی سفارش کی تھی مگر یہ سفارش نافذ نہیں کی گئی۔ آج مسلمانوں کے پاس کوئی ایسا فورم نہیں ہے کہ وہ  ریزرویشن کا پرزور مطالبہ کرسکیں۔ ان کی توانائی، وقت اور وسائل کا معتدبہ حصہ ناکردہ گناہی کی سزا کاٹنے والے نوجوانوں کو بے گناہ ثابت کرنے، دیگر کو بچانے اور ہجومی تشدد کے خلاف آواز بلند کرنے میں صرف ہورہا ہے۔ 
 جہاں تک شیدول ٹرائب کا معاملہ ہے، قانون میں وقعت پائی جاتی ہے چنانچہ مسلمان اور عیسائی، ایس ٹی کیٹیگری کے ریزرویشن سے مستفید ہونا چاہیں تو ایسا کرسکتے ہیں۔ او بی سی کیٹیگری کی سہولتیں بھی مذکور بالا تمام فرقوں کے لئے ہیں۔ سمیر وانکھیڈے نے مبینہ طور پر ایس سی کیٹیگری میں درخواست دی اور ملازمت حاصل کی تھی جس کا فائدہ اٹھانے والوں میں مسلمان شامل نہیں ہیں۔ سمیر کے والد دلت ہیں جبکہ ماں مسلمان۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ خود یعنی سمیر مسلمان ہیں اس لئے ایس سی کیٹیگری میں ان کی درخواست غیر قانونی ہے۔ 
 جو دلت اور ادیباسی مذہب تبدیل کرتے ہیں وہ حساسیت کے دائرہ میں آجاتے ہیں کیونکہ ان کی اسناد پر، مثال کے طور پر `عیسائی  ادیباسی‘ لکھا جاتا ہے جس کے سبب وہ ریزرویشن سمیت متعدد دیگر سہولتیں اور مراعات حاصل کرنے سے محروم ہوجاتے ہیں۔ گجرات میں چند دلت افراد نے، جو حلقہ بگوش عیسائیت ہوئے، اپنی ہندو شناخت اور ہندو طریقۂ زندگی کو باقی رکھا چنانچہ ان کی کاسٹ اور حیثیت وہی رہی جو پہلے تھی۔ یہ ایسا عمل ہے جسے چرچ کی اجازت حاصل ہوتی ہے۔ اس کیلئے ایک اصطلاح Occult Compensationاستعمال کی جاتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طریقۂ عمل کے ذریعہ کوئی فرد حکومت سے ملنے والی مراعات کے خسارہ سے بچ سکتا ہے۔ اس طرح کوئی دلت تبدیلیٔ مذہب کے باوجود سابقہ مذہب کے تحت ملنے والی مراعات کے نقصان سے خود کو بچا لیتا ہے ورنہ غیر منصفانہ طور پر ان سے محروم ہوسکتا تھا۔ گجرات کے دلتوں اور ادیباسی عیسائیوں کے خلاف بی جے پی حکومت کی کارروائیاں کبھی نہیں رُکتیں جن کا مقصد تبدیلیٔ مذہب کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہے۔ا س کی ایک مثال ملاحظہ کیجئے: 
  ۷؍ مارچ ۲۰۱۱ء کو گجرات ہائی کورٹ نے ایک دلت کی، مراعات سے متعلق عرضی خارج کردی کیونکہ حکومت کا دعویٰ تھا کہ اس نے مذہب تبدیل کیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اُس شخص، جس کا نام نمیش زویری تھا، اور اس کے اہل خانہ کو اب وہ مراعات نہیں مل سکتیں جو انہیں بحیثیت دلت ملا کرتی تھیں حالانکہ حکومت ہی نے انہیں وہ سند جاری کی تھی جس کے تحت وہ دلت تھے۔ اکثر لوگ نہیں جانتے کہ ایس سی اور ایس ٹی سے وابستہ افراد مذہب تبدیل کرتے ہیں تو انہیں غیر ایس سی اور غیر ایس ٹی لوگوں کے مقابلے میں زیادہ اور بھاری سزا بھگتنی پڑتی ہے۔  
 ۲۰۱۸ء کے بعد بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں سخت قوانین وضع کئے گئے تاکہ تبدیلیٔ مذہب کو روکا جائے بالخصوص ان لوگوں کی حوصلہ شکنی کی جائے جن کا مقصد دیگر مذاہب میں شادی کرنا ہو۔ خاندانوں کی اکثریت مذہبی رسوم وروایات کو گھر کی چار دیواری میں انجام دیتی ہے اور ایسا کبھی کبھی ہی ہوتا ہے کہ ایک ہی گھر میں الگ الگ مذاہب کے ماننے والے رہتے ہوں۔ اسیشل میریج ایکٹ کے تحت دو الگ مذاہب کے لوگ آپس میں شادی تو کرسکتے ہیں مگر ایسا کرنے کے اپنے مسائل ہیں جو سب پر ظاہر ہیں۔ 
 ’’لوَ جہاد‘‘ کے خلاف پہلا قانون اتراکھنڈ میں بنا جس کا نام تھا اتراکھنڈ آزادیٔ مذہب قانون۔ یہ اس لحاظ سے حیرت انگیز ہے کہ اس سے اُن لوگوں کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے جو ہندو مذہب قبول کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے اصل مذہب میں واپس آئے ہیں۔ آسان زبان میں اس کا یہ مفہوم ہوگا کہ اگر کوئی ہندو شادی کے مقصد سے داخل اسلام ہونا چاہے تو نہیں ہوسکتا مگر کوئی مسلم شادی کے مقصد سے ہندو مذہب قبول کرنا چاہے تو ایسا کرسکتا ہے۔ ’’اترپردیش ودھی وردھ دھرم سمپریورتن پرتی شیدھ ادھیادیش‘‘  ۲۰۲۰ء کے تحت شواہد پیش کرنے کی ذمہ داری بھی فریق کے سر پر ڈال دی گئی ہے چنانچہ اگر کوئی بالغ خاتون کہتی ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا ہے تو یہ شہادت ناکافی سمجھی جاتی ہے اور جس خاندان میں اس کی شادی ہوئی، وہاں کے لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ پولیس کو مطمئن کریں کہ اس پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا تھا۔
  اس قانون کے تحت تبدیلیٔ مذہب کے ’’مرتکب‘‘ کو ۱۰؍ سال کی سزا دی جاسکتی ہے۔ گجرات فریڈم آف ریلیجن ایکٹ ۲۰۲۱ء میں بھی ۱۰؍ سال قید کی شق ہے۔ کرناٹک اور ہریانہ سمیت کئی دیگر ریاستوں نے، جہاں بی جے پی کی حکومت ہے، اس قسم کا قانون بنانے کا عہد کیا ہے۔ جمہوری ملکوں میں ایسے قوانین کی گنجائش نہیں جنہیں ترقی پسند ہونا چاہئے مگر جو رجعت پسندانہ ہیں۔ مگر اکیسویں صدی کی دو دہائیاں گزر جانے کے باوجود ہمارے ملک میں ایسے قوانین بنے اور مزید ریاستوں میں بننے جارہے ہیں۔
 اپنے مذہب پر قائم رہنا، اس کی تبلیغ کرنا وغیرہ ہندوستانیوں کا بنیادی حق ہے۔ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے آئین کا جو مسودہ قانون ساز اسمبلی کی کمیٹیوں کو پیش کیا تھا اس میں مذہب کا علانیہ دعویٰ کرنے (Profess)، مذہب کی تبلیغ کرنے اور مذہب تبدیل کرنے کے حق کی تائید کی گئی تھی مگر آج تشہیر (Propagate) کی اجازت ہے نہ تبدیل کرنے کی۔ اگر کوئی شخص اپنا مذہب تبدیل کرنا چاہے تو اسے سرکاری اداروں میں عرض داخل کرنی ہوتی ہے تاکہ اسے بتایا جائے کہ وہ ایسا کرسکتا ہے یا نہیں۔ n 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK