یہ نہ تو صرف اداروں کے اربابِ اقتدار کی ذمہ داری ہے نہ ہی صرف اساتذہ یا صرف والدین کی۔ یہ ان سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آزادی کے بعد سے اب تک کا تجربہ کہتا ہے کہ حکومتیں تعلیم اور تعلیم گاہوں کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کرتیں۔
EPAPER
Updated: August 16, 2026, 11:32 AM IST | Mumbai
یہ نہ تو صرف اداروں کے اربابِ اقتدار کی ذمہ داری ہے نہ ہی صرف اساتذہ یا صرف والدین کی۔ یہ ان سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آزادی کے بعد سے اب تک کا تجربہ کہتا ہے کہ حکومتیں تعلیم اور تعلیم گاہوں کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کرتیں۔
گزشتہ روز پورے ملک نے یوم آزادی منایا۔ بلاشبہ آزادی نعمت ہے جس پر ہر ہندوستانی بجا طور پر فخر کرتا ہے۔ ۱۹۴۷ء سے، جب ملک آزاد ہوا تھا، اب تک تعلیم کے شعبے میں وطن عزیز کی حصولیابیاں کم نہیں ہیں۔ مثلاً اسکولوں کی تعداد میں دس گنا اضافہ ہوا ہے، شرح خواندگی آزادی کے وقت ۱۴؍ فیصد تھی جو ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق ۷۲ء۹۸؍ فیصد ہوچکی ہے۔ آزادی کے وقت تعلیم نسواں کا رواج بہت کم تھا۔ ۱۹۵۱ء میں خواتین کی شرح خواندگی ۸ء۸۶؍ فیصد تھی جو اَب ۷۴ء۶؍ فیصد ہوچکی ہے۔ موجودہ دور تک آتے آتے اسکولوں میں پڑھنے والے طلبہ کی تعداد ۲۴۷؍ ملین کے آس پاس ہے جبکہ اساتذہ کی تعداد کم و بیش ۱۰؍ ملین ہے۔ اسی طرح ملک میں اسکول کے بعد کی تعلیم کیلئے کالجوں اور پیشہ جاتی اداروں کی تعداد میں بھی حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔ مگر، یہ اور ایسے تمام اعدادوشمار سے آراستہ منظرنامہ مقدار سے عبارت ہے۔ اس سے معیار ظاہر نہیں ہوتا۔ جب ہم معیار کی بات کرتے ہیں تو ’’درس‘‘ کا معیار بھی اہمیت کا حامل ہے اور ’’درس گاہ‘‘ کا معیار بھی۔ وقت آگیا ہے کہ مرکزی و ریاستی حکومتیں، تعلیمی ادارے، تعلیم و تدریس پر مامور اساتذہ، والدین اور سماج تعلیم کو ان دو کسوٹیوں پر پرکھے اور بہتری کے امکانات پر غور کرتے ہوئے عمل اور اقدام کو راہ دے۔ عمل اور اقدام کیلئے مرکزی و ریاستی حکومتیں ذمہ دار ہیں مگر انہیں مسائل سے آگاہ کرنا، حل کی طرف راغب کرنا، رائے عامہ ہموار کرنا ازحد ضروری ہے تاکہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں عمل اور اقدام کی فکر کریں اور تعلیم کے معیار کے ساتھ ساتھ تعلیم گاہ کے معیار کو بلند کریں۔
یہ نہ تو صرف اداروں کے اربابِ اقتدار کی ذمہ داری ہے نہ ہی صرف اساتذہ یا صرف والدین کی۔ یہ ان سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آزادی کے بعد سے اب تک کا تجربہ کہتا ہے کہ حکومتیں تعلیم اور تعلیم گاہوں کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کرتیں۔ اگر انہوں نے اسکولوں، کالجوں اور تعلیم سے متعلق تمام اُمور پر توجہ دی ہوتی اور صحیح تعلیمی پالیسی مرتب کی ہوتی تو وہ سب نہ ہوتا جو حالیہ مہینوں میں طلبہ کے احتجاج کی شکل میں پورے ملک میں دیکھا گیا۔ آج عالم یہ ہے کہ جین زی ہی نہیں جین الفا بھی احتجاج کا راستہ اپنا رہی ہے۔ اب تک کئی مقامات پر جین الفا نے اسکولی انفراسٹرکچر کی خامیوں کے خلاف مظاہرہ کرکے اپنے مسائل کو اُجاگر کیا۔ اگر حکومت نے چشم پوشی کارویہ ترک نہیں کیا تو کچھ عجب نہیں کہ جین زی اور الفا کے مظاہرے شہر شہر اور قصبہ قصبہ پھیل جائیں کیونکہ انفراسٹرکچر کے مسائل عام ہیں۔
اس سے سبق لیتے ہوئے نجی اداروں کے ذمہ داروں کو بھی ہوش کے ناخن لینا چاہئے۔ اسلئے، مظاہروں کا انتظار کئے بغیر اداروں کے ذمہ داروں کو، جو آپس میں لڑ کر توانائی ضائع کرتے ہیں، طلبہ کےمفاد میں سوچیں اور وسائل نہیں ہیں تو وسائل پیدا کرنے پر غور کریں اور اگر وسائل ہیں تو ان کے بہتر استعمال کی فکر کریں۔ گزشتہ دو ڈھائی ماہ کے دوران وقت نے دیوار پر بہت کچھ لکھ دیا ہے۔ نوشتہ ٔ دیوار کو پڑھنا مرکزی و ریاستی حکومتوں کیلئے بھی ضروری ہے اور نجی اداروں کے اربابِ اقتدار کیلئے بھی۔ بہتر تعلیم اور بہتر تعلیم گاہیں طلبہ کا حق ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔