بہار انتخابات پورے ملک کیلئے مثال بن گئےہیں

Updated: November 15, 2020, 11:17 AM IST | Mubasshir Akbar

تیجسوی یادو نے جس طرح سے روزگار کے موضوع کو اٹھایا اس نے ظاہر کردیا کہ انتخاب ایسے بھی لڑا جاسکتا ہے اورمخالفین کو بھی یہ موضوع اپنانے پر مجبور کیا جاسکتا ہے

Bihar Election - Pic : PTI
بہار الیکشن ۔ تصویر : پی ٹی آئی

بہار الیکشن کے نتائج سامنے آچکے ہیں اور ان کے مطابق ایک مرتبہ پھر  بی جے پی اور جے ڈی یو کے اتحاد والے این ڈی اے کو حکومت سازی کا موقع ملا ہے۔ ہر چند کہ یہ نتائج بہت چونکانے والے اور امیدوں کے بالکل برخلاف ہیں لیکن اسے بہر حال ہمیں قبول کرنا پڑے گا۔ مہا گٹھ بندھن کی انتخابی ریلیوں میں امنڈنے والی  بھیڑ کو دیکھتے ہوئے پورے ملک میں یہ رجحان بن گیا تھا کہ اسے حکومت مخالف لہر کا بھرپور فائدہ ملنے والا ہے لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا ۔ یہ انتخابات کئی لحاظ سے چونکانے والے بھی رہے کیوں کہ امیدوں کے بالکل برخلاف آر جے ڈی کے اتحاد کو اکثریت نہیں ملی جبکہ اگزٹ پولس تک یہی بتارہے تھے کہ بہار میں اس مرتبہ مہا گٹھ بندھن کی سرکار بننے والی ہے۔ این ڈی اے میں بی جے پی پہلی مرتبہ بڑے بھائی کے رول میں آگئی اور نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو جو اب تک سب سےبڑی پارٹی ہواکرتی تھی بی جے پی کے کھیل کی وجہ سے این ڈی اے میں دوسرے نمبر پر چلی گئی ۔ حالانکہ اب بھی بی جے پی کی جانب سے یہی کہا جارہا ہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار ہی ہو ں گے لیکن وہ ان حالات میں کتنی آزادی کے ساتھ وزارت اعلیٰ سے انصاف کرسکیں گے یہ دیکھنے والی بات ہو گی۔ فی الحال تو انہوں نے بی جے پی کے کھیل کو سمجھ لیا ہے اور یہ واضح کردیا ہے کہ پاسوان کی پارٹی ایل جے پی کو اتحاد میں شامل رکھنا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ بی جے پی کو ہی کرنا ہے۔ انتخابات کے جو بھی نتائج برآمد ہوئے ہوں، ان کے دوررس اثرات ضرو مرتب ہوں گے۔ کہنے کو تو یہ اسمبلی انتخابات  تھے  اور ان کا قومی سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہار انتخابات کے نتائج کے اثرات قومی سطح پر بھی پڑیں گے اور پارٹیوں کے رویے میں آنے والی تبدیلی اس کی غماز ہے۔ 
 بہار کے دونوں اتحاد کے درمیان جس طرح سے کانٹے کا مقابلہ ہوا ا س سے ظاہر ہو گیا کہ ملک کی جمہوریت اب بھی مستحکم ہے اور عوام یہ خوب سمجھتے ہیں کہ کس پارٹی کو کیا پیغام دینا ہے۔ تبھی تو آر جے ڈی کی ریلیوں میں امنڈنے والی بھیڑ نے نتیش کماراور ان کی پارٹی کے ہوش اڑادئیے تھے۔وہ نہ صرف بہکی بہکی باتیں کرنےلگے تھےبلکہ کئی جگہوں پر اپنا آپا تک کھوتے ہوئے نظر آئے ۔ یہ صرف آرجے ڈی کی فتح کا خوف نہیں تھا بلکہ عوام کےممکنہ عتاب کا بھی اثر تھا۔ یہی وجہ رہی کہ انتخابی نتائج والے دن کبھی پلڑا اس طرف جھکتا تو کبھی اس طرف نظر آنے لگتا۔ دیر رات گئے تک بھی یہ فیصلہ بڑی مشکل سے ہوا کہ کون فاتح رہا ۔ہمیں بہار کے عوام پر اس بات کےلئے فخر کرنا چاہئے کہ انہوں نے معلق اسمبلی کے امکان کو ختم کرتے ہوئے کم از کم کسی ایک اتحاد کے حق میں ووٹ دے دیا۔  این ڈی اےکو حالانکہ معمولی اکثریت ہی ملی ہے لیکن حکومت سازی کے لئے یہ کافی ہے۔ ورنہ اگر معلق اسمبلی وجود میں آتی تو جمہوریت اور عوام کے فیصلے کا مذاق اڑاتے ہوئے جس طرح سے اراکین اسمبلی کی خریدو فروخت کا سلسلہ شروع کیا جاتا ، وہ پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی کا سبب بنتا۔ اس لحاظ سے بہار کے ووٹرس قابل مبارکباد ہیں کہ انہیں ایک مرتبہ پھر سیاسی طور پرمستحکم حکومت ملنے جارہی ہے۔  جہاں تک الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم ) پر اٹھائے جانےوالے سوالوںکا تعلق ہے تو اس سلسلے میں یہ عرض کی جاسکتی ہے کہ یہ سوالات اور شبہات صد فیصد درست ہو سکتے ہیں لیکن اس سلسلے میں ٹھوس اور ناقابل تردید ثبوت پیش کیا جانا ضروری ہے ورنہ  جب جب ای وی ایم پرسوال اٹھائے جائیں گے،سوال اٹھانےوالوں کی معتبریت اور بھی کم ہو تی چلی جائے گی۔ اپوزیشن پارٹیوں کو اس سلسلے میں مشترکہ لائحہ عمل تیار کرتے ہوئے کوئی بھی قدم اٹھانا ہو گا لیکن کیا وہ اپنے مفادات کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں ؟
 بہار کے اس الیکشن کی سب سے بڑی خوبی یہی رہی کہ یہ جذباتی، فرقہ وارانہ اور بے سر پیر کے موضوعات پر نہیں لڑے گئے بلکہ اس مرتبہ سب سے بڑا موضوع بے روزگاری اور بدعنوانی رہا ۔ اس کے لئے ہمیں آر جے ڈی کے جواں سال لیڈر تیجسوی یادو کو مبارکباد دینی پڑے گی کہ انہوں نے این ڈی اے کی جانب سے بار بار اُکسائے جانے کے باوجود کوئی غیر ضروری اور جذباتی بیان نہیں دیا بلکہ نوجوانوں کیلئے بے روزگاری کا موضوع مسلسل اٹھاتے رہے جس کی وجہ سے بی جے پی جیسی پارٹی کو بھی اسی موضوع کے ارد گرد ہی رہنا پڑا  جبکہ جے ڈی یو کےپاس تو اس موضوع کا کوئی جواب ہی نہیں تھا جس کی وجہ سے یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ بے روزگاری کا بحران ہی این ڈی اے کو لے ڈوبے گا۔ اس دوران سیلاب راحت میں ہونے والی بدعنوانی نے بھی اہم موضوع کی شکل اختیار کرلی تھی اور یہاں پر بھی این ڈی اے کے پاس عوام کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا ۔   اس کے باوجو د بے روزگاری جیسا موضوع پر پورا الیکشن مرکوز رہا اور ہر اسمبلی سیٹ پر اسی تعلق سے گفتگو جاری رہی جس سے ظاہر ہو تا ہے کہ اگر سیاسی پارٹیاں چاہیں توبنیادی موضوعات پر بھی الیکشن لڑکر جیت سکتی ہیں یا کم سے کم انہیں عوام کی بہت بڑی حمایت مل سکتی ہے لیکن ایسا ممکن نہیں ہو تا ہے کیوں کہ اگر آر جے ڈی اور کانگریس نے اس موضوع کو مسلسل اٹھایا تو بی جے پی کی جانب سے مسلسل یہی کوشش کی جاتی رہی کہ کسی طرح کوئی جذباتی موضوع اٹھایا جائے اور انتخابی منظر نامہ کو  تبدیل کردیا جائے۔ اس دوران رام مندر سے لے کر این آر سی تک کے موضوعات پر بی جے پی نےووٹ مانگے لیکن ان میں وہ  چمک بہر حال باقی نہیں تھی جس کی امید کی جارہی تھی ۔ یہی وجہ رہی کہ بی جے پی کو گھوم پھر کر اسی روزگار کے موضوع پرآنا پڑا جس سےوہ دور بھاگ رہی تھی ۔ تیجسوی  یادو  نے تن تنہا  بہار کے نوجوانوں میں جو بیداری اور جوش و ولولہ پیدا کیا ہے وہ ایک سونامی بن چکا  تھا  اور اس میں بی جے پی کا کمل  مرجھانے لگا تھا ۔ اس  لئے جہاں پہلے دورے میں تیجسوی کو پوری طرح نظرانداز کردیا گیا تھا وہیں دوسرے اور تیسرے دور میں صرف انہی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس سے واضح ہو تا ہےکہ بی جےپی صرف تیجسوی سے کتنی خوفزدہ ہے۔اور بھی بہت سے ایشوز  تھے جن کا جواب این ڈی اے کے پاس نہیں  تھااسی لیے اس کے لیڈران اور بالخصوص وزیر اعظم مودی ہوا ہوائی اڑا رہے  تھے۔ ان لوگوں کے پاس نتیش کمار کے پندرہ برسوں کی حکومت کا حساب کتاب دینے کی جرات نہیں تھی  لہٰذا وہ لالو یادو کے پندرہ برسوں کی حکومت پر سوال اٹھا رہے  تھے۔ نتیش بھی جنگل راج کا نام لے کر عوام کو ڈرا رہے تھے، مودی بھی، سشیل مودی بھی اور یوگی بھی لیکن  ان لوگوں نے نتیش کمار کے پندرہ برسوں کی حکومت پر کوئی بات نہیں کی۔
 بہار کے نوجوانوں کا یہ تبدیل شدہ رویہ اس بات کا بھی مظہر ہے کہ اب وہ مذہب کی سیاست کے دائرہ سے باہر آچکے ہیں، آرایس ایس اور بی جے پی کے لئے یہ کوئی اچھی خبر نہیں ہے، کیونکہ اب تک ان کی سیاست کا محور یہ نوجوان ہی تھے جنہیں مذہبی نعروں سے گمراہ کرکے بی جے پی اپنا سیاسی فائدہ حاصل کر رہی تھی۔وزیراعظم نریندرمودی نے اپنی انتخابی ریلیوں میں اپوزیشن کو ہی ملک کی تباہی اور بہار کی پسماندگی کے لئے ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی، بہارکے جنگل راج کا بھی مسلسل حوالہ دیا لیکن ان کی تقریر میں نہ تو پہلے جیسا جوش  تھا اور نہ ہی عوام کی طرف سے پہلے جیسی گرم جوشی کا مظاہرہ ہی دیکھنے کو ملا۔ ایسے میں یہ تمام پارٹیوں کوسمجھ لینا چاہئے کہ جذباتی نعروں اور فرقہ وارانہ ایشوزکو استعمال کرکے عوام کو بے وقوف بنانے کے دن لد گئے کیوں کہ اب وہ صرف اپنے اصل موضوعات پر کوئی بات سننا چاہتے ہیں اور ان کے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ جو پارٹی یا اتحاد ان کے مسائل کو حل کرے گا یا انہیں اس بات کا دلاسہ دے گا وہ اسی پارٹی کو حمایت دیں گے ۔ بہار میں بھی وہی ہوا ہے۔ تیجسوی یادو کی پارٹی کو سیٹیں بھلے ہی کم ملی ہیں لیکن ان کے ووٹ فیصد میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے جو یہ ظاہر کرتا  ہے کہ ریاست کے عوام کی ایک بڑی تعداد ان کی پارٹی کے ساتھ ہے اور وہ جوجو موضوعات اٹھارہے تھے انہیں اب پورا کرنا این ڈی اے کی ذمہ داری ہو جائے گی ۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو این ڈی اے پر اب یہ دہری ذمہ داری ہوگی کہ وہ اپنے ووٹروں سے کئے گئے وعدے پورے کرنے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے اٹھائے گئے اصل موضوعات پر بھی کوئی نہ کوئی  قدم اٹھائے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK