روزگار کی پیچیدہ صورتِ حال

Updated: October 01, 2022, 1:59 PM IST | Mumbai

 بے روزگاری کی، اضافہ در اضافہ، جو صورت حال پیدا ہوئی ہے اُسے بیان کرنے کیلئے ایک ہی لفظ استعمال کیا جاسکتا ہے وہ ہے خو فناک۔ ۲۰۱۹ء کے الیکشن سے پہلے ہی یہ انکشاف ہوچکا تھا کہ بے روزگاری ۴۵؍ سال کی سب سے اونچی سطح پر ہے۔

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

 بے روزگاری کی، اضافہ در اضافہ، جو صورت حال پیدا ہوئی ہے اُسے بیان کرنے کیلئے ایک ہی لفظ استعمال کیا جاسکتا ہے وہ ہے خو فناک۔ ۲۰۱۹ء کے الیکشن سے پہلے ہی یہ انکشاف ہوچکا تھا کہ بے روزگاری ۴۵؍ سال کی سب سے اونچی سطح پر ہے۔ تب حکومت نے اس کی توثیق نہیں کی تھی مگر الیکشن ہونے کے بعد اس نے وہی اعدادوشمار جاری ہونے دیئے جنہیں الیکشن کے پیش نظر روک لیا گیا تھا۔ اس کے بعد وبائی دور شروع ہوگیا۔ اُمید تھی کہ اس دور کے خاتمے کے بعد نئی اُمیدیں پیدا ہونگی مگر یہ نہ ہوا۔ ملک میں روزگار کے حصول کا مسئلہ اب بھی اُتنا ہی ٹیڑھا ہے جتنا کہ ۲۰۱۹ء میں تھا۔  اس دوران وقتاً وقتاً ایسی رپورٹیں منظر عام پر آتی رہیں جن میں بے روزگاری کے کم ہونے کا اشارہ تھا مگر زمینی حالات جوں کے توں رہے۔ وبائی دور میں زراعتی شعبے نے روزگار کی فراہمی کو بدستور یقینی بنایا مگر حیرت انگیز طور پر اتنا اہم شعبہ نئی آزمائشوں میں مبتلا رہا۔ تین سیاہ قوانین کی وجہ سے کسانوں میں بے چینی پیدا ہوئی اور وہ سڑکوں پر اُتر آئے۔ ایک سال تک ان کا احتجاج جاری رہا۔ یہ اُس شعبے یا سیکٹر کا حال ہے جو ملک میں ۱۵؍ کروڑ سے زیادہ لوگوں کو روزگار سے جوڑتا ہے۔ جون ۲۲ء کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ بے روزگاری ۷ء۸؍ فیصد ہے جبکہ زراعتی شعبہ میں روزگار کے ۱۳؍ لاکھ سے زائد مواقع ختم ہوچکے ہیں۔  مسئلہ یہ بھی ہے کہ غیر منظم زمرہ کبھی حکومت کی توجہ کا مرکز نہیں رہا۔ اس کا ذکر اس لئے آگیا کہ زراعت کا خاصا حصہ غیر منظم زمرے میں آتا ہے۔ بشمول زراعت، اس زمرے سے کم و بیش ۴۷؍ کروڑ لوگ وابستہ ہیں جو نہ تو حکومت سے روزگار طلب کرتے ہیں نہ ہی غیر سرکاری اداروں سے بلکہ اپنے ہی ہنر، جستجو اور محنت سے روزگار پیدا کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس میں شریک کرکے اُنہیں بھی روزی روٹی سے جوڑتے ہیں۔ روزگار فراہم کرنے والا اہم ادارہ انڈین ریلویز بھی ہے جو ۱۴؍ لاکھ لوگوں کو ملازمت فراہم کرتا ہے مگر اس محکمے میں بھی روزگار کے مواقع اس حد تک کم ہوچکے ہیں کہ بہت سی اسامیاں کافی عرصہ سے خالی ہیں۔ یہاں نئی بھرتیاں ہوہی نہیں رہی ہیں۔ ہندوستان نے آئی ٹی میں مہارت حاصل کی اور دیگر ملکوں کی پسند بنا۔ ہر سال لاکھوں نوجوان آئی ٹی کی ڈگری لے کر جاب مارکیٹ کا رُخ کرتے ہیں۔ چونکہ یہ آئی ٹی ہی کا دور ہے اسلئے کبھی سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ یہاں بھی مسائل پیدا ہونگے۔ کل تک جو نوکریاں بآسانی مل جاتی تھیں، اب نہیں ملتیں جبکہ وبائی دور میں آئی ٹی کا شعبہ حسب معمول سرگرم تھا۔ ایک حالیہ سروے میں بتایا گیا ہے کہ آئی ٹی سیکٹر کے بہت سے افراد جب نئے روزگار کی بابت سوچیں گے تو آئی ٹی کو فوقیت نہیں دینا چاہیں گے۔ یہ انکشاف ٹیک اسٹافنگ ادارہ ’’ٹیم لیز ڈجیٹل‘‘ نے کیا جس کی سروے رپورٹ کے مطابق آئی ٹی سیکٹر کا ایٹریشن ریٹ (ترکِ ملازمت کی شرح) ۲۵ء۲؍ فیصد ہے۔ اس قدر نئے اور پُرکشش شعبے کی یہ حالت ناقابل یقین ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ’’انڈیا آئی این سی‘‘ کے تعلق سے ایک معاصر معاشی اخبار کی رپورٹ کہتی ہے کہ صنعتی اداروں میں روزگار کی پیشکش اس قدر بڑھ گئی ہے کہ موجودہ ملازمت چھوڑ کر نئی ملازمت کی طرف لپکنے کا رجحان بڑھ رہا ہے جس سے ’’ملازمت چھوڑنے‘‘ کی روِش کمپنیوں کے بورڈ رومس میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ اگر ایسا ہے تو روزگار کے اُفق پر کچھ تو روشن لکیریں دکھائی دینی چاہئیں! 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK