شہریت ترمیمی قانون سے پیدا ہونےوالی الجھنیں

Updated: February 02, 2020, 3:35 PM IST | AbdulBari Momin

سی اے اے کے سبب صرف دستوری اقدارمثلاً سیکولرازم اور آزادیٔ مذہب ہی کی نفی نہیں ہوتی بلکہ یہ قانون عدم تفریق اور مساویانہ تحفظ کے حقوق کی بھی نفی کرتا ہے۔ اس سے ایک بڑا خدشہ یہ ہے کہ شہریت حاصل کرنے کی غرض سے کچھ لوگ اپنا مذہب تبدیل کرلیں اور ان مذاہب میں سے کسی ایک میں خود کو شامل کرلیںجن کو شہریت دی جارہی ہے

شہریت ترمیمی قانون سے پیدا ہونےوالی الجھنیں
شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کیخلاف احتجاج جاری ہے

بائیس جنوری ۲۰۲۰ء سے سپریم کورٹ نے ایسی ۱۴۰؍ سے زیادہ عذر داریوں کی سماعت شروع کردی ہے جن میں سی اے اے کو چیلنج کیا گیا ہے ۔فیضان مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ خود سپریم کورٹ ہی موجودہ الجھنوں کی ذمہ دار ہے؟ 
  ۱۹۸۳ء میں اندرا گاندھی نے آسام سے تعلق رکھنے والے خصوصی ’غیر قانونی مہاجرین کا تعین بذریعہ ٹریبونَل‘ قانون یعنی’آئی ایم ڈی ٹی ایکٹ‘ نافذ کیا تھا۔ اس کا مقصد تو اس کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ تھا کہ ایک ٹریبونل کے ذریعے آسام میں بنگلہ دیش سے آنے والے غیر قانونی  مہاجرین کا تعین کیا جاسکے اور ان کو آسام سے نکال کربنگلہ دیش بھیج دیا جائے لیکن بین السطور میںاس کی اصل بنیاد یہ تھی کہ آسام میںجاری ایجی ٹیشن کے سبب غیر ضروری ہراسانی سے اقلیتوں کا تحفظ کیا جاسکے۔ یہ صر ف آسام کیلئے ہی تھا۔ ورنہ ملک کے دیگر علاقوں میں تو یہ کام یعنی غیر قانونی مہاجرین کی شناخت کا کام ۱۹۴۶ء کے غیر ملکیوں کے ٹریبونل کے ذریعہ کیا ہی جارہا تھا۔آئی ایم ڈی ٹی ایکٹ کو سربا نند سونووال نے چیلنج کیا۔ عدالت نے محسوس کیا کہ اس قانون کے ذریعہ مشکل سے صرف نصف فیصد غیر قانونی مہاجر ہی پکڑے جا رہے ہیں۔چنانچہ ۲۰۰۵ء کے سربا نند سونووال فیصلے کے ذریعے عدالت عظمیٰ نے آئی ایم ڈی ٹی ایکٹ کو منسوخ کر دیا ۔ اسی موقع پر غیر قانونی مہاجرین کی بحث نے زور پکڑا تھا۔ فیضان مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ عدالت کے  مشاہدات دیگر ممالک کے تعلق سے چند اندیشوں کے اظہار اور بیرونی ممالک کے افراد کے تعلق سے کچھ مبالغہ آرائی پر مبنی تھے ۔  
 موجودہ صورت حال میں اگر سی اے اے کو قانونی قرار دیا جاتا ہے توآسام این آر سی کے تحت مسلمانوں کوچھوڑ کر دیگر غیر ملکی قرار دیئے گئے افراد ہندوستان کے قانونی شہری بن جائیں گے۔ ۲۰۰۵ء کے سونو وال فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے آ سام کے جس قانون یعنی آئی ایم ڈی ٹی   کو منسوخ کردیا تھااس کے تحت شہریت کے ثبوت کا بار غیر ملکی قرار دیئے گئے افراد پر نہیں بلکہ ریاست پر ڈالا گیا تھا۔ کسی ثبوت کے بغیر ہی عدالت نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش سے آنے والے مہاجروں کے سبب ریاست آسام کے ڈیمو گرافک پیٹرن میں بڑی تبدیلی آجائے گی اور آسام کے باشندے خود اپنی ریاست میں اقلیت میں آجائیں گے۔ حالانکہ بعد میںخود عدالت عظمیٰ کی نگرانی میں کئے گئے این آر سی کے عمل کے نتائج نے اس مبالغہ آرائی کی تردید کردی۔ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ سب کے سب یعنی ۱۹؍ لاکھ افراد غیرقانونی مہاجر ہیں تب بھی یہ تعداد آسام کی آبادی کا صرف ۴؍ فیصد ہوتی ہےجبکہآئی ایم ڈی ٹی ایکٹ کے تحت تویہ تعداد صرف نصف فیصد ہوئی تھی۔ فیضان مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ سی اے اے بھی اسی آئی ایم ڈی ٹی ایکٹ کی طرح غیر دستوری ہے جسے عدالت نے کالعدم قراردیا تھا۔ سی اے اے کا نفاذ بھی چند مخصوص علاقوں پر ہوگا کیوں کہ چند شمال مشرقی ریاستوں کو اس سے مستثنیٰ قراردیا گیا ہے۔آئی ایم ڈی ٹی ایکٹ کے تحت بھی آسام اور دیگر ریاستوںکیلئے شہریت کے الگ الگ نظم بنائے گئے تھے۔ عدالت نے سونووال فیصلے میں یہ بات کہی تھی کہ جغرافیائی بنیادوں پر طے کئے گئے الگ الگ طرح کے نظم اسی وقت قابل قبول ہوسکتے ہیںجب یہ نظم بنیادی قانون کے مقاصد کے ساتھ معقول ربط رکھتا ہو۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ آئی ایم ڈی ٹی ایکٹکا اصل مقصد یعنی غیرقانونی ہجرت کو روکنا، اس بات سے حاصل نہیں ہوتا کہ اس طرح کے نظم کو صرف آسام تک محدود کردیا جائے، اسلئے یہ دستور کی دفعہ ۱۴؍ کے خلاف ہے۔بالکل اسی طرح سی اے اے کے تعلق سے بھی یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ جغرافیائی بنیادوں پر تفریق کرنا یعنی آئی ایل پی (Inner Line Permit)ریاستوں یا علاقوں یا کسی اور ریاست کوسی اے اے سے مستثنیٰ قرار دینا، اس قانون کے وسیع ترمقصد یعنی’ ستم زدہ افراد کی مدد‘کی تکمیل نہیں کرتا۔ اسلئے اس نکتہ کے مطابق، سی اے اے کو سونووال فیصلے میں طے کئے گئے معیارکے مطابق نہیںقرار دیا جاسکتا۔ 
 اُس وقت عدالت نے یہ بات بھی کہی تھی کہ بغیر اجازت داخل ہونے والے غیر قانونی مہاجرین، جو  ہندوستان میں رہنے کے حقدار نہیں ہیں، ان کی شناخت کے معاملے میں آئی ایم ڈی ٹی ایکٹ بہ نسبت ،غیر ملکی افراد کا قانون یعنی ’فارینرس ایکٹ‘ زیادہ موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا  ہے کہ غیر ملکیوں کا قانون غیر ملکیوں سے متعلق ہے نہ کہ ان لوگوں سے جن کے نام این آر سی میں صرف اسلئے شامل نہ ہو سکے کہ ان کے پاس دستاویز نہیں ہے ۔ مثال کے طور پر آسام این آر سی میں شامل نہ ہونے والے بہت سے ایسے افراد بھی قانونی شہری ہوسکتے ہیں جن کے پاس دستاویزات نہیں ہیں۔ایسے افراد کیلئے ایک الگ سٹی زن شپ ٹریبونل بنانا  چاہئے اور ان کو ملک سے باہر نکالنے کیلئے ان کی شہریت کی منسوخی کے ثبوت کا بار ریاست پر ڈالنا چاہئے۔ شہریت (جوحق الحقوق ہے) ایک ایسے پروسیس کے ذریعے طے کی جانی چاہئے جو معروف اور مناسب،  مبنی بر انصاف اور معقول ہو نہ کہ اسے محض من مانے طریقے سے لاد دیا گیا ہو۔ فیضان مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوںکا ٹریبونل تو اس وقت بس ایک کنگارو عدالت بن کر رہ گیا ہے۔(کنگارو عدالت یعنی جہاں بغیر ثبوتوں کے من مانے طریقے سے فیصلے کئے جاتے ہیں)۔
 یہاںیہ بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دنیابھر میں رائج شہریت طے کرنے کے چند طریقوں کا جائزہ لیا جائے۔ایک طریقہ تو ہے شہریت بذریعہ پیدائش یعنی جو جہاں پیدا ہوا ہے وہ وہاں کا شہری ہے۔ اس طرح یہ طریقہ ان تمام لوگوں کو شہری تسلیم کرتا ہے جو اس ملک کی شناخت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس دوسرا طریقہ ہے نسل یا وراثت بمعنی ثقافت ہے۔ یہ طریقہ صرف نسل یا ثقافت کو شہریت کی بنیاد تسلیم کرتا ہے۔ صرف ایک مخصوص نسل یا ثقافت سے جڑے ہوئے لوگ ہی وہاں کے شہری مانے جاتے ہیں، باقی لوگ غیر ملکی۔ نوآبادیاتی حکمرانوں کے دور کے بعد کے ممالک میں اس طرح کے شہری قانون کے ذریعے پوری پوری آبادی کو غیر ملکی قرار دے کر ان کو تمام شہری حقوق سے محروم کردیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پڑوسی ممالک میںمہاجروں کی آمد کا ایک مستقل سلسلہ شروع ہوگیا۔جیسا کہ میانمار میں ۱۹۸۲ء کے شہریت قانون کے تحت صرف ثقافت اور چند چنندہ نسلوںکو شہریت کی بنیاد قرار دیا گیا ۔ اسی بنا پر روہنگیا  افراد کو غیر ملکی قرار دے کر ان کو ملک سے باہر دھکیل دیا گیا۔ نسل اور ثقافت کی بنیاد پر بنایا گیا قانون صرف ماضی کی چند روایات کو من مانے طریقے سے قبول کرتا ہے جبکہ پیدائش کی بنیاد پر بنایا گیا شہریت کاقانون مستقبل پر نظر رکھتا ہے۔اس سے ایک مشترکہ اجتماعی سماج وجود میں آتا ہے جو کرہ ارض پرعالمی امن و سلامتی کا ضامن ہوتا ہے۔ 
 دستور تشکیل دیتے وقت دستور ساز اسمبلی کے معزز اراکین نے نہایت غور و فکرکے بعد ہی اپنے خوابوں کا  ہندوستان بنایا ہے۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل جو آج کل وزیر اعظم مودی کیلئے نمونہ بنے ہوئے ہیں، انہوں نے نسل کی بنیاد پر شہریت کو سختی سے ردّکردیاتھا۔ ان کے علاوہ دیگر اراکین اسمبلی کے زرّین خیالات کا عکس ہمیں ۱۹۵۵ء کے   شہریت کے قانون میں بھی صاف طور سے نظر آتا ہے، جس میں شہریت کی بنیاد پیدائش پر رکھی گئی ہےلیکن ۱۹۸۷ء میں آسامی قوم پرستی کے دبائو میںجب اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے آسام اکورڈ (معاہدے) پر دستخط کئے تو گویا  ہندوستان کے قانونِ شہریت کووراثت ا ور نسل پر مبنی قانون کی حیثیت سے تسلیم کرلیا گیا۔اس معاہدے کے ذریعہ شہریت کے متعدد فریم ورک تخلیق کرلئے گئے۔ ان میں سے ایک  فریم ورک ایسا تھا جس کے ذریعے والدین کی شہریت اور ہندوستان میں ہجرت کے وقت کواس(فریم ورک) کی بنیاد بنادیا گیا۔ شہریت قانون کی دفعہ (۶۔اے)  جو آسام معاہدہ کا پرتوَ ہے فی الحال سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کی ایک بنچ کے سامنے زیرِ سماعت ہے۔بہتر تو یہ ہوتا کہ عدالت، آسام معاہدہ اور سونووال فیصلے سے قبل  دفعہ ۶۔اے کے بارے  میں فیصلہ سناتی کیونکہ آسام معاہدہ اور سونووال فیصلے کی بنیاد ہی پرسپریم کورٹ کی ہدایت کے تحت آسام این آر سی کی زمین تیار کی گئی۔ اب آج جبکہ سی اے اے نافذ کرکے این آر سی سے نکالے گئے مہاجروں کو مذہب کی بنیاد پر شہریت دیئے جانے کا منصوبہ ہے اگر سپریم کورٹ سی اے اے کو جائز قرار دیتی ہے تو پھر وہی بات دُہرائی جائے گی۔ آسام کے و زیر اعلیٰ سربا نند سونووال نے بھی این آرسی کی آخری فہرست پر شک و شبہ کا اظہار کیا ہے ، حالانکہ وہ خود  ۲۰۰۵ء کے مقدمہ کے ایک فریق تھے۔ آج وہ آسام کے شہریوں کو یہ یقین دلارہے ہیں کہ ان کی زبان اور تہذیب بالکل محفوظ رہے گی۔ دوسری طرف وہ ۱۹؍ لاکھ افراد جن کے نام این آر سی کی فہرست میں شامل نہیں ہیںان میں سے کسی کو بھی یہ حکم جاری نہیں کیا گیا ہے کہ وہ غیر ملکیوں کے ٹریبونل میں اپیل کریں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے بھی آسام میںاین آر سی کی تکمیل ہو جانے کے بعد ابھی تک کوئی بات نہیں کی ہے۔ یہ بات تو قریب قریب یقینی تھی کہ آسام معاہدے میں عمومی طور سے بنگالیوں اور خصوصی طور سے مسلمانوں پر نشانہ سادھنے کی کوشش کی گئی تھی۔ سی اے اے کی بنا پر اب یہ بات مزید واضح ہوگئی ہے کہ صرف ان مخصوص مذاہب والوں ہی کو شہریت دی جائے گی جوایک مقررہ تاریخ سے قبل تین ممالک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ستم زدہ ہوکر آنے کا دعویٰ کریں گے۔ مسلمانوں کو اس میں شامل نہ کرنا تو بالکل ظاہر ہے، چاہے وہ ستم ز دہ ہوکر ہی کیوں نہ آئے ہوں۔ اس صورت میں اس بات کا خدشہ ہے کہ سی اے اے کے دبائو میں شہریت حاصل کرنے کی غرض سے کچھ لوگ اپنا مذہب تبدیل کرلیں اور ان مذاہب میں سے کسی ایک میں اپنے آپ کو شامل کرلیںجن کو شہریت دی جارہی ہے۔وہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ ان ممالک میں ہمیں بہت ستایا گیا تھا اسلئے ہم نے اپنے نام مسلمانوں جیسے رکھ لئے تھے۔
 سی اے اے کے سبب صرف دستوری اقدارمثلاً سیکولرازم اور آزادی مذہب ہی کی نفی نہیں ہوتی بلکہ یہ قانون عدم تفریق اور مساویانہ تحفظ کے حقوق کی بھی نفی کرتا ہے۔ اگر سی اے اے  ’واسو دیوا  کُٹُمب کَم‘ (یعنی ساری دنیا ایک خاندان ہے) کی روح کے تحفظ کا دعویٰ کرتا ہے تو پھر حکومت ایک وسیع تر اور ہمہ گیر مہاجر قانون کیوں نہیں نافذ کرتی جوایک معروضی (غیر متعصب)اور مبنی بَر انصاف طریقہ کار کے ذریعہ ستم زدگی کا تعین کرے اور اس کے تحت آنے والے تمام مہاجروں کو پناہ دے۔سی اے اے کا قانون تو پناہ گزینی اور شہریت کو ایک دوسرے سے متصادم ٹھہرا رہا ہے اور اس کے ذریعہ ایک مخصوص مذہب کے ستم گزیدہ افراد کو ڈھال بنا کرمتعصبانہ سیاست کی دکان چمکا نے کا سامان کررہاہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK