Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسلمانوں میں تعلیمی انقلاب اور سرسید

Updated: October 17, 2023, 12:59 PM IST | Ehsanur Rahman | Mumbai

سرسید احمد خاں چاہتے تھے کہ مسلمان جوش ، جذبات اور لاحاصل سیاست نیز حکومت سے ٹکراؤ کی پالیسی کو ترک کرکے تعمیری سوچ پیدا کریں اور مستقبل کیلئے ایک منظم لائحہ عمل ترتیب دیں۔

Syed Ahmad Khan. Photo: INN
سید احمد خان۔ تصویر:آئی این این

ابتدائے زمانے سے آج تک ہر زمانے میں جب جب فساد فی الارض برپا ہوا یا انسانی سماج میں جس خطہ ارض پر برائیوں کو دور دورہ ہوا یا سماج یا قوم تنزلی کا شکار ہوئی تب تب اس کی اصلاح،فلاح و بہبودی کیلئے انبیائے کرام تشریف لائے یا مختلف قسم کی تحریکیں عمل میں لائی گئیں۔
سرسید نے بھی ایسے ہی تنزل کے دور میں آنکھیں کھولیں جب مسلمانوں کے ہاتھوں سےاقتدار کی باگ ڈور انگریزوں کے ہاتھوں میں جا چکی تھی۔۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے مسلمانوں کی رہی سہی حیثیت بھی ختم ہوگئی۔ بغاوت کے جرم میں پوری مسلم قوم کو نا قابل تصورظلم و ستم کا تختہ مشق بنایا گیاجس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کا ملی وجود پارہ پارہ ہوگیا۔سرسید نے مسلمانوں کی زبوں حالی کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے ’’اگر ہماری قوم میں صرف جہالت ہوتی چنداں مشکل نہ تھی، مشکل تو یہ ہے کہ قوم، قوم جہل مرکب میں مبتلا ہے۔جدید علوم جن کا رواج ہماری قوم میں تھا وہ کار آمد نہیں ۔ علم و ادب اور انشاءکی خوبی صرف لفظوں کو جمع کرنے اور ہم وزن کلاموں کو ملانے اور مبالغہ آمیز باتوں کے لکھنے پر منحصر ہے۔‘‘
 سر سید کے سامنے سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو اس ذلت سے کیسےنکالا جائے؟ بہت غور و فکر اور تدبر کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اس ذلت اور رسوائی کا علاج صرف اور صرف تعلیم ہی ہے اور وہ بھی جدید تعلیم۔ یہ ساری آفتیں ،مصیبتیں اور پسماندگی اور محرومی جدید تعلیم سے ناواقفیت کی وجہ سے ہے۔ہندوستانی مسلمان ترقی کی جدید راہوں سے دور ہیں ۔ جدید تعلیم سے ہم آہنگ ہو کر ہی قوم میں اعتماد اور مقابلہ آرائی کے رجحان کو پروان چڑھایا جاسکتا ہے۔اُس دور کے مسلمانوں کو انگریزی تعلیم اور جدیدعلوم سے نفرت تھی۔ مسلمان سمجھتے تھے جدید تعلیم اور سائنس انھیں مذہب سے منحرف کرنے اور عیسائی بنانے کی ترغیب ہے۔جب سر سید نے مسلمانوں کو جدید تعلیم کا تصور دیا تو ہر طرف سے مخالفت کا ایک طوفان برپا ہوگیا لیکن ساری مخالفتوں کے باوجود سرسید نے ہمت نہیں ہاری۔ ۱۸۶۲ء میں انہوں نے غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی کی بنیاد ڈالی جس کا مقصد مغربی علوم کی علمی،ادبی،تہذیبی اور سائنسی کتابوں کا ترجمہ کرکے اس سرمایہ سے ملت کو فائدہ پہنچانا تھا۔ مسلمانوں میں تعلیم عام کرنے کی غرض سے اور نئی نسل کی ذہنی تربیت کیلئے انہوں نے ۱۸۷۵ء میں علی گڑھ میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کی بنیاد رکھی جو آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام سے مشہور ہے اور بر صغیر کی نامور یونیورسٹیوں میں شمار کی جاتی ہے۔مسلمانوں کی سماجی مذہبی اور تعلیمی اصلاح کی غرض سے انہوں نےرسالہ تہذیب الاخلاق جاری کیا جس کے ذریعے انہوں نے قوم کے زاویہ فکر کو صحیح سمت دینے اور اور شعوری بیداری کا کام انجام دیا۔ سرسید کی دلی خواہش تھی کہ ہندوستان کے ہر ضلع میں کم سے کم ایک مدرسہ ہونا چاہئے جو مسلمانوں کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرسکے۔ اس سلسلے میں مولانا الطاف حسین حالی نے اپنے مضمون میں لکھاہے کہ ’’سرسید کی یہ تمنا ہے کہ مسلمانوں کے حسن اخلاق سے ہر ضلع میں کم از کم ایک ایسا مدرسہ قائم ہو جس میں علوم قدیمی کے ساتھ ساتھ فنون جدیدہ کی تعلیم بھی ممکن ہو۔‘‘
 سرسید نہ صرف گفتار کے غازی تھے بلکہ انہوں نے قلم سے بھی جہاد کیا اور میدان عمل میں طبع آزمائی کی۔ رسالہ تہذیب الاخلاق کے ذریعے قوم کو جدید علوم سے روشناس کرایا تو اسباب بغاوت ہند سے انگریزوں اور مسلمانوں کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کی۔ غیروں کے عدم تعاون اور اپنوں کے طعنوں کے زخم بھی اٹھائے لیکن جدوجہد سے منہ نہ موڑا۔ سرسید چاہتے تھے کہ مسلمان جوش و جذبہ اور لاحاصل سیاست نیز حکومت سے ٹکراؤ کی پالیسی کو ترک کرکے تعمیری سوچ پیدا کریں اور مستقبل کیلئے ایک منظم لائحہ عمل ترتیب دیں ۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ’’حکومت سے حقوق طلب کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ ہم اپنے تئیں ان حقوق کے مستحق بنیں اور یہ سب اعلیٰ تعلیم سے ہی حاصل ہوگا۔‘‘
سرسید چاہتے تھے کہ اس ملک میں مسلمانوں کا وقار بلند ہو۔ وہ عزت نفس کے ساتھ جئیں ۔ماضی کا وقار دوبارہ بحال ہو۔ اسلئے وہ ساری عمر مذہبی تعلیم کے ساتھ ہی جدید تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دیتے رہے۔ ان کا تعلیمی تصور یہ تھا کہ مسلمانوں کے دائیں ہاتھ میں قران ہو ،بائیں ہاتھ میں سائنس اور پیشانی پر کلمہ طیبہ لاالہ الااللہ ہو۔سرسید مسلمانوں کو زندگی کے تمام شعبوں میں ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ قوم کے نوجوانوں میں جدید تعلیمی رجحان، تحقیقی مزاج اور سائنسی فکر پیدا کرنا چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مسلمانوں نے اگر جدید دور کے تقاضوں کو نہیں سمجھا اور مذہبی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کو نہیں اپنایا تو وہ زندگی کی دوڑ میں دوسری قوموں پچھڑجائیں گے اور ترقی یافتہ بننا ان کیلئےمحض ایک خواب بن کر رہ جاے گا۔ سرسید پختہ یقین رکھتے تھے کہ جب تک مسلمان قدیم اور فرسودہ علوم سے دست بردار ہوکر جدید اور مغربی علوم کی تحصیل کی طرف مائل نہ ہوں گے،ان کی ترقی و فلاح و بہبودی ممکن نہیں ہے۔ایک جگہ فرماتے ہیں ’’تعلیم چند کتابوں کے پڑھنے کا نام نہیں بلکہ تعلیم نام ہے ذہن انسانی کے اندر پوشیدہ کمالات کے اظہار اور عمل و اخلاق کی اصلاح و تہذیب کا۔اگر تعلیم سے یہ نتائج نہ ہوں تو صحیح معنوں میں تعلیم کا اطلاق نہیں ہوگا۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK