Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی پی ایل ۲۰۲۶ء:چنئی سپر کنگز کی نظریں پلے آف پر

Updated: May 14, 2026, 7:02 PM IST | Chennai

سیزن کے آغاز میں شکست کا سامنا کرنے کے بعد اچانک پلے آف میں جگہ بنانے کے سب سے مضبوط دعویداروں میں سے ایک بننے والی چنئی سپر کنگز نے اپنی مہم کو کافی بدل دیا ہے۔

Sarfaraz Khan.Photo:X
سرفرازخان۔ تصویر:ایکس

سیزن کے آغاز میں شکست کا سامنا کرنے کے بعد اچانک پلے آف میں جگہ بنانے کے سب سے مضبوط دعویداروں میں سے ایک بننے والی چنئی سپر کنگز نے اپنی مہم کو کافی بدل دیا ہے۔چنئی کے لیے مشن واضح ہے، جیت کا سلسلہ برقرار رکھنا اور ٹاپ ۴؍میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنا۔ لکھنؤ، جو ایک اتار چڑھاؤ کے بعد پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکی ہے، کے لئے باقی میچ عزت بچانے اور دوسروں کے خوابوں کو توڑنے کا آخری موقع ہے۔ 
اس سیزن میں سی ایس کے سے زیادہ تیزی سے  قسمت بدلنے والی کچھ ہی ٹیموں نے دیکھا ہے۔ چنئی فرنچائز نے اپنی مہم کا آغاز لگاتار تین شکست کے ساتھ کیا، جس سے ٹیم کے توازن پر سوالات اٹھے اور تجربہ کار کھلاڑی ایم ایس دھونی کے علاوہ کافی کھلاڑیوں کی فکر بھی ہوئی، جو اس سیزن میں نہیں کھیلے ہیں۔ لیکن شکست ماننے کے بجائے، سی ایس کے نے منظم بولنگ، بے خوف بیٹنگ اور نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت سے خود کو دوبارہ مضبوط کیا۔ 


کپتان رتوراج گائیکواڑ کی قیادت میں چنئی نے اپنے گزشتہ آٹھ میں سے چھ میچ جیتے ہیں اور مسلسل تین جیت کے ساتھ لکھنؤ پہنچی ہے۔ اس شاندار واپسی میں سنجو سیمسن کی شاندار کارکردگی اہم رہی، جنہوں نے ۱۱؍ اننگز میں ۱۶۹؍ سے زائد اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ ۴۳۰؍ رنز بنائے اور دو سنچریوں کے ساتھ ٹیم کی بیٹنگ کو مضبوط بنایا۔ 
ایک اور بڑا سہارا  وکٹ کیپر بلے باز ارویل پٹیل سے ملا ہے، جنہوں نے سیزن کا پہلا ہاف بنچ پر گزارا، لیکن فوری اثر دکھایا۔ ایل ایس جی کے خلاف ریورس میچ میں صرف ۲۳؍ گیندوں پر ۶۵؍ رنز کی اننگز نے سی ایس کے کی واپسی کے دوران اپنائے گئے ان کی اٹیکنگ ایپروچ کو دکھایا۔بولنگ میں بھی ٹیم نے متاثر کیا ہے۔ ہریانہ کے تیز گیندباز انشُل کمبوج ۱۹؍ وکٹوں کے ساتھ ابھرے ہیں، جبکہ انگلینڈ کے آل راؤنڈر جیمی اوورٹن نے ۱۴؍ وکٹ لے کر ٹیم کو استحکام دیا ہے۔ افغان اسپنر نور احمد اور کیریبین لیفٹ آرم اسپنر عقیل حسین نے درمیانی اوورز میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:آئی پی ایل میں ۹؍ویں سنچری کے ساتھ وراٹ کوہلی نے کئی ریکارڈزبنائے


دوسری جانب لکھنؤ کا سیزن مایوس کن رہا ہے۔ ٹیم میں رشبھ پنت، نکولس پورن اور مچل مارش جیسے بڑے نام ہونے کے باوجود کارکردگی میں تسلسل نہیں رہا۔ مسلسل چھ شکستوں نے ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔  گزشتہ سیزن میں آرسی بی کے خلاچ سنچری کے ساتھ ختم کرنے کے بعد پنت سے بیٹنگ کی کمان سنبھالنے کی امید تھی، لیکن وہ مستقل مزاجی کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ پوران بھی ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں، جب کہ مارش کو اکثر سپورٹ کی کمی محسوس ہوتی ہے، اگرچہ وہ ٹیم کے سب سے زیادہ ۳۳۷؍ رن بنانے والے کھلاڑی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:شاہد کپور کی ورون دھون کی’’نو انٹری ۲‘‘ میں انٹری؟


اس کے باوجود لکھنؤ میں اب بھی اتنی انفرادی صلاحیت موجود ہے کہ وہ کسی بھی اپوزیشن کو پریشان کر سکے۔ آسٹریلیائی اوپنر جوش انگلس نے گزشتہ میچ میں سی ایس کے خلاف ۳۳؍ گیندوں پر ۸۵؍ رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی اور نوجوان تیز گیندباز پرنس یادواس سیزن میں ۱۶؍ وکٹوں کے ساتھ ٹیم کے سب سے قابل اعتماد کھلاڑیوں میں سے ایک بن گئے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK